سندھ میں گورنر راج کے نفاذ کی باز گشت

سندھ میں گورنر راج کے نفاذ کی باز گشت
سندھ میں گورنر راج کے نفاذ کی باز گشت

  

صوبہ سندھ کے بارے میں ایک عجیب بحث شروع ہو گئی ہے کہ صوبہ میں گورنر راج لگ سکتا ہے۔ بظاہر اس کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔ ایسا کیوں کر ہوسکتا ہے جب صوبہ میں پاکستان پیپلز پارٹی بھاری اکثر یت رکھتی ہے اور اسے حکومت چلانے میں کسی قسم کی کوئی دقت نہیں ہے۔ پارٹی کی صفوں میں بھی اتحاد ہے۔ وزیراعلیٰ مراد علی شاہ حکومت چلا رہے ہیں۔ گورنر راج کی بات کرنا غیر جمہوری سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ گورنرراج کی بحث اس وقت شروع ہوئی جب وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے ایک غیر پارلیمانی انداز کا بیان دیا۔ انہوں نے کہا تھا کہ سندھ میں غنڈہ راج ہے جس کا خاتمہ ضروری ہے، وفاق تھوڑاسابھی تعاون کم کردے تو صوبائی حکومت مشکل میں آجائے گی، لیکن دوسری سانس میں کہا کہ یہاں گورنر راج کی ضرورت نہیں،عوام ہمارے ساتھ ہیں،اگلے الیکشن میں سندھ میں پی ٹی آئی کی دو تہائی اکثریت ہوگی ۔ انہیں اس قسم کا بیان دینے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی۔

ایسے بیان کا جواب آنا ضروری تھا سو آیا۔ سندھ حکومت کے ترجمان مرتضی وہاب ،ترجمان پی پی مولابخش چانڈیواور صوبائی وزیر بلدیات سعید غنی نے کہا ہے کہ وزیر اطلاعات فواد چودھری کان کھول کر سن لیں، صوبے خودمختار ہیں،وزیراعظم عمران خان فواد چودھری کے بیان کی وضاحت کریں، فواد چودھری سندھ حکومت کے دن نہ گنیں بلکہ وفاق میں اپنی کارکردگی کی فکر کریں، تحریک انصاف سندھ حکومت کے خاتمے کے خواب دیکھنا بند کرے،وفاق تین دن تک یرغمال رہا اس وقت فواد چودھری کہاں تھے۔ مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ وفاقی وزیر کی جانب سے سندھ حکومت کے خاتمے کی جانب اشارہ افسوس ناک ہے۔،فواد چودھری نے سندھ حکومت کے خاتمے کی بات کر کے وفاق کے عزائم ظاہر کر دیے ہیں۔

قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے رہنماء خورشید شاہ نے بیان داغ دیا کہ ایک شخص نظام کو ڈسٹرب کر رہا ہے۔ وہ مسلسل ایسی بات کر رہا ہے جس سے سیاسی نظام کو سپورٹ نہیں مل رہی۔ فواد چودھری نے دوبارہ بیان دیا کہ ڈاکوؤں کو سزا دینے کی بات کرتے ہیں توخورشید شاہ ناراض ہوجاتے ہیں ، سندھ حکومت سے پوچھا جائے کہ وفاق سے 75 ہزار کروڑ روپے صوبے میں منتقل ہوئے، وہ کہاں گئے ، پیپلزپارٹی زرداری کی جماعت ہے بھٹو کی نہیں ،سندھ حکومت خودبھی کام نہیں کرتی دوسروں کو بھی کرنے نہیں دیتی ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم سندھ حکومت کو ساتھ لے کر چل رہے ہیں، اگر رینجرز ہٹالیں تو پولیس کے پاس پالیسی کو نافذ کرنے کی صلاحیت ہی نہیں۔

ایک اور بیان میں فواد چودھری نے کہاکہ آصف زرداری نے غریبوں کے اکاؤنٹس میں پیسے ڈالے ہیں، ان غریبوں کو چاہیے کہ ان پیسوں سے مکر جائیں، آصف زرداری ہوں یا نواز شریف ،کسی کے کرپشن کے مقدمات واپس نہیں لیں گے، عمران خان کی وجہ سے سندھ لسانی سیاست سے باہر آیا ورنہ اس سے قبل سندھ میں لسانی سیاست ہورہی تھی۔ اپنے پہلے بیان کی وضاحت کی اور کہا کہ ان کی جانب سے یہ نہیں کہا گیا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت چند دن کی مہمان ہے کیونکہ ہم سب کو ساتھ لے کر چلنے کے خواہاں ہیں۔

دوسری طرف پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمینٹیرین کے صدر آصف علی زرداری ایک طرح سے رائے عامہ کو اپنے حق میں ہموار کرنے نکلے ہیں۔ وہ نواب شاہ پہنچے صوبہ کے سیاسی حلقوں میں یہ قیاس آرائیاں جاری ہیں کہ آصف علی زرداری منی لانڈرنگ کے مقدمات میں کسی بھی وقت حراست میں لئے جاسکتے ہیں۔ ان کے اپنے بیانات سے بھی ان قیاس آرائیوں کو تقویت ملتی ہے۔ ایک بیان میں ان کا کہنا ہے کہ میرا سرکار سے کوئی جھگڑا نہیں۔ ’مجھے گرفتار کرنے کا راستہ تلاش کیا جا رہا ہے۔اگر گرفتار ہوا تو مشہور ہو جاؤں گا۔ وہ نواب شاہ میں پارٹی کارکنوں سے خطاب کر رہے تھے ۔ انہوں نے مختلف تقاریب میں بھی شرکت کی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’ مجھے پھنسانے کی کوشش کی جارہی ہے اگر جیل جانا پڑا تومیں خود جیل جاؤں گا۔ مجھے پہلے بھی سیاسی بنیادوں پر جیل بھیجا گیا جبکہ اْن کے دور حکومت میں کسی کو سیاسی بنیادوں پر جیل نہیں بھیجا گیا‘‘۔ ایک اور بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ ’’میں گرفتار ہوا تو یہ نئی بات نہیں ہو گی،ایسا ہوتا رہا ہے،مسئلہ مجھ سے ہے اور میرے دوستوں کو گرفتار کر رہے ہیں۔ یہ ہمیشہ میرے دوستوں کو پکڑتے ہیں ،اس بار ان دوستوں کو اٹھایا جنہوں نے سندھ میں انڈسٹرلائزیشن میں مدد کی۔یہ ہر طرف سے مجھ پر حملہ کیوں کر رہے ہیں، سمجھ میں آگئی ہے کہ یہ 18 ویں ترمیم کا جھگڑا ہے، ہم نے پشتونوں کو شناخت دی جو ان کی ضرورت تھی ،، ۔

منی لانڈنگ کے مقدمات میں ایف آئی اے ایسے ثبوت اکٹھا کرنے میں کامیاب رہی ہے کہ جن بھی لوگوں کو مزید حراست میں لیا جائے گا، انہیں اپنے دفاع میں مشکلات کا سامنا رہے گا۔ آصف علی زرداری کے مالی معاملات کی دیکھ بھال کرنے والے انور مجید اپنے ایک بیٹے غنی مجید کے ساتھ پہلے ہی قید میں ہیں۔ سینئر بنکار حسین لوائی کی گرفتاری بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ آ صف علی زرداری کے علاوہ ان کی ہمشیرہ سمیت کچھ اور لوگوں کی گرفتاری بھی ممکن ہے۔ عام خیال یہ ہے کہ آصف علی زرداری کی گرفتاری کی صورت میں سندھ میں برسراقتدار پارٹی رد عمل کا مظاہرہ کرے گی اسی رد عمل کو روکنے کے لئے اقدامات کئے جائیں گے جن کی ایک صورت سندھ میں گورنر راج نافذ کرنا بھی ہوسکتا ہے۔

قومی اسمبلی میں بھی پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے اراکین کے درمیاں سخت تقریر کے بعد نوبت جب ہاتھا پائی تک پہنچی تو سپیکر نے کارروائی معطل کر کے ایوان کو برخاست کردیا۔ اس معاملے میں بنیادی غلطی پیپلز پارٹی کی شازیہ مری نے کی جنہوں نے جنرل نیازی اور عمران خان کا موازنہ اس انداز میں کیا جس کی وجہ سے پوری نیازی برادری لپیٹ میں آگئی۔ حکومت اور حزب اختلاف کے درمیاں تحریک لبیک کے دھرنوں کے معاملے پر کھینچا تانی جاری تھی۔ حزب اختلاف حکومت کو ’’ ہتھیار ڈال دینے ‘‘ کا ذمہ دار قرار دیتی ہے۔

موجودہ حکومت جمہوری طریقے سے کرائے گئے انتخابات کے نتیجے میں وجود میں آئی ہے اور صوبائی حکومتیں بھی ان ہی ا نتخابات کے نتیجے میں وجود میں آئی ہیں۔ کسی مخالف جماعت کی کسی بھی صوبہ میں قائم حکومت کو کسی طرح سے ختم کرنے کی بات کرنا ہی غیر جمہوری ہے۔ بھٹو مرحوم بھی تمام صوبوں میں اپنی جماعت کی حکومت دیکھنے کی خواہش میں کئی غیر جمہوری اقدامات کرتے رہے جس کا خمیازہ انہوں نے ان جماعتوں کی سخت مخالفت میں بھگتا۔ حکومتوں میں شامل لوگ اپنی خواہشات کے طابع ہوکر کئی ایسے معاملات کر بیٹھتے ہیں یا اقدامات اٹھا لیتے ہیں جو سوائے پشیمانی کچھ اور نہیں دے پاتے۔ کیوں نہ ایسے بیانات، جوابی بیانات سے دانستہ پرہیز کیا جائے ، جلتی پر تیل کی بجائے پانی ڈالنا ہی ذمہ دار سیاستدانوں کا کام ہوتا ہے۔

مزید : رائے /کالم