آزادکشمیر کے معذور بچے حکومتی عدم توجہ کا شکارہیں، ڈاکٹر زاہد حسین

آزادکشمیر کے معذور بچے حکومتی عدم توجہ کا شکارہیں، ڈاکٹر زاہد حسین

  



مظفرآباد(بیورورپورٹ)آزادکشمیر کے معذور بچے حکومتی عدم توجہ کا شکار ، آزاد ریاست ستر سالو ں میں بچوں کی تعلیم کیلئے ایک کالج قائم نہ کر سکی ضیا الحق دور حکومت میں آزادکشمیر میں قائم ہونیوالے واحد سکول کے بعد حکومتوں کی توجہ معذور افراد کی جانب نہ گئی استطاعت نہ رکھنے والے معذور افراد اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے سے محروم ،1998میں ہونیوالی مردم شماری میں آزادکشمیر کے نابینا ، گونگے اور بہرے ، جسمانی معذور ، ذہنی معذور افراد کی تعداد 25672تھی جس میں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے آزادکشمیر حکومت معذور افراد کو معاشرے کا کارآمد شہری بنانے کیلئے کالج قائم کرے جو کسی بھی دوسرے کالج کے اخراجات میں تعمیر اور چلایا جا سکتا ہے ان خیالات کا اظہار غیر سرکاری تنظیم پروہی کے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر زاہد حسین نے مرکزی ایوان صحافت میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ان کا کہنا تھا کہ گونگے بہرے بچوں کیلئے بائیس سال سے میرپور میں سکول چلا رہے ہیں آزادکشمیر میں سرکاری سطح پر صرف ایک سکول قائم ہے محکمہ تعلیم نے آزادکشمیر میں چھ ہزار سے زائد پرائمری سکول ، سکینڈری اور ہائی سکول، کالج قائم کئے لیکن بدقسمتی اور ستم ظریفی یہ ہے کہ معذور بچے جو کہ آزادکشمیر میں ہزاروں کی تعداد میں موجود ہیں ان کیلئے ایک کالج بھی موجود نہیں ہے ستر سالوں میں آزادکشمیر کی حکومتوں نے اس جانب کوئی توجہ نہیں دی ضیا الحق نے اپنے دور حکومت میں بیالیس سکول پاکستان بھر میں قائم کئے جن میں سے ایک ہمارے حصے میں آیا جو مانک پیاں میں قائم ہے لیکن حکومتوں کی عدم توجہ اس سکول کے حصے میں بھی آ رہی ہے انہوں نے کہا کہ معذور افراد میں بے پناہ صلاحتیں موجود ہیں اور اعلیٰ تعلیم ان کا بھی حق ہے ہر سال معذور بچے میٹرک میرپور بورڈ سے پاس کرتے ہیں لیکن وہ اس سے آگے تعلیم حاصل نہیں کر سکتے آزادکشمیر کا واحد سرکاری سکول بھی تین وزارتوں میں فٹ بال بنا ہوا ہے سی پیک ، موٹر وے اور دیگر ترقیاتی منصوبوں کے بڑے بڑے اعلانات کئے جا رہے ہیں لیکن کسی کو پرواہ نہیں ہے کہ معذور افراد کیلئے ادارہ قائم کیا جائے انہوں نے کہا کہ اس وقت ریاست کے معذور شہریوں کیلئے میرپور اور مظفرآباد میں ہنگامی بنیادوں پر کالجز کی تعمیر کی اشد ضرورت ہے جنہیں عام کالج کے برابر اخراجات میں چلایا جا سکتا ہے حکومت آزادکشمیر اس معاملہ کی جانب فی الفور توجہ دے ۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر


loading...