علامہ محمد اقبال ؒ کی شخصیت کے تخلیقی عناصر!

علامہ محمد اقبال ؒ کی شخصیت کے تخلیقی عناصر!

  

علامہ محمداقبالؒ کی شخصیت کے وہ تخلیقی عناصر جس نے علامہ محمداقبالؒ میں ایک مخصوص قسم کی گونا گونی رنگارنگی پیدا کی، اور جنہوں نے علامہ محمداقبالؒ کو اس کے ہم عصروں سے زیادہ دل آویز، باعث کشش اور جاذب نظر بنادیا چند ایسے عناصر ہیں جن کا تعلق علامہ محمد اقبالؒ کی علمی و ادبی اور تعلیمی کوششوں سے بہت ہی کم ہے، اقبالؒ کی شخصیت میں جو جامعیت ، بلندی فکر و خیال، سوز، درد کشش اور جاذبیت نظر آتی ہے، ان کا تعلق اقبالؒ کی زندگی کے اس رخ سے ہے، جسے ہم یقین و ایمان کہتے ہیں۔

دراصل اقبال کی شخصیت کے بنا نے ، سنوارنے اور پروان چڑھانے میں عصرِ حاضر کے صرف ان تعلیمی اداروں اور یونیورسٹیوں کا ہاتھ نہیں ہے جن میں علامہ محمداقبالؒ نے داخل ہو کر علوم عصریہ اور مغربی تعلیم حاصل کی اگرچہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ علامہ محمداقبالؒ علوم جدیدہ اور مغربی تعلیم کا حصول ہندوستان ، انگلستان اور جرمنی میں ماہر اساتذہ سے کرتے رہے، اور وہاں کے علم و فن کے چشموں سے سیراب ہوتے رہے، یہاں تک کہ وہ عالمِ اسلامی میں مغربی علوم و افکار اور تہذیب و تمدن کے ماہرین میں منفرد شخصیت کے مالک ہو گئے ، مغربی فلسفہ و اجتماع ، اخلاق اور سیاست و معیشت میں یورپ کے ایک متخصص کی حیثیت حاصل کی ، اور علومِ جدید و قدیم میں بڑی گہری نگاہ حاصل کی ۔۔۔ لیکن علامہ محمداقبالؒ کی ذہانت و عبقریت، ان کا زندہ جاوید پیغام اور ان کی ذہنوں اور دلوں کو تسخیر کرنے کی طاقت و کشش۔۔۔۔۔۔ان تمام فضائل اور بلندیوں کا سبب ان دنیاوی تعلیمی اداروں سے جدا ایک دوسرا تعلیمی ادارہ ہے جس میں کہ اقبال نے تعلیم و تربیت حاصل کی بڑھے اور پروان چڑھے ۔۔۔۔۔۔یہ دراصل ایک داخلی مدرسہ ہے جو ہر انسان کے ساتھ پیدا ہوتا ہے اور ہر انسان اسے اٹھائے ہر مقام پر لئے پھرتا ہے وہ ’’دل کا مدرسہ‘‘ اور ضمیر ووجدان کا دبستان ہے ، وہ ایک ایسا مدرسہ ہے جہاں روحانی پرداخت اور الہٰی تربیت ہوتی ہے ۔۔۔۔۔۔علامہ محمداقبالؒ نے اس ادارے سے اسی طرح تکمیل کی جس طرح دوسرے بہت سے وہبی انسان اس عظیم ادارے سے تعلیم و تربیت کے بعد نکلے، اقبال کی سیرت و شخصیت اس کا علم و فضل اور اخلاق ، یہ سب کا سب مرہونِ منت ہے ، اس قلبی دبستان کا جس میں کہ اقبال نے برسوں زانوے تلمذ تہ کیا ہے۔۔۔ وہ تخلیقی عناصر جنھوں نے علامہ محمداقبالؒ کی شخصیت کو بنایا، بڑھایا اور پروان چڑھایا وہ دراصل علامہ محمد اقبالؒ کو اپنے داخلی مدرسہ(دل) میں حاصل ہوئے، یہ پانچ تخلیقی عناصر ہیں جنہوں نے علامہ محمد اقبالؒ کی شخصیت کو ’’زندۂ جاوید‘‘ بنادیا۔

ان میں سے پہلا عنصر جوعلامہ محمد اقبالؒ کو اپنے داخلی مدرسہ میں داخلہ کے بعد اوّل ہی دن حاصل ہوا وہ اس کا ’’ایمان و یقین‘‘ ہے، یہی یقین علامہ محمد اقبالؒ کا سب سے پہلا مربی اور مرشد ہے، اور یہی اس کی طاقت و قوت اور حکمت و فراست کا منبع اور سرچشمہ ہے، لیکن علامہ محمداقبالؒ کا وہ یقین وایمان اس خشک جامد ایمان کی طرح نہیں، جو بے جان تصدیق یا محض جامد عقیدہ ہے، بلکہ اقبالؒ کا ’’یقین‘‘ عقیدہ و محبت کا ایک ایسا حسین امتزاج ہے جو اس کے قلب ووجدان، اس کی عقل و فکر، اس کے ارادہ و تصرف اس کی دوستی و دشمنی غرضیکہ اس کی ساری زندگی پر چھایا ہوا ہے، یہی وجہ ہے کہ اقبالؒ اسلام اور اس کے پیغام کے بارے میں نہایت راسخ الایمان تھے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ان کی محبت، شغف اور ان کا اخلاص انتہا درجہ کا تھا، اس لیے ان کے نزدیک اسلام ہی ایک ایسا زندہ جاوید دین ہے کہ اس کے بغیر انسانیت فلاح و سعادت کے بامِ عروج تک پہنچ ہی نہیں سکتی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رشد و ہدایت کے آخری مینار، نبوت و رسالت کے خاتم اور مولائے کل ہیں: ۔

وہ دانائے سبل، ختم الرسل، مولائے کل جس نے

غبارِ راہ کو بخشا فروغِ وادی سینا

اس دورِ مادیت اور مغربی تہذیب و تمدن کی ظاہری چمک و دمک سے علامہ محمداقبالؒ کی آنکھیں خیرہ نہ ہوسکیں، حالانکہ علامہ محمد اقبالؒ نے جلوہ دانش فرنگ میں زندگی کے طویل ایام گذارے اس کی وجہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ علامہ محمداقبالؒ کی وہی والہانہ محبت، جذبہ عشق اور روحانی وابستگی تھی، اور بلاشبہ ایک حُبّ صادق اور عشقِ حقیقی ہی قلب و نظر کے لیے ایک اچھا محافظ اور پاسبان بن سکتا ہے:۔

خیرہ نہ کرسکا مجھے جلوہ دانشِ فرنگ

سرمہ ہے میری آنکھ کا خاکِ مدینہ و نجف

عذاب دانش حاضر سے با خبر ہوں میں

کہ میں اس آگ میں ڈالا گیا ہوں مثلِ خلیل ؑ

رہے ہیں، اور ہیں فرعون میری گھات میں اب تک

مگر کیا غم کہ میری آستیں میں ہے یدمن بیضا

عجب کیا گرمہ و پرویں مرے نخچیر ہو جائیں

کہ برفتراک صاحب دولتے بستم سرِ خودرا

علامہ محمد اقبالؒ نے اپنی کتاب اسرار خودی میں ملتِ اسلامیہ کی زندگی کی بنیادوں اور ان ستونوں کے ذکر کے سلسلہ میں جس پر حیات ملتِ اسلامیہ موقوف ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنے روحانی تعلق، دائمی وابستگی اور اپنی فدا کا رانہ محبت کا بھی ذکر کیا ہے ، جب وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا تذکرہ کرتے ہیں تو ان کا شعری وجدان جوش مارنے لگتا ہے اور نعتیہ اشعار اُبلنے لگتے ہیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے محبت و عقیدت کے چشمے پھوٹ پڑے ہیں ۔

جوں جوں زندگی کے دن گذرتے گئے علامہ محمد اقبالؒ کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ والہانہ محبت و اُلفت بڑھتی ہی گئی یہاں تک کہ آخری عمر میں جب بھی ان کی مجلس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر آتا یا مدینہ منورہ کا تذکرہ ہوتا تو علامہ محمداقبالؒ بے قرار ہوجاتے آنکھیں پُر آب ہو جاتیں یہاں تک کہ آنسو رواں ہوجاتے یہی وہ گہری محبت تھی جو ان کی زبان سے الہامی شعروں کو جاری کر دیتی تھی چنانچہ اللہ تعالیٰ کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔

مکن رسوا حضور خواجہؐ مارا

حساب من زچشم او نہاں گیر

یہ شعر محبت و عقیدت کا کتنا اچھامظہر ہے۔

دراصل علامہ اقبالؒ کا یہی وہ ایمان کامل اور حبِ صادق تھی جس نے علامہ محمد اقبالؒ کے کلام میں یہ جوش ،یہ ولولہ، یہ سوزوگداز پیدا کر دیا۔

جب آپ علامہ محمداقبالؒ کے کلام کا مطالعہ کریں گے تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ اقبالؒ کا کلام ہمارے جانے پہچانے شعرا سے بہت کچھ مختلف ہے علامہ محمداقبالؒ کا کلام ہمارے شعور و احساس ، قلبُ و جدان اور اعصاب میں حرکت و حرارت ، سوزوگداز ، دردو تپش پیدا کرتا ہے ، اور پھر ایک ایسا شعلہ جوالہ بن کر بھڑک اٹھتا ہے جس کی گرمی سے مادیت کی زنجیریں پگھل جاتی ہیں، فاسد معاشرہ اور باطل قدروں کے ڈھیر ، جل کر فنا ہو جاتے ہیں ، جس سے اس بات کا اندازہ ہو تا ہے کہ شاعر کس قدر طاقت ور ایمان، اور درد و پرسوزسینہ اور بے چین روح رکھتا ہے ، قابل صدستائش ہے وہ دوسرا مدرسہ جس نے اتنی اچھی تربیت کی اور ایسی قابل قدر شخصیت تیارکی۔ علامہ محمداقبالؒ کی شخصیت کو بنانے والا دوسرا عنصر وہ ہے جو آج ہر مسلمان گھر میں موجود ہے ، مگر افسوس کہ آج خود مسلمان اس کی روشنی سے محروم، اس کے علم و حکمت سے بے بہرہ ہیں، میری مراد اس سے قرآن مجید ہے، علامہ محمداقبالؒ کی زندگی پر یہ عظیم کتاب جس قدر.....اثر انداز ہوئی ہے، علامہ محمداقبالؒ کا ایمان چونکہ ’’نومسلم‘‘ کا سا ہے، خاندانی وراثت کے طور پر انہیں نہیں ملا ہے اس لیے ان کے اندر نسلی مسلمانوں کے مقابلے میں قرآن سے شغف ، اور شعور و احساس کے ساتھ مطالعہ کا ذوق بہت ہی مختلف رہا ہے، جیسا کہ خود علامہ محمداقبالؒ نے اپنے قرآن مجید پڑھنے کے سلسلے میں ایک واقعہ بیان کیا ہے کہ ان کایہ ہمیشہ کا دستور تھا کہ روزانہ بعد نماز صبح قرآن مجید کی تلاوت کیا کرتے تھے، علامہ محمداقبالؒ کے والد جب انہیں دیکھتے تو فرماتے کیا کر رہے ہو؟علامہ محمد اقبالؒ جواب دیتے ابا جان! آپ مجھ سے روزانہ پوچھتے ہیں ، اور میں ایک ہی جواب دیتا ہوں اور پھر خاموش چلے جاتے ہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ میں تم سے کہنا چاہتا ہوں کہ تم قرآن اس طرح پڑھا کروکہ جیسے قرآن اسی وقت تم پر نازل ہورہا ہے اس کے بعد سیعلامہ محمد اقبال نے قرآن برابر سمجھ کر پڑھنا شروع کیا اور اس طرح کہ گویا وہ واقعی ان پر نازل ہو رہا ہے ، اپنے ایک شعر میں بھی وہ اس کا اظہاریوں فرماتے ہیں :۔

ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب

گرہ کشا ہے نہ رازی نہ صاحبِ کشاف

علامہ اقبالؒ نے اپنی پوری زندگی قرآن مجید میں غور و فکر اور تدبر و تفکر کرتے گذاری، قرآن مجید پڑھتے، قرآن سوچتے، قرآن بولتے ، قرآن مجید ان کی وہ محبوب کتاب تھی جس سے انہیں نئے نئے علوم کا انکشاف ہوتا، اس سے انہیں ایک نیا یقین ، ایک نئی روشنی ، اور ایک نئی قوت و توانائی حاصل ہوتی ۔ جوں جوں ان کا مطالعہ قرآن بڑھتا گیا ، ان کے فکر میں بلندی اور ایمان میں زیادتی ہوتی گئی اس لیے کہ قرآن ہی ایک ایسی زندہ جاوید کتاب ہے جو انسان کو لدُنّی علم اور ابدی سعادت سے بہرہ ور کرتی ہے وہ ایک ایسی شاہ کلید ہے کہ حیاتِ انسانی کے شعبوں میں سے جس شعبہ پر بھی اسے لگائیے ، فورًا کھل جائے گا، وہ زندگی کا ایک واضح دستور اور ظلمتوں میں روشنی کا مینار ہے ۔

تیسرا عنصر جس کا علامہ محمداقبالؒ کی شخصیت کی تعمیر میں بڑا دخل ہے، وہ عرفان نفس اور خودی ہے، علامہ اقبالؒ نے عرفانِ ذات پر بہت زوردیا ہے ، انسانی شخصیت کی حقیقی تعمیر ان کے نزدیک منت کش خودی ہے جب تک عرفان ذات نہ حاصل ہو ، اس وقت تک زندگی میں سوزو مستی ہے،اور نہ جذب و شوق! اس سلسلہ میں اقبالؒ کا یہ شعر ان کے فکر کی پوری ترجمانی کرتے ہیں :۔

اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغِ زندگی

تواگر میرا نہیں بنتا ، نہ بن ، اپنا تو بن

علامہ اقبالؒ کو خودی کی تربیت اور عرفان نفس پر بڑا اعتماد تھا ، ان کے نزدیک خود شناسی و خودآگاہی انسان کو اسرار شہنشاہی سکھلاتے ہیں ، عطار ہوں یا رومی ، رازی ہوں یا غزالی، بغیر عرفان نفس کے کسی کو کچھ حاصل نہیں ہوتا اسی عرفان نفس کا نتیجہ تھا کہ علامہ محمداقبالؒ نے اس رزق پر موت کو ترجیح دی جس رزق سے پرواز میں کوتاہی آتی ہو اور دارا و سکندر سے وہ مرد فقیر علامہ محمداقبالؒ کے خیال میں زیادہ بہتر ہے جس کی فقیری میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ ، کی خوبو اور ان کا اسوۂ ہو اور حق تو یہ ہے کہ عرفان نفس اور عرفان ذات ہی کے اصول کے بعد انسان جر أ ت سے اس بات کااظہار کرسکتا ہے کہ :۔

آئینِ جواں مرداں حق گوئی و بے باکی

اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی

ان سب باتوں کے عرض کرنے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ علامہ محمد اقبالؒ کے ہم عصروں میں کوئی اچھا اور اونچا شاعر ہی نہ تھا، بلکہ اچھے سے اچھے اور اونچے اونچے ادیب و شاعر موجود تھے جو اپنے الفاظ کی فصاحت معنی کی بلاغت، استعارہ و تشبیہ کی جدت میں اپنی نظیر نہیں رکھتے تھے لیکن جو چیز کہ علامہ محمداقبالؒ کو اپنے عم عصروں سے ممتاز کر دیتی ہے وہ ہے ان کی شاعرانہ عظمت، ادبی قوت ، فنی ذہانت، جبلی عبقریت اور ان سب کے ساتھ ساتھ اسلام کا پیغام! اقبالؒ نہ قومی شاعر تھے، اور وطنی اور نہ عام رومانی شاعروں کی طرح ان کی شاعری بھی شراب و شاہد کی مرہون منت تھی، اور نہ ان کی شاعری نری حکمت و فلسفہ کی شاعری تھی، ان کے پاس اسلام کی دعوت اور قرآن کا پیغام تھا، جس طرح ہوا کے جھونکے پھولوں کی خوشبو پھیلاتے ہیں، اور جس طرح اس زمانے میں برقی لہروں سے پیغامات کے پہچانے کا کام لیا جاتا ہے اسی طرح علامہ محمداقبالؒ بھی اپنے اس پیغام کو شعر کی زبان میں کہتے تھے تاکہ ان کے پیغام کے لیے شعر، برقی لہروں کا کام دے، بلاشبہ علامہ محمداقبالؒ کی شاعری نے خواب غفلت میں پڑی ہوئی قوم کو بیدار کر دیا اور ان کے دلوں میں ایمان و یقین کی چنگاری بیدار کر دی، تو یہ سب کچھ صرف اس وجہ سے ہوا کہ علامہ محمداقبالؒ نے اپنے آپ کو پہچانا اپنی وہبی شخصیت و قوت کا صحیح اندازہ کیا، اور ان کو اصل مقام پر استعمال کیا۔

وہ چوتھا عنصر جس نے علامہ محمداقبالؒ کی شخصیت کو بنایا، پروان چڑھایا، اور اس کی شاعری کو نت نئے معانی، افکار کی جولانی اور قوت تاثیر عطا کی، ان میں کتابوں کی درس و تدریس اور مطالعہ کے شوق و انہماک کا کوئی دخل نہیں ہے، بلکہ علامہ محمداقبالؒ کی آہِ سحر گاہی اس کا اصل سرچشمہ ہے جب سارا عالم خواب غفلت میں پڑا سوتا رہتا اس اخیر شب میں اقبالؒ کا اٹھنا اور اپنے رب کے سامنے سجدہ ریز ہوجانا، پھر گڑ گڑانا اور رونا، یہی چیز تھی جو اس کی روح کو ایک نئی نشاط اس کے قلب کو ایک نئی روشنی اوراس کو ایک نئی فکری غذا عطا کرتی پھر وہ ہر دن اپنے دوستوں اور پڑھنے والوں کے سامنے ایک نیا شعر پیش کرتا، جو انسانوں کو ایک نئی قوت، ایک نئی روشنی اور ایک نئی زندگی عطا کرتا۔

علامہ محمداقبالؒ کے نزدیک آہ سحر گاہی زندگی کا بہت ہی عزیز سرمایہ ہے بڑے سے بڑے عالم و زاہد اور حکیم و مفکر اس سے مستغنی نہیں، چنانچہ فرماتے ہیں:۔

عطار ہورومی ہو رازی ہو غزالی ہو

کچھ ہاتھ نہیں آتا بے آہِ سحرگاہی

علامہ محمداقبالؒ علی الصباح اٹھنے کا بہت ہی اہتمام رکھتے تھے، سفر و حضر ہر مقام اور ہر کہیں ان کے لیے سحر خیزی ضروری تھی۔

اور صرف یہیں تک نہیں بلکہ اس کی تمنا بھی کرتے ہیں کہ خداوندا مجھ سے تو جو چاہے چھین لے لیکن لذت آہِ سحر گاہی سے مجھے محروم نہ کر:۔

نہ چھین لذت آہِ سحرگہی مجھ سے

نہ کر نگہ سے تغافل کو التفات آمیز

یہی وجہ تھی کہ وہ جوانوں میں اپنی اس آہ و سوز، اور درد تپش کو دیکھنے کی تمنا کرتے تھے، اور دعائیں کرتے کہ خداوندا یہ میرا سوزِ جگر اور میرا عشق و نظر آج کل کے مسلم نوجوانوں کو بخش دے:۔

جوانوں کو سوز جگر بخش دے

مرا عشق، میری نظر بخش دے

اسی بات کو ایک دوسری نظم میں اس طرح فرماتے ہیں:۔

جوانوں کو میری آہِ سحر دے

تو ان شاہیں بچوں کو بال و پر دے

خدایا آرزو میری یہی ہے

مرا نورِ بصیرت عام کر دے

اور اس میں کوئی شک نہیں کہ علامہ محمد اقبالؒ کے د ل سے نکلی ہوئی یہ دعائیں بے اثر نہیں گئیں اور آج سارے عالم اسلام میں خالص اسلامی فکرونظر لیے نوجوانوں کی ایک نئی نسل ابھر رہی ہے۔

دیکھئے اس بحر کی تہہ سے اچھلتا ہے کیا

گنبد نیلو فری رنگ بدلتا ہے کیا

آخری مؤثر عنصر جس نے علامہ محمداقبالؒ کی شخصیت کی تخلیق میں اہم حصہ لیا ہے، وہ مولانا جلال الدین رومی کی ’’مثنوی معنوی‘‘ ہے یہ کتاب مولانا رومی کی مشہور مثنوی ہے، جو فارسی زبان میں وجدانی تاثر اور اندرونی شدت کی بنا پر لکھی گئی ہے، دراصل یونانی فلسفہ عقلیات مولانا رومی کے دورمیں جس طرح چھا چکا تھا اور کلامی مباحث خشک فلسفیانہ موشگافیاں مسلمانوں کے ذہنوں، دینی مدرسوں اور علمی اداروں میں جس طرح سرایت کر چکی تھیں۔ اس سے ہٹ کر کوئی شخص سوچ بھی نہیں سکتا تھا، اس صورت حال سے متاثر ہوکر مولانا روم نے مثنوی لکھنی شروع کی جو اپنے اندر قوت و حیات کے ساتھ ادبی بلندی، معانی کی جدت، حکیمانہ مثالوں اور نکتوں کے بیش بہا خزینے سمیٹے ہوئے ہے، اس کتاب نے اس دورسے لے کر آج تک ہزاروں انسانوں کو متاثر کیا ہے ان کے قلب و نظر میں تبدیلی کی ہے اسلامی کتب خانے میں اپنے انداز پر یہ ایک بے نظیر و بے مثال کتاب ہے، اس دور جدید میں ، جبکہ اقبالؒ کویورپ کے مادی و عقلی، بے روح و بے خدا فکار و خیالات سے سابقہ پڑا، اور مادہ و روح کی کشمکش اپنے پورے عروج کے ساتھ سامنے آئی تو اس قلبی اضطراب اور فکری انتشار کے موقع پر اقبالؒ نے مولانا روم کی مثنوی سے مدد لی، اس کشمکش میں مولانا روم نے ان کو بہت کچھ سہارا دیا، یہاں تک کہ اقبالؒ نے پیر روم کو اپنا کامل رہنما تسلیم کر لیا ، اور صاف صاف اعلان کر دیاکہ عقل و خرد کی ساری گتھیاں جسے یورپ کی مادیت نے اور الجھا دیا ہے، ان کا حل صرف آتشِ رومی کے سوز میں پنہاں ہے، اورمیری نگاہِ فکر اسی فیض سے روشن ہے، اور آج یہ اسی کا احسان ہے کہ میرے چھوٹے سے سبو میں فکر و نظر کا ایک بحر ذخار پوشیدہ ہے:۔

علاج آتش رومی کے سوز میں ہے ترا

تری خرد پہ ہے غالب فرنگیوں کا فسوں

یہی وہ پانچ عناصر ہیں جنہوں نے علامہ محمد اقبالؒ کی شخصیت کی تخلیق کی، اور یہ عناصر داراصل اسی دوسرے مدرسہ کی فیض و تربیت کے نتائج ہیں جس نے علامہ محمداقبالؒ کو مضبوط عقیدہ، قوی ایمان، سلیم فکر اور بلند پیغام عطا کیا، اور جس نے اقبالؒ کو ’’اقبالؒ ‘‘ بنایا۔

***

مزید :

ایڈیشن 1 -