دبئی کی مسجد میں بھاگتی ہوئی نوجوان لڑکی کی آمد، لوگوں نے پریشانی کی وجہ پوچھی تو ایسی شرمناک ترین بات بتادی کہ ہر کوئی دنگ رہ گیا

دبئی کی مسجد میں بھاگتی ہوئی نوجوان لڑکی کی آمد، لوگوں نے پریشانی کی وجہ ...
دبئی کی مسجد میں بھاگتی ہوئی نوجوان لڑکی کی آمد، لوگوں نے پریشانی کی وجہ پوچھی تو ایسی شرمناک ترین بات بتادی کہ ہر کوئی دنگ رہ گیا

  



دبئی سٹی(مانیٹرنگ ڈیسک)عراق سے تعلق رکھنے والی ایک ماں، بیٹی متحدہ عرب امارات میں ایسا شیطانی دھندہ کرتی پکڑی گئی ہیں کہ سن کر ہی انسان کا سر شرم سے جھک جائے۔ گلف نیوز کے مطابق 64 سالہ عراقی خاتون عراق سے نوعمر لڑکیوں کو نوکری دلوانے کے بہانے متحدہ عرب امارات لاتی تھی اور اپنی 31 سالہ بیٹی کے حوالے کردیتی تھی، جو انہیں جسم فروشی کے دھندے پر لگا دیتی تھی۔

اس مکروہ کاروبار کا انکشاف اس وقت ہوا جب ایک 16 سالہ لڑکی قحبہ خانے سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئی۔ وہ بھاگ کر الخوانیج کے علاقے میں واقع ایک مسجد میں جا پہنچی، جہاں اس کی دردناک داستان سن کر ایک فلسطینی خاتون اسے اپنے ساتھ لے کر پولیس سٹیشن گئی۔

وہ عرب ملک جہاں پاکستانی مردوں کو عورتوں کے کپڑے اور میک اپ پہنا کر ان سے مردوں کا مساج کروایا جاتا ہے جس کے بعد۔۔۔ انتہائی شرمناک ترین کاروبار پہلی مرتبہ منظر عام پر آگیا

لڑکی نے پولیس کو بتایا کہ ادھیڑ عمر عراقی خاتون اس کا جعلی پاسپورٹ اور دیگر دستاویزات بنا کر اسے متحدہ عرب امارات لائی تھی۔ دبئی میں ادھیڑ عمر خاتون نے اسے اپنی بیٹی کے حوالے کردیا جو جسم فروشی کا اڈہ چلاتی تھی۔ وہاں متعدد نوعمر لڑکیاں موجود تھیں جن سے زبردستی مکروہ دھندہ کروایا جاتا تھا۔

پولیس نے لڑکی کی دی گئی معلومات پر کارروائی کرتے ہوئے چھاپہ مار کر 31 سالہ عراقی خاتون کو گرفتار کرلیا جبکہ محبوس کی گئی نوعمر لڑکیوں کو بھی بازیاب کروالیا گیا۔ ان لڑکیوں کی عمریں 15 سے 17 سال کے درمیان ہیں اور ان تمام کو عراق سے نوکری کے بہانے جھانسہ دے کر متحدہ عرب امارات لایا گیا تھا۔

بازیاب کروائی گئی لڑکیوں میں سے دو آپس میں بہنیں ہیں۔ بڑی بہن، جس کی عمر 16 سال ہے، نے پولیس کو بتایا کہ متحدہ عرب امارات پہنچتے ہی قحبہ خانے چلانے والی خاتون نے انہیں قابل اعتراض ملبوسات پہنا کر ایک پارٹی میں پہنچادیا۔ لڑکی کا کہنا تھا کہ وہاں بہت سے مرد تھے، جن کے سامنے ان سے رقص کروایا گیا۔ کچھ دیر بعد اس کی چھوٹی بہن کو ساتھ والے کمرے میں لیجایا گیا اور اس کے ساتھ زیادتی کی گئی۔ بعدازاں ان کی عصمت دری کا سلسلہ جاری رہا اور قحبہ خانہ چلانے والی لڑکی ان کی جسم فروشی کے عوض ہر گاہک سے 1500 درہم سے لے کر 6000 درہم تک کی رقم وصول کرتی تھی۔ گرفتار ملزمہ کے خلاف قانونی کارروائی جاری ہے، تاہم اس کی ماں تاحال مفرور ہے۔

مزید : عرب دنیا