زرداری کی تازہ خواہش پوری ہو گی؟

زرداری کی تازہ خواہش پوری ہو گی؟
زرداری کی تازہ خواہش پوری ہو گی؟

  

ماضی میں جیل یاترا کے سبب مرد حُر کا خطاب پانے والے سابق صدر آصف علی زرداری کو پھر سے جیل یاد آ رہی ہے، اب تو انہوں نے کہا ہے کہ ان کے گرد گھیرا تنگ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، لیکن وہ اس سے گھبرانے والے نہیں، جیل جانا ہوا تو خود چل کر جائیں گے، ان کی پارٹی والے بھی بار بار جیل ہی کی بات کرتے اور کہتے ہیں کہ ان لوگوں کے لئے جیل کوئی نئی بات نہیں،دوسرے معنوں میں وہ یہ سب کہہ کر کسی کو سمجھانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ایسا نہ کریں، ماضی میں بھی ان حضرات کے خلاف مقدمات اور ریفرنس بنا کر زیر حراست رکھا گیا، لیکن کچھ ثابت نہ ہو سکا، آصف علی زرداری بھی یہی کہتے ہیں کہ ان کے خلاف جو مقدمات بنائے گئے وہ ان میں بری ہو چکے ہوئے ہیں۔

آج کل دراصل منی لانڈرنگ کا بہت زور ہے۔

ادھر اومنی کمپنی کا کھاتہ کھلا ہوا ہے، جس کے چیف انور مجید جیل میں ہیں اور ان کی جیل یاترا کے بھی سکینڈل بن چکے ہیں جیسے شرجیل میمن کا ہسپتال والا سکینڈل بنا تھا، اس منی لانڈرنگ کے سلسلے میں بے نامی اکاؤنٹس کا جو سلسلہ باہر آیا وہ بہت پھیل چکا، پہلے پہل تو یہ محدود ر ہا کہ ایک فالودے والے کا اکاؤنٹ نکل آیا، اس کے بعد تو نوکر، چاکر حضرات کے کئی اکاؤنٹ سامنے آئے پھر ایک اکاؤنٹ ایسے شخص کے نام نکلا جس کو وفات پائے بھی کئی سال ہو چکے ہیں، اومنی گروپ کا سلسلہ چل رہا ہے تو شروع ہی میں ان اکاؤنٹس کا بھی کھاتہ آصف علی زرداری ہی کے حساب میں ڈال دیا گیا، لیکن بہتات ہو گئی اور مُلک کے مختلف شہروں سے ایسی اطلاعات ملیں تو ماہرین نے رائے دی کہ یہ سلسلہ بہت سے حضرات کا ہے اور بہت پرانا ہے۔ اس طرح بلیک منی کو چھپا کر بیرون مُلک بھیجا جاتا ہے اِس لئے یہ اکاؤنٹ اور بھی بہت سے لوگوں کے ہوں گے، آصف علی زرداری تو کہتے ہیں کہ تفتیش کرنے والوں کے مطابق یہ میرے ہیں اور مَیں نے رقوم ڈالی ہیں تو پھر یہ ثابت کرنا پڑے گا ایسا ہوا تو یہ رقوم مَیں کلیم کر کے لے لوں گا (شاید سرے محل میں ایسا ہوا)۔

یہ ذکر عام ہے اور پیپلزپارٹی اس جے آئی ٹی پر اعتراض بھی کرتی چلی آ رہی ہے جو تفتیش کر رہی ہے، تاہم ایک بات غور طلب بھی ہے کہ ماڈل گرل ایان سے برآمد ہونے والی رقم بھی مبینہ طور پر انہی بزرگ ہستی کے کھاتے میں ہے، جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ ایان نے واپسی کا اعلان کیا اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ واپس آ کر ان کے خلاف وعدہ معاف گواہ بن جائے گی تو وہ ہنس پڑے اور پوچھا ’’کس رشتے سے‘‘ اب یہ ہم تو نہیں کہہ سکتے، لیکن الزام لگانے والے کہتے ہیں کہ محترم سابق گورنر سردار لطیف کھوسہ نے خواہ مخواہ تو ایان کی وکالت نہیں کی۔بہرحال یہ سلسلہ جاری ہے اور اب تو فواد چودھری جو خود چھیڑ چھاڑ کے باعث زیادہ مشہور ہو چکے، کہتے ہیں، بابے رحم کریں اور نوجوانوں کو سیاست کرنے دیں۔ انہوں نے زرداری صاحب سے کہا کہ وہ اب اللہ اللہ کریں اور بلاول کو سیاست کرنے دیں۔

آصف علی زرداری کی گیارہ سالہ جیل واقعی ریکارڈ ہے اور اِس حوالے سے بہت کچھ سامنے آ چکا ہے حتیٰ کہ جب وہ لاہور سنٹرل جیل کوٹ لکھپت میں تھے تو ملاقات کے لئے جانے والے پیپلزپارٹی لاہور کے موجودہ صدر الحاج عزیز الرحمن چن ان کے لئے پسندیدہ بیکری لے کر جایا کرتے تھے، جو کوئی مل لیتا واپسی پر اس کے پاس خبر ہوتی تھی،اس حوالے سے ہم سابق وفاقی وزیر چودھری احمد مختار کی سناتے ہیں،ہم سے بات چیت کے دوران انہوں نے آصف علی زرداری کی بہت تعریف کی اور بتایا کہ ان (چودھری) کو قریباً ایک سال کراچی جیل میں زیر حراست رہنا پڑا، تب آصف علی زرداری وہاں تھے، چنانچہ ان سے ملاقات ہوتی رہتی تھی۔چودھری احمد مختار نے بتایا کہ ان کو اس عرصہ میں کتابیں پڑھنے کا بہت موقع ملا کہ آصف علی زرداری خود بہت پڑھتے اور ان کو بھی کتاب مستعار دے دیتے تھے،

چنانچہ جیل کا بڑا فائدہ یہی ہے کہ انسان ذرا توجہ دے تو اسے پڑھنے کا بہت موقع ملتا ہے اور وہ (احمد مختار) بھی بہت مستفید ہوئے، کتابیں زرداری صاحب سے ملیں۔بات تھوڑی سی طویل ہونے لگی تو قارئین آپ کی خدمت کے لئے عرض ہے کہ سابق صدر کا خدشہ بے جا بھی نہیں ہے،کیونکہ ان کے حوالے سے بہت تحقیق ہو رہی ہے، وہ اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور ضمانت پر ہیں، تاہم جلد ہی مقدمات اور ریفرنس دائر ہونے والے ہیں، لوگ باگ یونہی کہتے ہیں وہ این آر او چاہتے ہیں اس سے انہوں نے واضح انکار کر دیا کہ نہ وہ این آر او سے مستفید ہونے والوں میں اور نہ ایسا چاہتے ہیں۔

یہ سب یوں لکھا کہ محمد نواز شریف کے خلاف ریفرنس ہیں،ایک میں وہ سزا یافتہ بھی ہیں،محمد شہباز شریف بھی زیر حراست ہیں،ان کے صاحبزادگان بھی نیب کو مطلوب اور ان کی طلبی ہوتی رہتی ہے۔ ہر طرف سے ایسی تفتیش پر اعتراض کیا جاتا ہے، چنانچہ اب قومی اسمبلی کی سطح پر مسلم لیگ(ن) اور پیپلزپارٹی کے درمیان رابطہ ہوا اور احتساب بیورو قانون میں ترامیم کی بات ہوئی اور باہمی مشاورت سے طے ہوا کہ قانون میں ترامیم ہونی چاہئیں اور نیب کو تین ماہ تک جسمانی ریمانڈ حاصل کرنے اور دورانِ تفتیش گرفتاری کا اختیار نہیں ہونا چاہئے،اب یہ دونوں جماعتیں ترامیم پر متفق نظر آ رہی ہیں،

حالانکہ یہ خود ہی احتساب آرڈیننس میں ترامیم یا نیا احتساب بیورو بنانے کے لئے نئی قانون سازی میں رکاوٹ بنے،پیپلزپارٹی نے اپنے دورِ اقتدار 2008-2013ء کے دوران احتساب آرڈیننس میں ترمیمی مسودہ تیار کیا،جس کے تحت بیورو کو خود مختار بنانے کی بات تو ہوئی،لیکن اب جن ترامیم کا ذکر کیا جا رہا ہے یہ سب اس مسودہ قانون میں تھیں، تب بیورو کے سربراہ کے تعین پر فیصلہ نہ ہوا اور یہ بل مسلم لیگ(ن) کے دور میں بھی لٹکا ہی رہا،اب اگر اپوزیشن اسے دوبارہ غور کر کے نافذ کرانا چاہتی ہے تو بہت مشکل کام ہے،کیونکہ حزبِ اقتدار کی تعداد زیادہ ہے اور وسیع مفاہمت کے بغیر یہ ممکن نہ ہو گا۔ اس عرصہ میں نیب بھی تیز ہو گیا ہے،لہٰذا بھگتنا تو ہو گا، اب تو سیاست بھی کرپشن کے گرد گھوم رہی ہے۔

مزید :

رائے -کالم -