پڑھے لکھے نوجوان چور

پڑھے لکھے نوجوان چور
پڑھے لکھے نوجوان چور

  



چھوٹی موٹی چوریاں شوقیہ کرنے والے کل کو بڑے عادی مجرم بن جاتے ہیں۔جاہل اور ان پڑھ ایک طرف ،پڑھے لکھے چوروں سے معاشرہ بھرتا جارہا ہے۔ کل جب میں میرپور بوائز ڈگری کالج کے کمرہ امتخان میں داخل ہو کر بیٹھا ہی تھا کہ نگران صاحب نے گرج دار آواز میں کہا ’’سب لوگ اپنے اپنے موبائل فون باہر رکھ کر آئیں‘‘سب کے ساتھ میں بھی اٹھا اور اپنے انتہائی قیمتی،خوبصورت سِلم سمارٹ آئی فون پانچ جسے عرف عام میں IPhone 5 کہا جاتا ہے جیب سے نکالا اور سب کے ساتھ کمرہ امتخان کی دیوار جس پر متعدد فریم نما سوراخ بنے ہوئے تھے وہاں یہ سوچ کررکھ دیا کہ یہاں سب پڑھے لکھے افراد موجود ہیں چوری کا خطرہ نہیں۔امتحان بے فکر ہو کر دے رہا تھا اور قلم زوروشور سے جاری تھا سوال دلچسپ تھا کہ معاشرتی جرائم کیوں وجود میں آتے ہیں؟ تفصیلاً نوٹ لکھیں۔قلم چلا جرائم کا ذمہ دار منشیات خوروں،آوارہ گرد نوجوانوں اور جاہل لوگوں کو ٹھہرا دیا۔ اتنے میں ایک دبی سی آواز کانوں میں آئی‘‘سر میرا موبائل چوری ہو گیا‘‘ سر اٹھا کر دیکھا تو معصوم سا چہرہ مرجھایا ہوا تھاَ ۔ جان کر دکھ ہوا کہ گریجویشن لیول کے نوجوان جنہوں نے مستقبل میں ملک کی کمان سنبھالنی ہے وہ کمرہ امتحان سے چند روپوں کی خاطر چوری کرنے میں مصروف ہیں۔اسی سوچ میں گم ہمیں اپنے آئی فون کی فکر لاحق ہوئی دیکھا تو موبائل اپنی جگہ پر تھا اور دوبارہ قلم چلنے لگا اور سوال معاشرتی جرائم کے جواب میں یہ بھی لکھ دیا ’’بعض پڑھے لکھے افراد بھی کبھی کبھار حالات سے تنگ آ کر چوری جیسے جرائم کر بیٹھتے ہیں مگر ایسے مجرموں کو جیلوں میں بھیج کے انہیں عادی مجرم بنانے میں حکومت اور انتظامیہ اہم کردار ادا کرتے ہیں۔‘‘ اسی دوران نظر موبائل کی طرف اٹھی تو دیکھا چھوٹی سی داڑھی والا ایک خوبصورت سانوجوان پیلی قمیض اور سفید شلوار پہنے ہلکی سی مسکراہٹ لیئے موبائل کے پاس ٹہل رہا تھا ،نہ جانے کیوں مجھے وہ خوبصورت نوجوان کچھ مشکوک لگا۔اتنے میں نگران صاحب کی آواز آئی، آخری دو منٹ ہیں رول نمبر دیکھیں اور پرچے جمع کروائیں ۔ہم نے جواب ختم کیا اور مشکوک نوجوان کی وجہ سے احتیاطً ایک مرتبہ موبائل پر نظر ڈالی، آنکھوں سامنے اندھیرا چھانے لگا ۔پاؤں تلے زمین سرکتی ہوئی محسوس ہونے لگی ، پرچہ بغیر چیک کیئے نگران صاحب کو تھماتے ہوئے جائے وقوعہ پر پہنچ گیا مگر نہ وہ معصوم صورت نوجوان اور نہ ہمارا آئی فون نظر آیا۔ مین گیٹ تک گیا اور ایک عزیز کا فون لے کرمسلسل کالز ملائیں مگر سب بے سود۔ پڑھا لکھا گریجویشن لیول کا طالب علم میرافون لے کر جا چکا تھا۔وہ پڑھا لکھا نوجوان جس نے مستقبل میں اس ملک کو سپر پاور بنانا ہے، وہ نوجوان جس نے اس ملک میں کرپشن کے خلاف جنگ لڑنی ہے ،وہ نوجوان جس نے تعلیم کے زور پر برائی کو ختم کرنا ہے۔آج وہی نوجوان چوری کر کے بھاگ چکاتھا۔نہ جانے آنے والے وقتوں یہ نوجوان کیا گل کھلاسکتا تھا۔ کسی ذمہ دار سیٹ پر بیٹھ گیا تو کرپشن اور چوریاں دیدہ دلیری سے کرے گا یا اسکو اصلاح نصیب ہوجائے گی۔یہ ایک نوجوان نہیں ،انتہائی پڑھے لکھے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں اکیڈمیز میں ٹیوشن کے دوران بیگوں سے بھی موبائل چرا لیتے ہیں۔چوری کی اس لت سے نوجوانوں کو کیسے بچایا جاسکتا ہے ،اسکا حل تلاش کرنا ہوگا ۔ورنہ ملک کا مستقبل چوروں کے ہاتھ چلا جائے گا۔

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ


loading...