در ترا چھوڑ کر اب میں جاؤں کہاں؟

در ترا چھوڑ کر اب میں جاؤں کہاں؟

خالقِ دو جہاں، قادرِ کُن فَکاں

اپنی مخلوق پر تو بہت مہرباں!

تری تسبیح کرتے ہیں سب انس و جاں

درترا چھوڑ کر اب میں جاؤں کہاں؟

نشاں تیری قدرت کے ہیں بحر و بر

ساری مخلوق تیری ہے دستِ نگر

تری ذات سب کی ہے روزی رساں

درترا چھوڑ کر اب میں جاؤں کہاں؟

میں گنہ گار ہوں میں شرم سار ہوں

مغفرت کا میں ہر دم طلب گار ہوں

میں ہوں فریاد رس شافعِ عاصیاں

درترا چھوڑ کر اب میں جاؤں کہاں؟

یہ زمیں آسماں، اور یہ سارے جہاں

سب کا مسجود ہے اک ترا آستاں

تری ذات اقدس تو ہے ’’لا مکاں‘‘

درترا چھوڑ کر اب میں جاؤں کہاں؟

مزید : ایڈیشن 2