حکومتی اور اپوزیشن اراکین کے درمیان گالم گلوچ ،حکومت نے ممبران اسمبلی کو ’’ راہ راست ‘‘ پر لانے اور ’’اچھا بچہ ‘‘ بنانے کے لئے ایسا کام کرنے کا اعلان کر دیا کہ جان کر آپ بھی کہیں گے ’’واہ واہ ‘‘ کمال اے

حکومتی اور اپوزیشن اراکین کے درمیان گالم گلوچ ،حکومت نے ممبران اسمبلی کو ’’ ...
حکومتی اور اپوزیشن اراکین کے درمیان گالم گلوچ ،حکومت نے ممبران اسمبلی کو ’’ راہ راست ‘‘ پر لانے اور ’’اچھا بچہ ‘‘ بنانے کے لئے ایسا کام کرنے کا اعلان کر دیا کہ جان کر آپ بھی کہیں گے ’’واہ واہ ‘‘ کمال اے

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )قومی اسمبلی میں حکومتی اور اپوزیشن اراکین اسمبلی کے درمیان تلخ کلامی کا سلسلہ دودن سے جاری ہے اور دونوں جانب سے اشتعال انگیز بیانات کا سلسلہ جاری ہے تاہم حکومت نے ایسی صورتحال میں انتہائی احسن قدم اٹھا یا ہے۔وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے کہا کہ جمعہ کو اراکین کے لیے پارلیمنٹ کی مسجد میں بیان کا بندوبست کیا گیا ہے۔

تفصیل کے مطابق گزشتہ دو روز سے اراکین اسمبلی کی جانب سے تندو تیز بیانات کا سلسلہ جاری ہے جس کو ختم کرانے کے لیے پرویز خٹک اخلاقیات کمیٹی کی تجویز دی تھی جس پر اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے بھی پرویز خٹک کی تائید کی۔اس حوالے سے علی محمد خان نے اعلان کیا ہے کہ جمعہ کو قومی اسمبلی کی مسجد میں سابق ٹیسٹ کرکٹرز سعید انور اور محمد یوسف بیان دیں گے۔ انہوں نے تمام اراکین اسمبلی سے گزارش کی کہ وہ بیان سننے مسجد میں تشریف لائیں۔

واضح رہے کہ مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے بھی قومی اسمبلی میں اعتراف کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں وزیر دفاع کی تجویز کی تائید کرتا ہوں، ہمیں تعمیری باتیں کرنی چاہئیں، جمہوریت اور آئین کی خاطر رویوں میں تبدیلی ضروری ہے، قومی اسمبلی میں کچھ دنوں سے دونوں جانب سے غیر پارلیمانی زبان استعمال کی جا رہی ہے،ایوان میں گالم گلوچ سےقوم میں مایوسی پیدا ہوئی ہے،گالم گلوچ سے صرف ذاتی تسکین ہوتی ہے، قوم کو جو پیغام دیا جا رہا ہے اس سے جمہوریت کی خدمت نہیں ہو رہی ہے۔

مزید : قومی