سپریم کورٹ آزادکشمیر کا محکمہ تعلیم کو پٹیشنرزکوریکارڈ فراہمی کاحکم

سپریم کورٹ آزادکشمیر کا محکمہ تعلیم کو پٹیشنرزکوریکارڈ فراہمی کاحکم

  



مظفرآباد(بیورورپورٹ)سپریم کورٹ آف آزادکشمیر نے محکمہ تعلیم کو حکم دیا ہے کہ توہین عدالت کیس کے پٹیشنرز کو مکمل ریکارڈ فراہم کیا جائے،بدھ کے روز تعلیمی پیکج بحالی کے حکم پر عملدرآمد نہ کرنے کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت ہوئی جس کی سربراہی چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس ابراہیم ضیاء کررہے تھے۔بینچ میں جسٹس سعید اکرم بھی شامل تھا، دو رکنی بینچ نے سماعت کا آغاز کیا توپٹیشنرزکی طرف سے وکیل بیرسٹر ہمایوں نے موقف اختیار کیا کہ ہمیں محکمہ تعلیم کی طرف سے ریکارڈ فراہم نہیں کیا جا رہا ہے اورمحکمہ کے ملازمین کو ریکارڈ مہیا کرنے پر ان کے خلاف حکومت کارروائی کرتی ہے ۔حکومت کی طرف سے مہیاکردہ ریکارڈ جعلی ہے ۔جس کا حقائق سے کوئی تعلق نہیں ۔جبکہ حکومت کی طرف سے سردار شمشاد ایڈووکیٹ نے عدالت کے سامنے موقف اختیار کیا تعلیمی پیکج سے متعلق دائر کردہ توہین عدالت کی اپیل بدنیتی پر مبنی ہے ۔حکومت کی طرف سے کسی بھی جگہ عدالت کا ارتکاب نہیں کیا گیا ۔چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا آپ اس کیس میں نئے آئے ہیں اس سے پہلے بات بہت آگے نکل گئی ہے اور سیکرٹری تعلیم امجد پرویز کوحکم دیا ۔پٹیشنر نے جو محکمانہ ریکارڈلینا چاہتے ہیں ان کو مہیا کیا جائے ۔سیکرٹری تعلیم نے عدالت کے روبرو موقف اختیار کیا بطور سیکرٹری تعلیم گارنٹی دیتا ہوں جو ریکارڈ ان کو درکار ہے ۔مہیا کر دیا جائے گا۔پٹیشنر کی طرف سے وکیل بیرسٹر ہمایوں نے درخواست کی کہ ان کو دو دن کا وقت دیا جائے تاکہ ریکارڈ حاصل کر لیں جس کے بعد عدالت نے آئندہ تاریخ سماعت 13نومبر مقرر کر دی اس موقع پر پیپلز پارٹی کے صدر لطیف اکبر،سابق وزیر اعظم چوہدری عبدالمجید،سابق وزراء جاوید ایوب،میاں عبدالوحید،مطلوب انقلابی ،چوہدری رشید سمیت پیپلزپارٹی کے سابق ممبران اسمبلی عہدیداران کی بڑی تعداد بھی موجود تھی جبکہ وزیر تعلیم بیرسٹر افتخار گیلانی مسلم لیگ ن یوتھ ڈویژن کے صدر راجہ فیصل آزاد کیہمراہ بھی لیگی عہدیداران و کارکنان کی کثیر تعداد موجود رہی ۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر