کسی مائنس فارمولے کے حق میں نہیں، مولانا چپ کا روزہ رکھ لیں تو فاٹا کا مسئلہ حل ہو سکتا ہے ،ایم کیو ایم کا ڈائریکٹر پہلے ایک تھا اب 2 ہو گئے : غلام احمد بلور

کسی مائنس فارمولے کے حق میں نہیں، مولانا چپ کا روزہ رکھ لیں تو فاٹا کا مسئلہ ...
کسی مائنس فارمولے کے حق میں نہیں، مولانا چپ کا روزہ رکھ لیں تو فاٹا کا مسئلہ حل ہو سکتا ہے ،ایم کیو ایم کا ڈائریکٹر پہلے ایک تھا اب 2 ہو گئے : غلام احمد بلور

  



پشاور(ڈیلی پاکستان آن لائن) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سینئر نائب صدر حاجی غلام احمد بلور نے کہا ہے کہ اے این پی کسی مائنس فارمولے کے حق میں نہیں، منتخب پارلیمنٹرینزقابل احترام اور انہیں زبر دستی گھر بھیجنے کی روائت درست نہیں، اے این پی تحفظات کے باوجود عدالتی فیصلے کا احترام کرتی ہے،مولانا فضل الرحمن نے یوٹرن لینا سیکھ لیا ،وہ چپ کا روزہ رکھ لیں تو فاٹا کا مسئلہ حل ہو سکتا ہے،ایم کیو ایم کا ڈائریکٹر پہلے ایک تھا اب دو ہو گئے ہیں،انتخابات کا التواء ملک کیلئے نقصان دہ ہوگا۔

تفصیلات کے مطابق ’’ بلور ہاؤس‘‘  میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئےحاجی غلام احمد بلور نے کہا کہ پارلیمنٹ کنکریٹ کی چھتوں اور دیواروں کا نام نہیں ، وہاں بیٹھے وہ پارلیمنٹرین ہیں جنہیں قوم نے منتخب کر کے بھیجا ہے۔انہوں نے کہا کہ عدالتوں کا احترام ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے نواز شریف کے خلاف آنے والا فیصلہ ہم نے قبول کیا تاہم ان کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے، بھٹو کو پھانسی دے کر شہید کر دیا گیا جبکہ نواز شریف سے ان کی سیاسی ساکھ چھین کر انہیں زندہ اور چلتا پھرتا شہید بنا دیا گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ قبل از وقت انتخابات کی باتیں صوبے کو نئی حلقہ بندیوں کی صورت میں ملنے والی 5اضافی نشستوں کے خلاف سازش کا حصہ ہیں، پی ٹی آئی پرانی حلقہ بندیوں پر انتخاب چاہتی ہے لیکن ان کی خواہش سے صوبے کو نقصان ہو گا، میں بھی جانتا ہوں کہ نئی حلقہ بندیوں سے میرے حلقے کا ووٹ بینک کم ہو سکتا ہے لیکن صوبے کی خاطر مجھے یہ نقصان قبول ہے۔انہوں نے کہا کہ آئندہ الیکشن کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتیں چہ میگوئیوں میں مصروف ہیں اور اب تو پیپلز پارٹی نے بھی پینترا بدل دیا ہے جبکہ کچھ جماعتیں انتخابات کا التوا ء بھی چاہتی ہیں ، الیکشن تاخیر سے ہوئے تو قومی حکومت یا ٹیکنو کریٹ حکومت بنائی جائے گی جس کی آئین میں کوئی گنجائش نہیں ، انتخابات کا التواء ملک کیلئے نقصان دہ ہوگا۔تمام حکومتوں کو اپنی مقررہ مدت پوری کرنی چاہئے اور اپنے وقت پر الیکشن کا انعقاد ہی ملک و قوم کے مفاد میں ہے۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف صبر وتحمل کا مظاہرہ کریں اور اداروں کے درمیان ٹکراؤ کی پالیسی سے گریز کریں۔اداروں کے درمیان ٹکراؤ سے نقصان صرف ملک کو ہو گا۔ سابق صدر آصف زرداری نے نواز شریف کے خلاف جو باتیں کیں وہ انہیں زیب نہیں دیتیں اور ان کے مشیر زرداری کو غلط فیصلے دے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن سے معافی مانگنے کے بعد عمران خان ’’ معافی خان‘‘  ہو گئے ہیں۔سیاسی رہنماؤں کے خلاف گندی بان استعمال کرنے والے شخص کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں اور اسے معافی کا مشورہ دینے والے ہی در حقیقت اس کے دشمن ہیں ۔ حاجی غلام بلور نے کہا کہ اے این پی کا فاٹا انضمام کے حوالے سے موقف بڑا واضح ہے اور قبائلی عوام کو بنیادی انسانی ضروریات کی فراہمی کیلئے ان کا خیبر پختونخوا میں انضمام ازحد ضروری ہے ۔ انضمام کی راہ میں روڑے اٹکانے والے قبائلی عوام کے خیر خواہ نہیں ہو سکتے۔ مولانا فضل الرحمن نے یوٹرن لینا سیکھ لیا ہے ۔پہلے ریفرنڈم کی باتیں کرتے رہے اور اب وہ فاٹا کو الگ صوبہ بنانے کی تگ و دو میں لگ گئے ہیں ۔ اگر مولانا چپ کا روزہ رکھ لیں تو فاٹا کا مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔ فاٹا کو الگ صوبہ بنانے سے فیڈریشن کیلئے مسائل پیدا ہونگے اور بلوچستان اور سندھ سے بھی الگ صوبے کی بازگشت سامنے آئے گی جبکہ خیبر پختونخوا میں تو پہلے ہی ایسے اعلانات سامنے آ چکے ہیں۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اے این پی کسی مائنس فارمولے کی حمایت نہیں کرتی ۔ مائنس ون یا مائنس ٹو کسی بھی سیاسی جماعت کو ختم کرنے کیلئے کافی ہوتا ہے ۔ اگر عمران خان کو مائنس کر دیا جائے تو پی ٹی آئی کی کیا حیثیت رہ جائے گی۔کراچی کی موجودہ صورتحال کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے مرکزی سینئر نائب صدر نے کہا کہ صورتحال اب بھی وہی ہے فرق صرف اتنا ہے کہ ایم کیو ایم کا ڈائریکٹر پہلے ایک تھا اب دو ہو گئے ہیں اور الطاف حسین کے بعد مشرف بھی میدان میں آگئے ہیں۔ایم ایم اے بحالی کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی تیسری قوت چاہے تو شاید ایم ایم اے بحال ہو سکتی ہے ورنہ دوسری کوئی صورت ان کے پاس نہیں ۔ حاجی بلور نے کہا کہ 2018کے سیاسی منظر نامے میں انہی سیاسی جماعتوں کو دیکھ رہا ہوں جو اپنے تئیں کوششیں یا جدوجہد کرتی رہیں گی جبکہ دوسروں کا کندھا استعمال کرنے والوں کا کوئی سیاسی مستقبل نہیں ہوگا۔پختونوں کے بلاک شناختی کارڈز کا خصوصی طور پر ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پونے تین لاکھ شناختی کارڈز بلاک کئے گئے لیکن اب جو کارڈ بحال ہونا شروع ہوئے ہیں ان کا نام نادرا کے ریکارڈ سے پہلے ہی ڈیلیٹ کر دیا گیا تھا جس کے نتیجے میں بحال ہونے والے شناختی کارڈز پر پاسپورٹ کا اجراء نہیں ہو پا رہا۔ انہوں نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ پختون مملکت پاکستان کا حصہ ہیں لہٰذا امتیازی سلوک سے گریز کرتے ہوئے ان کا مسئلہ حل کیا جائے ۔

مزید : قومی


loading...