بیمارجنرل پرویز مشرف کے لئے نرم گوشہ

بیمارجنرل پرویز مشرف کے لئے نرم گوشہ
بیمارجنرل پرویز مشرف کے لئے نرم گوشہ

  

کمرے میں موسیقی کی خوشبو بکھری ہوئی تھی، سبھی لوگ کسی نہ کسی حوالے سے موسیقی سے وابستہ تھے۔ڈھولک نواز ردھم چھیڑنے کے لئے بازو چڑھا چکا تھا۔۔۔ مَیں نے بھی انگلیاں ہارمونیم پر جما دیں، دُھن اور بول ایک دوسرے کے ساتھ بغلگیر ہوئے تو ردھم والے نے بھی بھرپور ساتھ دیا۔۔۔ سامنے ٹی وی چل رہا تھا، مگر ہم نے اس کی آواز بند کر رکھی تھی، تاکہ موسیقی کے کام میں خلل نہ پڑے، مگر ترچھی نگاہوں سے ہر ایک سکرین کی طرف بھی دیکھ رہا تھا، کسی اشتہار میں اگر کوئی خوبصورت لڑکی نظر آتی تو بعض دوست آنکھوں ہی آنکھوں میں اسے دِل میں بھی اتارنے کی کوشش کرتے، مگر حقیقی دھیان دھن اور الفاظ کے علاوہ اب ردھم کی طرف تھا،

مَیں نے الاپ اٹھایا تو ایک دو بار کے الاپ کے بعد اندازہ ہوا کہ ہم ایک گیت تخلیق کرنے میں کامیاب ہو چکے ہیں، تمام احباب نے حسبِ عادت تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملا دیئے،ہم نے بھی روایتی شکریے کے ساتھ خود کو ساتویں آسمان پر محسوس کیا۔۔۔ اور لڑکے کو چائے کا آرڈر دیتے ہوئے ایک بار پھر ہارمونیم پر انگلیاں رکھ دیں۔۔۔مگر یہ کیا۔۔۔ اچانک ٹی وی کی سکرین پر مکھیاں ناچنے لگیں۔۔۔ ہم نے لڑکے سے ٹی وی بند کرنے کا کہا ہی تھا کہ اچانک لائٹ چلی گئی۔۔۔ نجانے میری چھٹی حس نے مجھے کِسی گڑ بڑ کا احساس کیوں دلایا۔۔۔حالانکہ ہمارے ہاں بجلی جانے یا ٹی وی سکرین پر مکھیاں اُڑنے کی بات کوئی نئی نہیں ہے۔گھر کی منڈیر پر کوا آ بیٹھے تو ٹی وی گیا۔۔۔ اور اگر کسی تار یا کھمبے پر چڑیا پھڑ پھڑائے تو بجلی گئی۔۔۔ مَیں نے بجلی کمپنی کے آفس فون ملایا تو معلوم ہوا فون بھی مرا پڑا ہے۔

دس پندرہ منٹ بعد جب ہم لوگ کمرے سے نکل کر برآمدے میں آئے اور باہر کا منظر دیکھا تو گھپ اندھیرے میں نیلی پیلی روشنی والی گاڑیاں سڑک پر بھاگتی نظر آئیں۔۔۔ ٹریفک بھی نہ ہونے کے برابر اور لوگ بھی ضرورت سے زیادہ بھاگتے دوڑتے نظر آئے اور پھر ساتھ کے آفس کے ایک لڑکے نے آ کر اطلاع دی کہ نواز شریف کا تختہ اُلٹ دیا گیا ہے اور جنرل پرویز مشرف نے قبضہ کر لیا۔۔۔ پھر رات گئے بتایا گیا کہ نواز شریف نے مُلک کو تباہ کر دیا تھا اور مسلسل غیر قانونی حکم نامے جاری کر رہے تھے اب تو انہوں نے آرمی چیف کو بھی ان کے عہدے سے ہٹاتے ہوئے اپنی پسند کا آرمی چیف لگایا تو جنرل پرویز مشرف نے ساتھیوں کی مدد سے نواز شریف کو ہٹا دیا ہے اور اب اس کی حکومت ختم ہو گئی ہے۔

دوسرے دن معلوم ہوا کہ جنرل پرویز مشرف نے مُلک کے منتخب وزیراعظم کو معزول کرتے ہوئے اقتدار سنبھال لیا ہے اور نواز شریف پورے خاندان سمیت جیل میں بند ہیں۔جنرل پرویز مشرف نے کچھ دن روایتی انداز میں گفتگو کی۔۔۔ مگر آہستہ آہستہ ان کے حسن پر نکھار آنے کے ساتھ ساتھ ان کی گفتگو میں بھی ‘‘سیاست‘‘ کے رنگ دکھائی دینے لگے، وہ جو بظاہر ’’مجھے دھکا کس نے دیا‘‘ کے نعرے کے ساتھ اقتدار میں آئے تھے، اب مُلک ’’سنوارنے‘‘ کے راستے پر چل نکلے،ان کے اقتدا میں آتے ہی یہ بات بھی سنائی دینے لگی کہ جنرل پرویز مشرف بڑے بڑے لوہے کے پنجرے بنوا رہے ہیں، جن میں ’’مُلک دشمن‘‘ سیاست دانوں کو بند کر کے بڑے بڑے شہروں کے چوراہوں پر ہر خاص و عام کے لئے عبرت کا نمونہ بنا دیں گے۔

مگر چند دِنوں بعد انہوں نے پورے مُلک کو جنگل میں بدل دیا اور جنگل میں منگل کا سماں باندھنے کے لئے چند سیاست دانوں کو اپنے قریب کر لیا۔۔۔ اس وقت کے کئی نمایاں سیاست دان جو اتفاق سے اقتدار میں ہیں،انہیں آپ ’’مشرف کی باقیات‘‘ کہہ سکتے ہیں۔یہی وہ لوگ تھے، جنہوں نے جنرل پرویز مشرف کو ’’ہزاروں سال‘‘ تک ’’صدر‘‘ بنانے کے اعلانات کئے، یہی وہ لوگ تھے جنہوں نے جنرل پرویز مشرف کو ’’قوم کا مسیحا‘‘ ثابت کرتے ہوئے انہیں پاکستان کے لئے ایک ’’غیبی طاقت‘‘ کا نام دیا۔ وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید تو جنرل پرویز مشرف کا نام لینے سے پہلے باقاعدہ وضو کرتے تھے، کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ ’’سید پرویز مشرف‘‘ ایک ’’خدائی تحفہ‘‘ ہیں، انہی لوگوں کی مشاورت اور قوت کے بعد جنرل پرویز مشرف نے ایک بار نہیں دو بار آئین معطل کیا، اتنی طاقت کے باوجود وہ چک شہزاد میں گھر بنانے میں تو کامیاب ہو گئے، مگر عوام کے دِلوں میں اپنا گھر نہ بنا سکے،

انہیں اپنی بھرپور طاقت کے باوجود معلوم تھا کہ اگر بے نظیر بھٹو اور نواز شریف وطن واپس آ گئے تو وہ ’’پردیسی‘‘ ہو جائیں گے۔ سو انہوں نے اپنی ہر تقریر میں کہا کہ اِس مُلک میں یا نواز شریف اور بے نظیر بھٹو رہ سکتے ہیں یا پھر مَیں۔یہ ممکن ہی نہیں کہ ہم تینوں ایک مُلک میں رہ سکیں۔ یہ وہ واحد جملہ تھا،جو اپنی حقیقی شکل میں سامنے آیا،یعنی جب حالات ایسے بن گئے کہ نہ چاہتے ہوئے بھی انہیں نواز شریف اور بے نظیر بھٹو کو واپسی کا راستہ دینا پڑا، اور پھر ان کی بات پوری ہو گئی۔۔۔ اور وہ ’’پردیسی‘‘ ہو گئے، ان کے پردیسی ہونے کے بعد ان کے خلاف قانون حرکت میں آیا، عدالت نے انہیں ان کی شرائط پر واپس آنے کی رعایت دی،مگر جواباً انہوں نے کہا کہ وہ بیوقوف نہیں ہیں، انہیں معلوم ہے کہ واپسی پر ان کے ساتھ کیا ’’ہاتھ‘‘ ہو سکتا ہے، وہ اس’’ہاتھ‘‘ کے خوف سے اس وقت ’’پردیس‘‘ میں ہیں،ان کی ظاہری حالت سے لگتا ہے کہ وہ بہت بیمار ہیں۔

گزشتہ رات جناب مجیب الرحمن شامی کے پروگرام میں خبر کا ایک ’’کلپ‘‘ دیکھ کر خوف کی ایک لہر میرے بدن میں ٹھہر گئی۔۔۔ مَیں سوچنے لگا، یہی وہ آدمی ہے جس نے اِس ملک کے ساتھ کیا کیا نہیں کیا،اس شخص نے اقتدار اور طاقت کے گھمنڈ میں کہا تھا۔۔۔ تمہیں معلوم ہی نہیں ہو گا کہ ’’گولی‘‘ کدھر سے آئی ہے اور پھر آج تک معلوم نہیں ہو سکا کہ اکبر بگٹی کو لگنے والی گولی کدھر سے آئی تھی۔ یہی جملہ ہمارے وزیر اطلاعات فواد چودھری نے گزشتہ روز لبیک والوں کے دھرنے کے حوالے سے بھی کہا تھا۔۔۔ میرے خیال میں ہمارے حکمران طبقے کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ بادشاہی صرف میرے رب کی ہے۔ اونچے بول نہ بولا کریں۔۔۔ اللہ کی گرفت انسان کے آس پاس ہی ہوتی ہے۔سو اپنے معاملات میں نرمی اور انصاف پیدا کرو۔۔۔

اور سمجھنے کے لئے، سوچنے کے لئے، جنرل پرویز مشرف کے موجودہ ’’حالات‘‘ دیکھ لو۔۔۔ کیا یہ وہ شخص نہیں ہے،جس کے ایک اشارے پر پورے مُلک میں اپنی مرضی کی ’’تبدیلی‘‘ لائی جاتی تھی؟ مجھے جناب مجیب الرحمن شامی کے ان خیالات سے مکمل اتفاق ہے کہ ہمیں جنرل پرویز مشرف کے ساتھ انسانی بنیادوں پر معاف کر دینے کا رویہ اختیار کرنا چاہئے۔ انہوں نے جن جن کے ساتھ ’’زیادتی‘‘ کی سب کو معاف کر دینا چاہئے۔ میرے خیال میں سابق وزیراعظم میاں نواز شریف جو خود خاندان سمیت خدا جانے کس ’’جرم‘‘ کی سزا بھگت رہے ہیں۔۔۔۔۔۔

دیکھا جائے تو جنرل پرویز مشرف قوم کے ساتھ ساتھ نواز شریف کے بھی ’’مجرم‘‘ ہیں، لہٰذا نواز شریف کو بڑے دِل سے کام لیتے ہوئے، جنرل پرویز مشرف کو واپس لانے کا مطالبہ کرنا چاہئے اور حکمرانوں کو بھی چاہئے کہ جنرل پرویز مشرف کے کیسز کے حوالے سے زیادہ جذباتی نہ ہوں۔۔۔کچھ بھی ہو۔۔۔ وہ ہماری پاک فوج کے سپہ سالار تھے، مگر ان بیماریوں نے انہیں ’’لاچار‘‘ کر دیا ہے۔ ان حالات میں اگر وہ اپنے مُلک آنا چاہتے ہیں تو انہیں آرام سے آنے دینا چاہئے۔ جنرل پرویز مشرف کو بھی چاہئے کہ وہ بھی اپنی طرف سے کی جانے والی زیادتیوں، ناانصافیوں پر پوری قوم سے معذرت کرتے ہوئے زندگی کے باقی دن وطن میں گزارنے کا اعلان کریں۔

مزید :

رائے -کالم -