’’نہ منزل نہ رہنما‘‘ ایم کیو ایم کا باب مکمل طورپربند

’’نہ منزل نہ رہنما‘‘ ایم کیو ایم کا باب مکمل طورپربند

  



(تجزیہ:کامران چوہان)

کراچی کی گزشتہ 30سال سے ایک جماعت کی گرد گھومتی ہوئی سیاست کے لیے 8نومبر 2017ایک تاریخی دن بن کر سامنے آیا ہے ۔منزل نہیں رہنما چاہیے کا نعرہ لگانے والے رہنما اور پارٹی دونوں سے دستبردارہوگئے ۔اس حوالے سے دبئی سے جاری گذشتہ7ماہ سے فاروق کمال ملاپ کیلئے سرگرم کوششیں بالآخرکامیاب ہوگئیں۔متحدہ پاکستان کے سربراہ فاروق ستار اورپاک سرزمین پارٹی کے سربراہ مصطفی کمال نے ایک دوسرے کوگلے لگالیا۔کراچی پریس کلب میں منعقدہ پرہجوم پریس کانفرنس میں دونوں رہنماؤں نے عدم تشددو تصادم ،سندھ بالخصوص کراچی کے عوام کے حقوق اورانکے فلاح وبہبود کیلئے مل کرکام کرنے باضابطہ اعلان کردیا۔ اس بات کا اعلان بھی کیا گیا کہ ایک منشور،ایک جماعت اورنئے نشان پر الیکشن میں حصہ لیا جائے گا۔مصطفی کمال نے ایک بار پھرمہاجرنوجوانوں کیلئے بلوچستان علیحدگی پسند تحریک میں شامل نوجوانوں کی طرز پر’’عام معافی‘‘کابھی مطالبہ دہرادیا۔واضح رہے کہ روزنامہ پاکستان میں 07فروری 2017ء اور 20ستمبر2017 کو''دبئی میں’’مہاجر‘‘ووٹ بینک کوتقسیم سے پچانے کی کوششیں‘‘ اور متحدہ کے تینوں دھڑوں کے’’انضمام‘‘کیلئے جنرل(ر) پرویزمشرف اورڈاکٹرعشرت العبادکوششوں کے حوالے سے خصوصی تجزیوں میں نشاندہی کی گئی تھی ۔شہرقائد میں 80کی دہائی سے شروع ہونے والی ’’لسانی‘‘سیاست کا خاتمہ خوش آئند ہے مگرابھی بھی منزل دور ہے۔یہ تمام ’’بریک تھرو‘‘دبئی میں بیٹھے سابق صدرکی کوششوں سے ممکن ہوپایااور ان کی ہی درخواست پرپیر پگارا نے دونوں رہنماؤں کوایک دوسرے کے گلے لگواکر گلے شکوے دورکروائے۔ فاروق اورکمال کی تاریخی پریس کانفرنس دراصل ’’دبئی پلان‘‘کاٹریلر ہے ۔کیونکہ دنوں رہنماؤں نے واضح نہیں کیا کہ انضمام کے بعدبننے والی جماعت کا نام کیاہوگا؟ جبکہ جماعت کی سربراہی کون کرے گا؟ اس ’’ادغام‘‘نے ابھی کئے بڑے مرحلے سَر کرنے ہیں۔جہاں ایک جانب فاروق ستارکے اس اقدام پر ’’لبیک‘‘نہ کرنے والوں کی دوسری جماعتوں میں شمولیت کااعلان ہوگا وہیں کئی بڑے نام جلدفاروق ستار اور مصطفی کمال کے کندھے تھپتپاتے نظرآئیں گے۔جلدہی کمال کے طرح فاروق ستارخود ایم کیوایم پر پابندی کامطالبہ کریں تاکہ فیصلے سے منحرف رہنماؤں پردباؤبڑھایا جائے۔ایک اہم امر یہاں انتہائی قابل ذکر ہے کہ پی ایس پی اورمتحدہ پاکستان کے ملاپ میں جہاں پرویزمشرف ،عشرت العباد اور سلیم شہزادکی طویل کوششیں ہیں وہیں ایک بڑارول سانحہ بلدیہ فیکٹری میں کے مرکزی کردارنے انجام دیا ہے ۔جلد سابق متحدہ کے ٹی سی انچارج کیلئے عام معافی کے حوالے سے فاروق وکمال کا مشترکہ مطالبہ بن کرسامنے آسکتا ہے۔

مزید : کراچی صفحہ آخر


loading...