اکادمی ادبیات کے زیر اہتمام مذاکرہ اور مشاعرہ کا انعقاد

اکادمی ادبیات کے زیر اہتمام مذاکرہ اور مشاعرہ کا انعقاد

  



کراچی (اسٹاف رپورٹر) اکادمی ادبیات پاکستان کے زیراہتمام ستر سالہ جشن آزادی کے حوالے سے مذاکرہ اور مشاعرہ کا انعقاد کیا گیا جس کا عنوان تھا ’’فروغ امن میں اہل قلم کا کردار‘‘ جس کی صدارت ڈاکٹر جمال نقوی نے کی۔ مہمان خاص زیب النساء زیبی اور مہمان اعزاز عین سحر میمن تھیں۔ اس موقع پر پروفیسر سحر انصاری نے سات دھائیوں میں فروغ امن میں اہل قلم کا کردار کے حوالے سے اپنے پیغام میں کہا کہ ہمارے صوفی بزرگ شعراء تمام مذاہب کے مابین اتحاد اور رواداری کیا پیغام دیتے رہے ہیں، اس طرح تمام باشعور اور باضمیر ادیب امن اور سچ کے پیغام پہنچاتے رہے ہیں۔ ڈاکٹر جمال نقوی نے کہا کہ میر گل خان نصیر بلوچی زبان کے وہ پہلے انقلابی شاعر تھے جنہوں نے اپنے قلم سے اس کا رشتہ اس شاندار ترقی پسند تحریک سے جوڑ دیا جو حقوق انسانی اور امن و محبت کی بات کرتی ہے۔ ماسکو میں بین الاقوامی لینن امن ایوارڈ کی پرشکوہ تقریب کے موقع پر فیض نے اپنی تقریر میں کہا کہ امن اور آزادی بہت حسین اور تابناک چیزیں اور یہ سب ہی تصور کرسکتے ہیں کہ امن گندم کے کھیت ہیں اور سفیدے کے درخت، دلہن کا آنچل ہے اور بچوں کے ہنستے ہوئے ہاتھ، شاعر کا قلم ہے اور مصور کا موئے قلم اور آزادی ان سب صفات کی ضامن اور غلامی ان سب حوبیوں کی قاتل ہے جو انسان اور حیوان میں تمیز کرتی ہے۔ یعنی شعور اور ذہانت، انصاف اور صداقت، وقار اور شجاعت، نیکی اور رواداری، اس لیے بظاہر امن اور آزادی کے حصول اور تکمیل کے متعلق ہوش مند انسانوں میں اختلاف کی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔ اس موقع پر مہمان خاص زیب النساء زیبی نے کہا کہ تاریخ ادب گواہ ہے کہ اہل قلم کی طاقت ہی ہے قوموں کی تقدیر بلدتی ہے۔ مولانا ظفر علی خان، سرسید احمد خان، الطاف حسین حالی، مولانا محمد علی جوہر، حسرت موہانی ، جوش ملیح آبادی ، مولوی عبدالحق،، علی سردار جعفری، رابندر ناتھ ٹیگور، منشی پریم چند، فیض احمد فیض، جالب، احمد ندیم قاسمی، شاہ عبدالطیف بھٹائی، بلے شاہ، شیخ ایاز، سچل سرمست، جمال ابڑو، عبداﷲ حسین، اسرار الحق جاز، مخدوم محی الدین سامی، بیکس بیدل، سوبھو گیان چندانی، عصمت چغتائی، ساحر، منٹو، ہاجرہ مسرور خدیجہ مستور، قرۃ العین حیدر اور بے شمار شعراء اور ادباء ایسے ہیں جنہوں نے اپنے قلم کی طاقت سے سماج میں امن و امان ، بھائی چارگی، محبت، انسانیت، سچ و حق، عدل و انصاف کا پرچار کیا۔ اس موقع پر قادر بخش سومرو نے کہا کہ فروغ امن میں اہل قلم کا کردار واضع اور سچا ہے جس کی بنیاد پر ہی پاکستان اپنے پاؤں پر کھڑا ہے اور ترقی طرف رواں دواں ہے جس کیلئے پاکستان کے تمام موجودہ اہل قلم اور مرحومین اہل قلم کا امن کا پیغام قابل فخر ہے۔ اس موقع پر ڈاکٹر جمال نقوی ، عین سحر میمن، زیب النساء زیبی، سرور خان سرور، عظیم حیدر سید، عرفان علی عابدی، فہمیدہ مقبول، زینت کوثر لاکھانی، سیما عباسی، سید اوسط علی جعفری، نجیب عمر، الحاج یوسف اسماعیل ، قمر جہاں، زارا صنم ودیگر شعراء نے اپنے کلام سنائے۔

مزید : کراچی صفحہ آخر