فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز...قسط نمبر 267

فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز...قسط نمبر 267
فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز...قسط نمبر 267

  



جمالی صاحب کے دو اصول ایسے تھے جن پر وہ بڑی سختی سے عمل پیرا تھے۔ وہ سفید قمیض یا بو شرٹ کے سوا کسی رنگ کی قمیض زیب تن کرنا خلاف وضع خیال کرتے تھے۔ گرمی ہو یا سردی ہم نے ا ن کے جسم پر سفید قمیض ہی دیکھی۔ وہ کہا کرتے تھے کہ سمجھ میں نہیں آتا کہ مرد رنگین قمیض کیوں پہنتے ہیں۔ رنگین لباس تو خواتین ہی کو زیب دیتا ہے اور پھر سفید رنگ میں جو وقار‘ سادگی اور شان ہے وہ کسی اور رنگ میں کہاں۔

ہم نے کہا’’ مگر جمالی صاحب سفید تو کوئی رنگ ہی نہیں ہوتا۔‘‘

بولے ’’یار سنی سنائی باتوں پر قابلیت نہ جھاڑا کرو۔ سفید بھی توایک رنگ ہی ہے۔ سفید رنگ کی دیوار‘ سفید رنگ کا لباس‘ جس طرح سیاہ بھی ایک رنگ ہے۔ اگر آپ کو کمرے میں سفید رنگ کرانا ہو تو کیا کہیں گے یہی نا کہ سفید رنگ کر دو۔ ‘‘

’’جی نہیں صرف اتنا کہیں گے کہ سفیدی کر دو‘‘

’’سفیدی تو ایک اصطلاح ہے ‘‘وہ کہاں ہار ماننے و الے تھے ’’اگرآپ کو چونے والی سفیدی کے علاوہ سفید پینٹ کرانا ہو تو کیا کہیں گے۔ یہی نا کہ کمرے میں سفید رنگ کا پینٹ کر دو۔ ‘‘

فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز...قسط نمبر 266 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

’’جی نہیں ہم یہ کہیں گے کہ کمرے میں سفید پینٹ کر دو۔ ‘‘

’’یار کج بحثی تو تم پر ختم ہے۔ ‘‘وہ ہنسنے لگے۔

’’اوراپنے بارے میں کیا خیال ہے‘‘ ہم پوچھتے

’’خیر ہماری تو یہ پہچان ہے۔‘‘

جمالی صاحب کے ساتھ نوک جھونک ہر وقت جاری رہتی تھی۔

ذکر زیبا کا ہو رہا تھا۔ زیبا کی گفتگو سن کر ہم سب بہت حیران ہوئے۔ انہیں زبان وبیان پر پوری طرح عبور حاصل تھا۔

جمالی صاحب کہاں ہار ماننے والے تھے کہنے لگے بھئی کیوں نہ ہو ’’آخر اہل زبان ہے۔‘‘

زیبا نے بھولے پن سے پوچھا ’’آپ کی مراد ہے یوپی یا دہلی کی رہنے والی ہوں؟‘‘

’’اور کیا؟ تمہاری زبان ہی یہ چغلی کھا رہی ہے۔‘‘

زیبا بولی ’’جمالی صاحب معاف کیجئے چغلیوں پر بھروسا نہ کیا کیجئے۔ ویسے آپ کی اطلاع کے لئے عرض ہے میری والدہ پٹیالہ کی رہنے والی ہیں۔‘‘

ہم سب حیران رہ گئے ’’بھئی کمال ہے سکّھوں کی سرزمین میں رہ کر اتنی اچھّی اردو؟‘‘

’’یہ میں نے کراچی میں آپ جیسے اہل زبان لوگوں سے سیکھی ہے۔‘‘

لالی جی اس نوک جھونک پر ہنستی رہیں۔ وہ کم بولتی تھیں۔ زیادہ تر سنتی اور ہنستی ہی رہتی تھیں۔ ایک بار ابراہیم جلیس نے ان سے کہا تھا ’’لالی جی ایمان سے آپ بہت بڑی فنکارہ ہیں۔‘‘

وہ حیرت سے کہنے لگیں ’’میں کب فنکارہ ہوں۔ آرٹسٹ تو میری بیٹی ہے۔‘‘

جلیس صاحب نے کہا ’’اگرآ پ نہ ہوتیں تو یہ بیٹی کہاں سے آ تی؟‘‘

پھر انہوں نے ایک لطیفہ سنایا کہ ہالی ووڈ کی ایک بہت شاندار تقریب میں ایک نقّاد کا تعارف بہت بڑی فنکارہ سے کرایا گیا۔’’ یہ بہت بڑی آرٹسٹ ہیں۔ جنہوں نے فلاں فلم میں آسکر ایوارڈ حاصل کیا‘‘۔

نقّاد نے فنکارہ سے ہاتھ ملایا۔

’’اور ان سے ملئے یہ ان سے بھی بڑی آرٹسٹ ہیں۔‘‘ اس بار ان کا تعارف ایک بڑی عمر کی خاتون سے کرایا گیا۔

پوچھا گیا ’’انہوں نے کیا کارنامہ سرانجام دیا ہے؟‘‘

جواب ملا ’’انہوں نے آسکر حاصل کرنے والی آرٹسٹ کو جنم دیا ہے۔ ان کے بغیر وہ کہاں ہوتیں؟‘‘

زیبا سے سرسری ملاقات تو سٹوڈیو میں بھی ہوئی تھی مگر ان کے گھر پر قدرے تفصیل سے گفتگو ہوئی تو ان کے جوہر ہم پر کھل گئے۔ ویسے تو اس زمانے میں مرد اور خاتون فنکارائیں عموماً پڑھی لکھی (ڈگری یافتہ نہیں) صاحب ذوق‘ بااخلاق‘ شگفتہ مزاج اور حاضر جواب ہوتی تھیں مگر زیبا نے پہلی ہی تفصیلی ملاقات میں ہمیں قائل کر لیا۔ ایک خاص بات یہ تھی کہ ان میں بناوٹ یا تصنّع نام کو نہ تھا ۔بلا کم و کاست‘ ہر ایک کے بارے میں بیان جاری کر رہی تھیں۔ نہ مصلحت کا خیال‘ نہ دنیاداری کی پروا‘ یہ خوبی ان میں آج بھی موجود ہے بلکہ اب تو عمر کے ساتھ اور بھی پختہ ہوگئی ہے۔

ہم نے بہت سے فنکاروں کو قریب سے دیکھا۔ پاس رہے‘ ساتھ اکٹھّے بیٹھے۔ ہر ایک میں کوئی نہ کوئی خوبی پائی مگر زیبا کی خوبی یہ دیکھی کہ وہ صاف دل اور صاف گو ہیں۔ بلکہ ’’صاف چہرہ‘‘ بھی ہیں۔ وہ اس طرح کہ ان کے تاثرات اور دلی جذبات فوراً ان کے چہرے پر نمودار ہو جاتے ہیں۔ اگر خوش ہیں تو خوشی کا چہرے سے اظہار ہو رہا ہے اگر ناراض ہیں تو ایک نظر میں پتہ چل جاتا ہے کہ خفا ہیں۔ اگر کوئی شخص پسند ہے تو خوب گھل مل کر باتیں ہوں گی اور چہرے سے بھی اس کا اظہار ہوگا۔ اگر کوئی ناپسند ہے تو زیبا کا چہرہ اس بات کی چغلی کھا ئے گا۔ اوّل تو وہ ناپسندیدہ لوگوں سے بات ہی کرنا پسند نہیں کرتیں۔ محفل میں سب موجود ہیں مگر زیبا کے لئے وہ ہستی غیر موجود ہے۔ اگر اخلاقاً یا ضرورتاً بات بھی کریں گی تو رسمی اور ضرورت کے مطابق۔ بس اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ اس لحاظ سے ہم روز اوّل ہی سے زیبا کے قدردان ہیں۔آج جبکہ منافقت اور دوغلا پن ہمارے معاشرے میں جڑیں پکڑ چکا ہے زیبا میں لاکھ خوبیوں کی ایک خوبی یہ ہے کہ منافقت ان کے بس کی بات ہی نہیں ہے۔ اگر کسی کی دوست ہیں تو دوست ہیں، ہر طرح مدد کرنے کو تیار اور کمربستہ ۔اگر دوست نہیں ہیں تو اس کی مخالف ہیں۔ کسی قیمت پر سمجھوتا نہیں کریں گی۔

زیبا کی یہ عادت اچھّی بھی ہے لیکن بعض اوقات پرابلم بن جاتی ہے۔ ہمارے ساتھ بھی چند بار ایسی پرابلم پیدا ہوئی۔ ہم ناراض بھی ہوئے بول چال بھی بند رہی مگر زیبا اپنی خو نہ چھوڑ سکیں۔ ناراضگی کے باوجود دوستی اپنی جگہ قائم رہی اور بول چال شروع ہونے کے بعد سلسلہ پھر وہیں سے جُڑگیا جیسے کہ کبھی لڑائی ہوئی ہی نہ تھی۔ دیکھا جائے تو بہت بچکانہ سی بات ہے لیکن داناؤں نے کہہ دیا ہے کہ ہر انسان کے اندر ایک چھوٹا سا بچہ چھپا ہوا ہے۔ کچھ بزرگ اس بچے کو ڈانٹ ڈپٹ کر خاموش کر ادیتے ہیں مگربعض نے اس بچّے کو آزادی دے رکھی ہے کہ بھئی کبھی کھیل کود بھی کر لیا کرو۔ شرارت بھی کر لیا کرو۔

زیبا کے گھر میں وقت گزرنے کا پتہ ہی نہ چلا۔ ایک سے بڑھ کر ایک لطیفہ باز‘ پھبتی باز اور حاضر جواب بندہ وہاں موجود تھا۔ ان میں مزاح کی حس بھی تھی اور اچھے مذاق اور لطیفوں پر داد بھی مل رہی تھی تو پھر وہی معاملہ ہوا کہ اللہ دے اور بندہ لے۔ کھانا بہت مزے دار تھا۔

ابراہیم جلیس صاحب نے کہا’’ بھئی آپ پٹیالہ والوں کا کھانا بہت اچھا ہوتا ہے۔ ‘‘

جواب میں لالی جی نے کہا’’ مگر یہ تو دلّی کے کھانے ہیں۔ ‘‘

وہ بولے ’’آپ بھی خوب چیز ہیں۔ پٹیالہ کو دلّی میں غلط ملط کر دیا ہے۔‘‘

وہ کہنے لگیں ’’ہم تو پٹیالہ سے بہت عرصہ پہلے آگئے تھے‘‘

’’بس آپ نے یہی عقلمندی کا کام کیا۔‘‘

زیبا کی ایک کزن بھی ان کے ساتھ رہتی تھیں۔ ان کی ہم عمر ہی ہوں گی۔ اس وقت نام ذہن سے نکل گیا ۔یہ کھانا دراصل ان ہی کے زیر اہتمام پکایا گیا تھا۔ جمالی صاحب کو معلوم ہوا تو وہ بار بار ان کی تعریف کرتے رہے ’’بھئی آپ کا کھانا بہت اچھا ہے۔ فلاں چیز کا جواب ہی نہیں ہے‘‘

آخر زیبا سے نہ رہا گیا، بولیں ’’جمالی صاحب میزبان تو میں ہوں کچھ مجھ سے بھی کہیں۔‘‘

وہ بولے ’’آپ سے کیا کہیں، سوائے شکریے کے، حق بہ حقدار رسید، لالی جی نے خود ہی تو بتایا ہے کہ یہ کھانا انہوں نے بنایا ہے؟‘‘

کھانا تو بہت لذیذ تھا مگر انتظار کے باوجود میٹھا دسترخوان پر نہیں آیا۔ آخر ہم سے نہ رہا گیا ہم نے پوچھا’’ لالی جی کیا آپ کے پٹیالہ میں مٹھاس کا رواج نہیں ہے؟‘‘

زیبا نے جواب دیا ’’فکر نہ کریں۔ میٹھا بھی کھلاؤں گی اور پان بھی۔‘‘

کھانے کے بعد رات گئے ہم سب کاروں میں سوار ہو کر آئس کریم کھانے کے لئے پہنچ گئے۔ ایکسلیئر ہوٹل سے آگے ایک گوشے میں آئس کریم کی دکان تھی۔ یہاں ڈبل روٹی کے ٹوسٹ نما ٹکڑوں جیسی آئس کریم بنائی جاتی تھی اور بے حد مزے دار تھی۔ اس سے پہلے ہمیں اس دکان کا علم نہ تھا بعد میں سالہا سال تک وہاں جا کر آئس کریم کھاتے رہے۔ اب تو بہت عرصے سے جانا نہیں ہوا۔ خدا جانے وہ دکان اب بھی قائم ہے یا حوادث زمانہ کی نذر ہوگئی۔ زیبا ابھی زیادہ مصروف نہیں ہوئی تھیں اس لئے فنکارہ کے طور پر انہیں کسی نے نہ سمجھا اور آزادی سے گپ شپ کرتی رہیں۔ اس کے بعدبھی ایک دو بار وہ فرمائش پر ہمیں آئس کریم کھلانے کیلئے اسی دکان پر لے گئیں مگر اس وقت وہ مشہور ہو چکی تھیں اس لئے برقع پہن کر کار میں بیٹھتی تھیں۔

زیبا کے گھر پر بات چیت کے دوران لالی جی اور زیبا ہم سے شمیم آراء کے بارے میں بھی دریافت کرتی رہیں۔ شمیم آرا ان سے پہلے فلمی دنیا میں داخل ہوئی تھیں اور اس وقت شہرت بھی حاصل کر چکی تھیں۔ ہم نے سادگی سے اپنی رائے ظاہر کر دی اور شمیم آرا کے اخلاق اور اداکاری کی تعریف بھی کر دی۔ الیاس بھائی ہمیں گھورتے اور اشارے کرتے رہے مگر ہم نے دھیان نہ دیا۔ ایک بار جب ہم نے شمیم آراء کی صلاحیتوں کے بارے میں ذرا تفصیل سے روشنی ڈالی تو الیاس صاحب نے ہمارا پیر کچلنے کی کوشش بھی کی مگر ہم نے پھر بھی توجّہ نہ دی۔

جب ہم اپنے ہوٹل پہنچے تو الیاس بھائی نے زیبا سے کہا ’’بس مجھے بھی یہیں ڈراپ کر دو۔‘‘

ہم حیران تھے کہ اتنی رات گئے یہ حضرت اپنے گھر کیوں نہیں جا رہے۔

جوں ہی زیبا کی کار ہم دونوں کو چھوڑ کر رخصت ہوئی الیاس صاحب نے ہمارے لتّے لینے شروع کر دئیے۔

’’میاں تم بھی عجیب آدمی ہو‘‘

ہم نے حیران ہو کر انہیں دیکھا ’’کیوں‘‘

بولے ’’بھائی شمیم آرا کی اتنی زیادہ تعریف کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ ‘‘

ہم نے کہا ’’یہ کیا بات ہوئی۔ انہوں نے ہماری رائے پوچھی تھی ہم نے بتا دی۔ ‘‘

کہنے لگے ’’بھائی ان میں تو آگ پانی کا بیر ہے۔ شمیم آرا کی تعریف انہیں پسند نہیں آتی وہ تو تمہارا لحاظ کر لیا ورنہ بحث شروع ہو جاتی۔‘‘

وہ دن اور آج کا دن۔ شمیم آرا سے زیبا کی ناپسندیدگی کبھی ختم نہیں ہوئی۔ اس سلسلے میں بعض اوقات خاصی ناخوشگوار صورت حال بھی پیدا ہوگئی جس کا تذکرہ آگے آ ئے گا۔

اس زمانے میں شمیم آرا کراچی سے لاہور منتقل ہو چکی تھی اور سمن آباد کی ایک کوٹھی میں کرائے پر رہا کرتی تھیں۔ ہم نے کئی بار زیبا سے دریافت بھی کیا کہ بھئی شمیم آرا سے آپ کی کیا لڑائی ہے اور اس کا سبب کیا ہے مگر وہ ہمیشہ ٹال گئیں۔ ان کا جواب تھا ’’لڑائی کیسی۔ اس بے چاری نے میرا کیا بگاڑا ہے۔ میری تو کوئی لڑائی نہیں ہے۔‘‘

’’پھر بھی؟‘‘ ہم پوچھتے۔

’’آفاقی۔ تمہیں وہم ہوگیا ہے اس کا علاج تو حکیم لقمان کے پاس بھی نہیں تھا۔‘‘

زیبا سے ہماری ملاقاتیں اورمیل جول بڑھتا رہا۔ ہم جب بھی کراچی جاتے تو عموماً ان سے بھی ملاقات ضرور کرتے تھے۔ اس وقت تک ہم نے انہیں اپنی پہلی فلم میں کاسٹ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں کیا تھا۔ (جاری ہے)

فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز...قسط نمبر 268 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : فلمی الف لیلیٰ