دھرنے والوں سے مذاکرات چل رہے ،جلد نتیجہ نکل آئیگا ، ملک میں ’’ستیاناس اور بیڑہ غرق برگیڈ‘‘ کی قطعی گنجائش نہیں:احسن اقبال

دھرنے والوں سے مذاکرات چل رہے ،جلد نتیجہ نکل آئیگا ، ملک میں ’’ستیاناس اور ...
 دھرنے والوں سے مذاکرات چل رہے ،جلد نتیجہ نکل آئیگا ، ملک میں ’’ستیاناس اور بیڑہ غرق برگیڈ‘‘ کی قطعی گنجائش نہیں:احسن اقبال

  



اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہاہے کہ دھرنے والوں سے مذاکرات چل کررہے ہیں ، جلد کوئی نتیجہ نکل آئیگا ، مذاکرات ناکام ہوئے تو انتظامیہ مناسب کارروائی کریگی  ،کوشش ہے طاقت کا استعمال نہ کیا جائے ،قومی ترقی کیلئے سیاسی استحکام اور پالیسیوں کا تسلسل ناگزیر ہے ، پاکستان میں کسی ’’ستیاناس اور بیڑہ غرق برگیڈ‘‘ کی قطعی گنجائش نہیں ۔

تفصیلات کے مطابق شاعر مشرق علامہ اقبالؒ کے  140 ویں یوم پیدائش کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب اور صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے  وزیر داخلہ احسن اقبال  نے کہاکہ طاقت کے استعمال سے جانی نقصان کا خطرہ ہوتا ہے،اسلام آباد میں  دھرنے والوں سے مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے اور امید ہے کہ جلد مثبت حل نکلے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو انتظامیہ مناسب کارروائی کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ وزیر قانون نے ایسی کوئی بات نہیں کی جس پر وہ مستعفی ہوں، کل 153 افراد کھڑے ہو کر میرے استعفیٰ کا مطالبہ کر دیں گے، اس لئے ان کا مطالبہ درست نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سیاسی استحکام اور پالیسیوں کے تسلسل کو برقرار نہیں رکھا گیا، یہی وجہ ہے کہ پاکستان ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہا اور ہر دہائی کے بعد ملک آمریت کا شکار ہوتا رہا اور جمہوریت کو پھلنے پھولنے کا موقع نہیں ملا، جب ہم نے 2025 وژن دیا اور کہا کہ 2025ء تک پاکستان دنیا کی 25 بڑی معیشتوں میں شامل ہو جائے گا تو بقراطوں اور سقراطوں نے ہمارا مذاق اڑایا لیکن آج عالمی ادارے پاکستان کی معیشت کو ترقی کی جانب بڑھتا ہوا تسلیم کر رہے ہیں اور رپورٹ کر رہے ہیں کہ ترقی کی یہی رفتار رہی تو 2030ء تک پاکستان صف اول کی معیشتوں میں شمار ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری ذمہ داری ہے کہ مایوسی کی آواز کو رد کریں اور امید کے ساتھ چلیں، کامیابی ہمارا مقدر ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ حکیم الامت علامہ محمد اقبالؒ نے ایک طرف فکر کی تعلیم دی اور دوسری جانب خودی کا پیغام دیا ،  جو قومیں مثبت سوچ کو ترک کر دیتی ہیں وہ ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ جاتی ہیں، مثبت سوچ اپنائے بغیر تعمیر ملت ممکن نہیں ہوتی۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ علامہ اقبال نے پوری قوم کو ترقی کے لئے بیدار کیا اور ہمیں آج یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ اقبال نے ہمارے لئے کیا پیغام چھوڑا ہے؟۔ انہوں نے کہا کہ آج اللہ کے فضل و کرم سے پاکستان ابھر رہا ہے، یہی وہی پاکستان ہے جو چار سال پہلے 20 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ تھی، اب یہاں 20 گھنٹے بجلی آتی ہے، درجنوں لوگ دہشت گردی کا نشانہ بنتے تھے لیکن اس ابھرتے پاکستان میں امن آیا ہے اور اس ابھرتے پاکستان کی معیشت مضبوط ہو رہی ہے، آج پاکستان ڈوب نہیں رہا بلکہ ابھر رہا ہے، پاکستان میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری آ رہی ہے، ہم نے اقبالؒ کے پیغام پر عمل پیرا ہوتے ہوئے پاکستان کو آگے لے جانے کے لئے زیادہ سے زیادہ محنت کرنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو آگے لے جانے کے لئے ہمیں اپنی آگے والی قوموں سے تیز دوڑنے کی ضرورت ہے، دوڑ میں پیچھے رہ جانے والوں کو اپنی تاخیر نکالنے کے لئے دوڑ کی رفتار تیز کرنا پڑے گی۔  انہوں نے کہا کہ جو یونین کونسل کا انتظام نہیں چلا سکتے انہوں نے اس لیپ ٹاپ سکیم کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ موجودہ حکومت کے دور میں انفراسٹرکچر کی ترقی پر بھرپور توجہ دی گئی کیونکہ کنیکٹیویٹی کے بغیر ترقی ممکن نہیں ہوتی، لوگوں کا روزگار، سرمایہ کاری، معاشی ترقی اور معیار زندگی، روڈ انفراسٹرکچر کی ترقی سے منسلک ہوتاہے، آج خنجراب سے گوادر تک ملک کے چاروں صوبوں میں کنیکٹیویٹی ہے، چین سے اسلام آباد تک فائبر آپٹک بچھائے جا رہے ہیں۔

مزید : قومی


loading...