’’ علامہ اقبال نے رسول خداﷺ کی رضا سے اپنا جو خلیفہ مقرر کیا وہ بہاولپور شہر سے دس کلومیٹر دور اپنی زمینوں میں رہتا ہے‘‘

’’ علامہ اقبال نے رسول خداﷺ کی رضا سے اپنا جو خلیفہ مقرر کیا وہ بہاولپور شہر ...
’’ علامہ اقبال نے رسول خداﷺ کی رضا سے اپنا جو خلیفہ مقرر کیا وہ بہاولپور شہر سے دس کلومیٹر دور اپنی زمینوں میں رہتا ہے‘‘

  



فرید نظامی

لالہ صحرائی علامہ اقبال کے شیدائی تھے،ان کا ادبی مزاج اور مقام قابل احترام رہا ہے ،برسوں پہلے علامہ اقبال پر انکی ایک تحریر نظر سے گزری تھی جس میں انہوں نے علامہ اقبال کے عشق رسولﷺ میں مقام پر تحقیق کی اور بعد میں علامہ اقبال ثانی سے ملاقات کا بھی ذکر کیا تھا ۔لالہ صحرائی کو وفات پائے بھی کافی سال ہوچکے ہیں ۔ان کے نعتیہ کلام اور اقبال پر مضامین انکی علمیت اور عقیدت کا بہترین نمونہ ہیں۔انہوں نے اپنے مضمون میں لکھا تھا ۔

’’اقبال کے عشق رسولﷺ کے تصور پر گامزن ایک بندے کے ساتھ میری ملاقات ہوئی تھی، مجھے اس پروانے سے مل کر بے پناہ خوشی ہوئی، یہ علی محمد جٹ صاحب ہیں جو بہاولپور شہر سے دس کلومیٹر پرے اپنی زمینوں پر رہتے ہیںَ علی محمد صاحب نے درود شریفﷺ کی فضیلت پر ایک کتاب لکھی تھی۔ یہ کتاب ایک صاحب حال بزرگ نے دربار رسولﷺ میں پیش کی۔ یہ بزرگ وہاں قریب ہی ایک صحابیؓ کے دربار کے متوسل ہیں۔

بزرگ نے ایک دن علی محمد صاحب کو بتایا کہ جناب رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کی کتاب کو شرف قبولیت بخشا ہے اور آپ کے لئے تین دعائیں فرمائی ہیں۔

۱۔ آپ کا برسوں پرانا سر درد ختم ہو جائے گا۔

۲۔ اللہ تعالٰی آپ کو بیٹے سے نوازے گا۔

۳۔ آپ کو علامہ اقبال ثانی کا خطاب دیا جاتا ہے۔

میں جب علی محمد صاحب کے پاس پہنچا تو انہوں نے کوئی خاص توجہ نہیں دی، شائد وہ ملنے والوں سے تنگ آئے ہوئے تھے، ان کا لہجہ بھی کافی سرد سا تھا، لیکن دوران گفتگو جب میں نے انہیں بتایا کہ میں بھی درود شریف کی ایک کتاب تالیف کرنا چاہتا ہوں، اس سلسلے میں جب کتابیں اکٹھی کر رہا تھا تو آپ کی کتاب بھی ملی، تب مجھے آپ سے ملنے کا شوق ہوا اور کم و بیش آٹھ سو کلومیٹر کا سفر طے کر کے آیا ہوں،پھر اس کے بعد ان سے کافی اچھی گفتگو ہوئی۔

میرے ایک سوال پر علی محمد صاحب نے مسکراتے ہوئے بتایا کہ ہاں یہ تینوں بشارتیں پوری ہو چکی ہیں۔ مجھے لڑکپن سے آدھے سر کا درد رہتا تھا، ایک صبح جب میں اٹھا تو میرا سر درد غائب تھا، یہ وہی قبولیت کی رات تھی۔ میرے ہاں پہلے بیٹیاں پیدا ہوئی تھیں، بیٹے کی بہت خواہش تھی جو بشارت کے ذریعے قبول ہوئی، پھر انہوں نے اپنے صاحبزادے سے بھی ملوایا جو ماشاء اللہ اس وقت شائد دو سال کا تھا۔ علامہ اقبال کی زیارت ہوئی اور انہوں نے کہا جسے حضور آقائے کریمﷺ پسند فرمائیں وہ مجھے بھی مرغوب ہے لہذا آپ میرے خلیفہ ہو۔

علی محمد چوہدری صاحب کہتے ہیں کہ اس کے فوراً بعد میں نے لاہور کا قصد کیا اور علی الصبح جب علامہ اقبال کے مزار پہ پہنچا تو پتا چلا کہ مزار دیر سے کھلے گا۔ میں نے کہا جناب یہ عجیب بات ہے، مجھے بلا کے دروازے بند کر لئے، چند منٹ بعد رینجر کا ایک اہلکار آیا اور مجھے کہا آپ اندر چلے جائیں، تالا کھول کے وہ چلا گیا اور میں وہاں کافی دیر تک بیٹھا رہا۔‘‘

مزید : روشن کرنیں


loading...