’’ہیرو سے زیرو‘‘

’’ہیرو سے زیرو‘‘
’’ہیرو سے زیرو‘‘

  

گزرے دِنوں سابق ٹیسٹ کرکٹ کھلاڑی اور’’قومی ہیرو‘‘ ،اپنے وقت میں سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے سپنر ،دانش کنیریا نے چھ سال تک بے گناہی کا راگ الاپنے کے بعد بالآخر تسلیم کرلیا کہ ان پر لگائے گئے سپاٹ فکسنگ کے الزامات درست ہیں۔تاحیات پابندی کے شکار دانش کنیریاانگلش کلب الیکس کے سب سے زیادہ معاوضہ لینے والے،انٹر نیشنل کرکٹ میں سرگرم اور لاکھوں کی آمدن کے ساتھ پرتعیش زندگی گزارنے والے کھلاڑی تھے۔ کروڑوں شائقین کے آئیڈیل اور ہیرو،اپنے والداور خاندان کا فخر تھے۔لاکھوں کما رہے تھے اور سیدھے راستے چلتے رہتے تو نہ صرف کروڑوں کماتے،بلکہ ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد بھی کرکٹ کوچ، انسٹرکٹر یا ٹیم منیجر بن کر بھی باعزت کمائی کرتے رہتے، لیکن بُرا ہو لالچ کا، معلوم نہیں ان کو کتنی دولت درکار تھی اور وہ بھی فوری۔

سونے کے انڈے دینے والی مرغی کو حلال کر بیٹھے۔مشہور بکی انوبھٹ سے یاری گانٹھ لی،اس سے رقم لے کر اپنے پیشے اور وطن سے غداری کرتے رہے۔نہ صرف خود بلکہ اپنے انگلش کلب الیکس کے ساتھی کرکٹر ویسٹ فیلڈ کو بھی انوبھٹ سے متعارف کر ا دیا کہ ان سے بھی سودے بازی کرلو۔آخر پکڑے گئے،ویسٹ فیلڈ تو جیل کی ہوا کھانے کے بعد پانچ سال کے لئے انٹرنیشنل کرکٹ کھیلنے سے محروم ہوئے، لیکن دانش کنیریا تاحیات کرکٹ کھیلنے کے لئے نااہل قرار پائے، کیونکہ انہوں نے ویسٹ فیلڈ کی طرح اپنا جرم تسلیم نہیں کیا،بلکہ مسلسل یہی کہتے رہے کہ ’’مَیں نے کچھ نہیں کیا،مجھے کیوں نکالا‘‘اب چھ سال بعد فرماتے ہیں کہ مجھے ٹھیک نکالا، میں اپنے والد کی زندگی میں یہ جرم تسلیم نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اب دانش کنیریا بھول گئے ہیں تو ہم یاد دلا دیتے ہیں کہ الزامات 2012 ء میں لگے، جبکہ ان کے والد 2013ء میں فوت ہوئے، اگر ایسا تھا تو والد کے انتقال کے فوری بعد جرم قبول کرتے، جبکہ ان کو والد کے جانے کے پانچ سال بعد اب معافی یاد آئی ہے۔

صرف دانش کنیریا ہی نہیں ،اس لائن میں اپنے وقت کے بڑے بڑے ’’ہیرو‘‘ مثلاً محمد آصف،عطاالرحمن،ناصر جمشید سمیت دو کپتان سلیم ملک اور سلمان بٹ بھی کردار کے ’’زیرو‘‘ اور مجرم بن کر کھڑے ہیں۔کہانی سب کی ایک ہے۔اچھے بھلے لاکھوں کروڑوں کماتے کماتے ،موجود اور آنے والی دولت سے ہاتھ دھو بیٹھے ۔ موجود اس تناظر میں کہ جرمانوں ، عدالتوں اور مقدموں کے چکر میں سب کچھ جاتا رہتا ہے۔ سلمان بٹ نے لندن کی عدالت میں سوالات کے جواب میں بتایا کہ انہوں نے سات سالہ کیریئر کے دوران12 لاکھ پونڈ کمائے۔

محاورہ ہے’’آدھی چھوڑ ساری کو جائے، آدھی رہے نہ ساری پائے‘‘ یہاں محاورہ بھی غلط ہوگیا، یہ لوگ ساری چھوڑ کر آدھی، بلکہ آدھی سے بھی آدھی کے پیچھے بھاگے اور مڑ کر جب دیکھا تو نہ دولت،نہ عزت،نہ وقار کچھ بھی پلے نہ رہاسوائے گلے میں پڑے ’’قومی مجرم‘‘ کے طوق کے۔یہ لوگ ہمارے دِل توڑنے کے بھی مجرم ہیں ۔ہم لوگ گلے پھاڑ پھاڑ کر نعرے لگا رہے ہوتے ہیں، ہاتھ اُٹھا کر ان کے لئے دُعائیں مانگ رہے ہوتے ہیں۔ہمارے فرشتوں کو بھی علم نہیں ہوتا کہ ان کے جس آؤٹ پر ہم نے بخار چڑھا لیا ہے، اس آؤٹ کے انہوں نے لاکھوں روپے پکڑے ہوئے تھے۔

پاکستان کے پاس بہت ’’ٹیلنٹ‘‘ ہے۔ ان جیسے ایک کے بدلے دس دس ہیں۔ کرکٹ ٹیم کی حالیہ کامیابیوں کو دیکھیں، کیا شاندار نئے کھلاڑی ہیں۔ان نئے کھلاڑیوں کو نصیحت ہے کہ اصل دولت ’’عزت‘‘ ہے۔ اپنے پیشے سے مخلص رہیں گے تو دولت بھی ملے گی،عزت،وقار اور پیار بھی۔ فضل محمود،حنیف محمد،جاوید میاں داد،ظہیر عباس ، عمران خان جیسے کھلاڑیوں کی طرح ’’اصل ہیرو‘‘ بنیں۔آخر میں پھر دانش کنیریا کی بات ۔ فرماتے ہیں کہ مجھے معاف کردیا جائے تاکہ میں کرکٹ میں واپس آکر نئے لڑکوں کو آگاہی دیتا رہوں کہ ’’ اس گلی میں نہ جانا‘‘ہمیں اپنے سابق،بلکہ معزول ہیرو سے کہنا ہے ،’’اب پچھتائے کیا ہوت،جب چڑیاں چگ گئیں کھیت‘‘ اب ٹیسٹ کرکٹ میں تو آپ کی واپسی ناممکن ہے، لیکن کرکٹ میدان میں وقتاً فوقتاً آکر نئے کھلاڑیوں کو ضرور شکل دکھایا کریں،’’دیکھو مجھے جو دیدہ عبرت نگاہ ہو‘‘ جو واقعی عبرت پکڑنا چاہیں گے تو ایسے کاموں سے کوسوں دور رہیں گے،وگرنہ بہتیرے سلمان بٹ،محمد آصف،سلیم ملک، اظہر الدین،ہنسی کرونئے آتے رہیں گے اور’’ہیرو سے زیرو‘‘ بن کر جاتے رہیں گے۔

مزید : رائے /کالم