رابطہ کمیٹی کے رویے سے دکھی فاروق ستار نے سیاست سے کنارہ کشی کا اعلان کردیا

رابطہ کمیٹی کے رویے سے دکھی فاروق ستار نے سیاست سے کنارہ کشی کا اعلان کردیا
رابطہ کمیٹی کے رویے سے دکھی فاروق ستار نے سیاست سے کنارہ کشی کا اعلان کردیا

  



کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار نے سیاست سے دستبردار ہونے کا اعلان کردیا ، میں لندن والے کی طرح سیاسی ڈرامے بازی نہیں کروں گا ، اس لئے آج حضرت امام حسین کی چہلم کے موقع پر میں سیاست سے کنارہ کش ہو رہا ہوں ، ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی اور متحدہ کے کارکنوں کو مبارک ہو، میں اپنی عزت بچانے کے لئے میں پارٹی کی سربراہی اور سیاست سے دستبردار ہونے کا اعلان کرتا ہوں۔ 

متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ فاروق ستار نے اپنی رہائش گاہ کے باہر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سیاست چھوڑنے کا اعلان کردیا، فاروق ستار کا کہنا تھا کہ رابطہ کمیٹی کے تمام لوگ میرے محترم ہیں مگر کسی نے مجھے وہ احترام نہیں دیا ، میں اپنی عزت بچانے کے لئے سیاست سے کنارہ کشی اختیار کر رہا ہوں، میڈیا اور سوشل میڈیا پر میرے اس اعلان کے بعد تبصرے ہو ں گے لیکن میں سب کو بتا دوں کہ میں لندن والے کی طرح ڈرامے باز نہیں ہوں اور میں ایم کیو ایم کی سربراہی اور سیاست سے علیحدہ ہو رہا ہوں۔ اس سے قبل انہوں نے پی ایس پی کے سربراہ مصطفیٰ کمال کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ گزشتہ روز پریس کلب میں مہاجروں کے مینڈیٹ کی جس طر ح  تذلیل ہوئی،ایسا پہلے کبھی نہیں دیکھا ، ایم کیو ایم کہیں پر نہیں جا رہی ، ہم مہاجروں کی بقا اور سلامتی کے لیے سیاست کررہے ہیں، پی ایس پی کے صدر مصطفیٰ کمال نے مفاہمتی فضا میں باریک کام کیا،مصطفیٰ کمال نے لینڈ کروزر کا ذکر کیا، مجھے گاڑی خریدنے کے لیے نصف سے زائد قیمت کسی اور نے دی، گاڑی کو بلٹ پروف کرانے کے لیے 40 لاکھ روپے میرے رکن قومی اسمبلی نے مجھے دیئے، اس کے برعکس مصطفیٰ کمال کی لینڈ کروزر سوا 3 کروڑ روپے کی ہے۔

 ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ  الطاف دشمنی میں اتنا آگے نہ جائیں کہ مہاجروں کے میڈیٹ کی تذلیل کریں،میں مائیک لیکر کہہ سکتا تھا کہ ایم کیو ایم 22 اگست تک ضرور الطاف حسین صاحب  کی تھی اور 23 اگست کے بعد یہ ایم کیو ایم نہ میری ہے نہ تیری ہے، یہ پاکستان بنانے والوں کی اولادوں کی ہے۔انہوں نے مصطفیٰ کمال کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آپ کوئی بھی نام رکھ لیں لیکن آپ نے بھی 30 سال تک ان ہی لوگوں کے ساتھ سیاست کی ہے، ان شہیدوں کا کیا قصور تھا؟  کم از کم آپ کو ان کے گھروں پر تو جانا چاہیے تھا، مصطفیٰ کمال نے پارٹی کے دیے گھر کی رقم نہیں لوٹائی، وہ بتائیں خیابان سحر کا گھر اور آفس کیسے آیا ؟ ہم آئین پاکستان، پاکستان زندہ باد کے نعرے کے ساتھ کھڑے ہوئے، پاکستان کی سیاست کرنے کے لیے کھڑے ہوئے، ایک سال میں 80 فیصد ایم کیو ایم کو جوڑ کر رکھا۔انہوں نے کہا کہ میں نے آل پاکستان مہاجر اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آج سے 38 سال پہلے سندھ میڈیکل کالج میں شمولیت اختیار کی تھی، تاریخ کے اوراق میں میراسیاسی سفر محفوظ ہے، نشتر پارک کے جلسے سے ایم کیوایم عوامی جماعت بنی۔’1968 سے لے کر اب تک پی آئی بی کا گھر ہی میری جائیداد ہے، میرے اس گھر میں بھائی بہن بھی حصہ دار ہیں، جبکہ مکان اوربینک اکاؤنٹ کے علاوہ میری ڈائری بھی اپنی نہیں، خود پر قائم ایک بھی مقدمہ انہوں نے این آر او کے تحت ختم نہیں کروایا۔ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ میں نے خود کو احتساب کے لئے پیش کردیا ہے ، باقی پارٹیوں کے سربراہ بھی اپنا حساب دیں ۔ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا تھا کہایم کیو ایم پاکستان سینیٹ کی تیسری بڑی، سندھ کی دوسری بڑی جبکہ سندھ کے شہری علاقوں کی سب سے بڑی جماعت ہے

مزید : قومی /اہم خبریں