علامہ اقبال کے جمہوری تصور کو طالع آزماؤں نے پختہ نہیں ہونے دیا ،ماورائے آئین اقدام کے لیے ایک بار پھر فضا بنائی جارہی ہے :سینیٹر ساجد میر

علامہ اقبال کے جمہوری تصور کو طالع آزماؤں نے پختہ نہیں ہونے دیا ،ماورائے ...
علامہ اقبال کے جمہوری تصور کو طالع آزماؤں نے پختہ نہیں ہونے دیا ،ماورائے آئین اقدام کے لیے ایک بار پھر فضا بنائی جارہی ہے :سینیٹر ساجد میر

  



لاہور ( ڈیلی پاکستان آن لائن) امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان سینیٹر پروفیسرساجد میرنے کہا ہے کہ علامہ اقبال نے جمہوری جدوجہد کے ذریعے برصغیر کے مسلمانوں کیلئے الگ وطن حاصل کیا ، بدقسمتی سے علامہ محمد اقبال کے جمہوری تصور کو طالع آزماؤں نے پختہ نہیں ہونے دیا، ملک میں سیاسی بے یقینی کی صورتحال ہے، ماورائے آئین اقدام کے لیے ایک بار پھر فضا بنائی جارہی ہے ۔

یوم اقبال پر اپنے پیغام میں سینیٹر ساجد میر کا کہنا تھا کہ علامہ اقبال نے اس خطے کے مسلمانوں کو غلامی کی زنجیروں سے نجات دلانے کیلئے جداگانہ قومیت کا احساس اُجاگر کیا اور الگ وطن کا تصوردیا ، وہ برصغیر کے مسلمانوں کے مسلمہ لیڈر تھے جو اپنی قومی اور ملی شاعری کے ذریعے بھی انکے جذبات متحرک رکھتے تھے، اس لئے اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ برصغیر کے مسلمانوں کو اقبال اور قائداعظم کی قیادت میسر نہ ہوتی تو ان میں ایک الگ مملکت کی کبھی سوچ پیدا نہ ہوتی اور نہ ہی پاکستان کا حصول ممکن ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ تمام اکائیوں کو مل کرقائد و اقبال کے تصور کے مطابق ملک کو جدید اسلامی جمہوری فلاحی ریاست کے قالب میں ڈھالنے کی کوشش کرنا ہو گی۔دریں اثنا علما ء کے ایک وفد سے گفتگو کرتے ہوئے پروفیسر ساجد میر کاکہنا تھا کہ ملک و قوم کی بہتری بھی اسی میں ہے کہ انتخابات بروقت ہو جائیں، تاخیر کی صورت میں نقصان سیاسی جماعتوں کا ہو گا ،نئی مردم شماری کے بعد نئی حلقہ بندیوں اور انتخابی فہرستوں کی تیاری کے کام میں سیاسی جماعتوں کو الیکشن کمیشن سے تعاون کرنا چاہیے،سیاسی جماعتوں اور سیاستدانوں کو ا ن مسائل کاادراک ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے انتباہ کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے، ملک پہلے ہی نازک دور سے گزررہا ہے ،سیاسی بے یقینی ہے ، جمہوری نظام نظام کو داؤ پر نہیں لگانا چاہیے۔

مزید : لاہور