چین کا مصنوعی چاند!

چین کا مصنوعی چاند!
چین کا مصنوعی چاند!

  

پچھلے دنوں بظاہر ایک حیرت انگیز خبر میری نظر سے گزری۔۔۔ ’’بظاہر حیرت انگیز‘‘ اس لئے کہ اس نے میرے زمانہ ء طالب علمی کی ایک اہم یاد تازہ کر دی۔

ان ایام میں،فارسی ادبیات کا مطالعہ کرتے ہوئے مجھے معلوم ہوا کہ ایڈورڈ براؤن کی کتاب : ’’اے لٹریری ہسٹری آف پرشیا‘‘ ایک معرکتہ آلارا تصنیف ہے۔ جو قارئین فارسی زبان کے شعر و ادب سے دلچسپی رکھتے ہیں ان کو بھی اس گراں بہا تصنیف کی بین الاقوامی شہرت کے قد کاٹھ کا علم ہو گا۔ اس کتاب کی چار جلدیں ہیں اور اس کا اردو ترجمہ بھی شائد ہو چکا ہو گا۔ لیکن میری نظر سے اورجنل انگریزی ایڈیشن کے علاوہ فارسی زبان کا ترجمہ شدہ ایڈیشن ہی گزرا۔ ’’تاریخ ادبیات ایران‘‘ کے عنوان سے یہ ترجمہ آج بھی اتنا ہی دلچسپ اور چشم کشا ہے جتنا آج سے 50برس پہلے تھا۔ براؤن نے اس کتاب میں شعر و ادب کے علاوہ جن حیرت انگیز تاریخی واقعات کا ذکر کیا ہے ان میں ایک ’’مصنوعی چاند‘‘ کا ذکر بھی ملتا ہے جو ایران (خراسان) کے ایک کنویں سے سرِشام طلوع ہوتا تھا اور علی الصبح اسی کنویں جا کر غروب ہو جاتا تھا۔

بعض حوالوں سے یہ کنواں خراسان میں نہیں، ترکستان کے ایک شہر نخشب میں واقع تھا۔ اسی دور میں ایک ایرانی جادوگر حِکم بن ہاشم نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ یہ عباسی خلفا کا اولین دور تھا۔ آخر اموی خلیفہ کو ابو مسلم خراسانی نے شکست دے کر ہلاک کر دیا تھا اور اس کی جگہ سّفاح کے بیٹے ابو العباس کو تخت نشین کرنے میں ایک کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ اب مجھے سنین تو ٹھیک طرح یاد نہیں، اس کے لئے کسی ہسٹری بک کی طرف رجوع کرنا پڑے گا لیکن اتنا یاد ہے کہ یہ واقعہ نویں صدی عیسوی کے لگ بھگ کا ہے۔

ابو مسلم خراسانی نے اگرچہ عباسی خلفا کو مسندِ اقتدار پر بٹھانے کا کارنامہ انجام دیا تھا لیکن بعد میں خلیفہ ء بغداد سے ابو مسلم کی اَن بَن ہو گئی اور اس کو گرفتار کرکے قتل کر دیا گیا۔ ایرانیوں نے اس کا بُرا منایا۔ جن ایرانیوں نے خلیفہ ء وقت کے خلاف عَلمِ بغاوت بلند کیا تھا، ان میں یہ حِکم بن ہاشم بھی تھا۔ کہا جاتا ہے کہ وہ علمِ کیمیا کا بھی زبردست ماہر تھا اور اس نے اس زمانے میں کئی انوکھی چیزیں ایجاد کی تھیں جن میں ایک ماہِ نخشب بھی تھا جو چاہِ نخشب سے نکل کر اردگرد کے 200میل علاقے کو چاند کی سی دودھیا چاندنی میں نہلا دیتا تھا۔ ایک عرصے تک یہ چاند نخشب نامی گاؤں کے کنویں سے نکلتا اور وہیں ڈوبتا رہا اور حِکم (Hikam) کے جادوگر ہونے کی منادی کرنے میں پیش پیش رہا۔ چونکہ حکم،بن ہاشم جس کو مقنّع بھی کہا جاتا ہے ابو مسلم کا پیروکار بلکہ پرستار تھا اس لئے خلیفہء بغداد نے اسے بھی ہلاک کروا دیا۔ اس کی ہلاکت جس مہم کے دوران ہوئی وہ ایک طویل محاصراتی مہم تھی جس میں حکم بن ہاشم کے ہزاروں چاہنے والوں نے ترکستان کے مشکل اور ناقابلِ عبور کوہستانی علاقوں میں ڈٹ کر خلیفہء بغداد کی افواج کا مقابلہ کیا لیکن بالآخر شکست کھائی۔

یہ مصنوعی چاند کا واقعہ اس لئے بھی عجیب و غریب تھا کہ ایران کے زرتشتی مذہب کے ماننے والے آتش پرستوں نے کہ جو عربوں کی فتحِ ایران کے بعد مسلمان ہو گئے تھے اپنی بعض سابق مذہبی رسوم و روایات کو یکسر فراموش نہیں کیا تھا۔ ایران میں آج بھی تیل کے کنوؤں کی فراوانی ہے اور سینکڑوں برس پہلے اُس دور میں بھی تھی جب لوگ اِس حیرت انگیز دریافت اور اس کی قدر و قیمت سے بے خبر تھے۔ لیکن ایران کے آتشکدوں کے ساتھ جو داستانیں وابستہ رہیں ان میں اس تیل نے بڑا رول ادا کیا۔ مثلاً آپ اندازہ لگائیں کہ 20ویں صدی کے نصف اول تک دنیا میں کسی کو بھی معلوم نہ تھا کہ ’’مصنوعی چاند‘‘ کی بھی کوئی حقیقت ہے یا نہیں اور حِکم کہ جس کو ’’سازندہء ماہ‘‘ (Moon Maker) بھی کہا جاتا تھا وہ کوئی فسانہ تھا یا حقیقت تھی۔

اس دور میں میری طرح کے اور کئی طلباء بھی تاریخِ ایران سے دلچسپی رکھتے تھے،لیکن ان میں سے کوئی بھی اس مصنوعی چاند کی حقیقت پر قطعاً کوئی یقین نہیں رکھتا تھا۔ ہم حیران ہوتے تھے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ کسی کنویں سے چاند کی طرح کا ایک گول قرص برآمد ہو، ساری رات میلوں تک روشنی پھیلائے اور پھر ایک وقتِ مقررہ پر اسی کنویں میں جا کر غروب ہو جائے۔۔۔ ہماری نظر میں یہ ایک شعبدہ تھا۔لیکن آج اس ایرانی افسانے کی صداقت پر کسی کو کوئی شبہ نہیں رہا اور بیشتر قارئین بھی ذیل کی سطور پڑھ کر یہی سوچیں گے کہ چاہِ نخشب سے جو ماہِ نخشب طلوع ہوتا تھا وہ شعبدہ یا جادو نہیں تھا، ایک تکنیکی حقیقت تھی۔

جس ’’حیرت انگیز‘‘ خبر کا ذکر کالم کے شروع میں کیا گیا وہ یہ ہے کہ چین نے ایک ایسا مصنوعی چاند بنا لیا ہے جو عنقریب چھوڑا جائے گا۔ اور وہ کسی زمین کے کنویں سے طلوع نہیں ہو گا بلکہ اصل چاند کی طرح آسمان پر ہی طلوع ہو گا اور وہیں سے زمین پر اپنی روشنی پھینک کر اہلِ زمین کو برقی روشنی سے بے نیاز کر دے گا۔۔۔۔

تاہم چین کا یہ آئیڈیا کوئی نیا نہیں۔ روسی سائنس دانوں نے بھی آج سے 30,25 برس پہلے ایک بڑا سا خلائی آئینہ تیار کرکے اسے اپنے سپوتنک اول کی طرح زمین کے مدار میں بھیج کر حملہ آور دشمن کی نگاہیں خیرہ کرنے کی کوشش کی تھی جو ناکام ہو گئی۔اس رشین پراجیکٹ کی تیاری اور پھر اس کی ناکامی کی وجوہات وغیرہ پر میں نے اس وقت بھی ایک آرٹیکل لکھا تھا جو ’’پاکستان آرمی جرنل‘‘ میں شائع ہوا تھا۔ کوشش کروں گا کہ اس کی کاپی مل جائے۔۔۔۔ اگر مل گئی تو انہی صفحات میں قارئین سے شیئر کروں گا۔لیکن اُس وقت کے رشین چاند اور اِس موجودہ چائنا چاند میں جو بنیادی فرق ہے وہ یہ ہے کہ روس کا ہدف عسکری پہلووں کو مدنظر رکھ کر مقرر کیا گیا تھا جبکہ چین کا ہدف اس کے ایک بڑے تجارتی شہر کی اندھیاری راتوں کو اجالنا ہے!

چنگ ڈو(Chengdu) نام کا شہر چین کے ایک جنوب مغربی صوبے سائی چوان(Sichuan) کا دارالحکومت ہے۔ بڑا سرسبز و شاداب علاقہ ہے اور دنیا کا سب سے بڑا پانڈا بریڈنگ سنٹر بھی یہیں واقع ہے۔ اس کی دو طرفہ شاہراہیں میلوں تک پھیلی ہوئی ہیں جن کے کناروں پر قطار اندر قطار سٹریٹ لائٹیں لگا کر حال ہی میں ان کو روشن کیا گیا ہے۔ چینی ماہرین کے ذہنوں میں مصنوعی چاند بنانے کا تصور بھی انہی سٹریٹ لائٹس پر اٹھنے والے بے تحاشا اخراجات کو دیکھ کر پیدا ہوا۔۔۔

اس چاند کا منصوبہ بڑا سادہ اور قابلِ عمل ہے۔۔۔۔

ہم جانتے ہیں کہ اگر کسی مادی جسم (Physical Body)کو کسی راکٹ کے ذریعے زمین سے اٹھا کر خلا میں بھیج دیا جائے تو جوں جوں وہ جسم زمین سے دور ہوتا جائے گا اس کا وزن نسبتاً کم ہوتا چلا جائے گا۔پھر ایک مقام وہ بھی آئے گا کہ جہاں کششِ ثقل صفر ہو جائے گی اور وہ جسم جس جگہ ہوگا وہیں اٹک کے رہ جائے گا۔

ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ زمین کی دو گروشیں ہیں جن کو روزانہ اور سالانہ گردشیں کہا جاتا ہے۔ یعنی ہماری زمین ڈبل گردش میں ہے۔۔۔۔ ایک تو اپنے محور کے گرد گھوم رہی ہے جس سے دن رات پیدا ہوتے ہیں اور دوسری سورج کے مدار(Orbit) میں گردش کناں ہے اور یہ گردش موسموں کا سبب بنتی ہے( سرما، گرما، بہار، خزاں، برسات وغیرہ)۔ اس سالانہ گردش کی ایک مقررہ رفتار (Speed) ہے۔ اگر یہ رفتار اور مدارِ ارضی کی رفتار یکساں کردی جائے تو جو جسم خلا میں جس حصۂ زمین کے اوپر کھڑا ہوگا، وہ وہیں کھڑا رہے گا۔ اس کی مثال یہ ہے کہ اگر دو ریل گاڑیاں دو متوازی ریلوے لائنوں پر ایک ہی رفتار سے بھاگ رہی ہوں تو اندر بیٹھنے اور دیکھنے والوں کو معلوم ہوگا کہ دونوں ایک ہی جگہ کھڑی ہیں۔۔۔۔ نہ کوئی آگے جارہی ہے،نہ پیچھے۔۔۔ یہی حال اس جسم کا ہے جسے زمین کی سطح سے اٹھا کر خلا میں معلق کردیا جائے اور اسے سطح زمین کے کسی ایک حصے کے اوپر لے جا کر ’’لٹکا‘‘ کردیا جائے۔ وہ جسم ہمیشہ اسی جگہ لٹکا نظر آتا رہے گا۔دنیا بھر کے کئی مواصلاتی سیاروں کی خلا میں معلق ہونے کی وجہ بھی یہی ہے۔

اس جسم میں اگر ایسی تیز روشنی نصب کردی جائے جو خلا سے زمین تک آرہی ہواور اس کی شعاعیں کرۂ ارض پر کسی جگہ مرکوز کر دی جائیں تو وہ قطعہء زمین اس وقت تک روشن رہے گا جب تک گراؤنڈ کنٹرول سے اس کو بجھانہ دیا جائے۔۔۔ چین نے اس جسم کے اندر تیز آئینوں کا ایک گول قرص (تھال) نصب کردیا ہے۔ یہ قرص، سورج کی روشنی کو اسی طرح منعکس کرتا ہے جس طرح ہمارا اصلی چاند کررہا ہے۔ ہر چند کہ اصلی چاند آئینہ سے بنا ہوا نہیں لیکن سورج کی روشنی اتنی تیز ہے کہ وہ چاند پر پڑ کر ہم زمین والوں کو چاندنی نظر آتی ہے۔

ہمارا چاند، زمین سے 384,400 کلو میٹر دور ہے جبکہ چین کا مصنوعی چاند زمین سے صرف 500 کلو میٹر دور ہوگا اور سورج کی روشنی کو منعکس کرکے زمین پر بھیجے گا۔ چونکہ اس چاند کا کنٹرول، زمین کے ’’گراؤنڈ سٹیشن‘‘ میں نصب ہوگا اس لئے اس کو آن/آف کیا جاسکے گا۔ اس مصنوعی چاند کی چمک اصل چاند سے 8گنا زیادہ تیز ہوگی لیکن زمین تک آتے آتے یہ چمک اتنی مدھم ہو جائے گی جتنی سٹریٹ لائنوں کی ہوتی ہے۔

چنگ ڈو کے جس حصے پر اس مصنوعی چاند کی روشنی ڈالی جائے گی اس کا رقبہ 50مربع کلو میٹر ہوگا۔ یعنی 7کلو میٹر لمبا اور 7 کلو میٹر چوڑا قطعہء ارضی۔۔۔ اس پراجیکٹ پر لاگت کا جو تخمینہ لگایا گیا ہے اس کے پیش نظر بجلی کے بل میں سالانہ 18کروڑ ڈالر کی بچت ہوگی۔ یہ مصنوعی چاند 2020ء تک مکمل کرکے فنکشنل کردیا جائے گا۔ اس کے بعد 2022ء تک مزید دو چاند اور بھی اسی غرض سے لانچ کرکے سالانہ 54کروڑ ڈالر تک کی بچت کی جاسکے گی۔۔۔۔ یہ تینوں مصنوعی چاند جب مکمل طور پر آپریشنل ہوجائیں گے تو ان سے 4ہزار مربع میل کا علاقہ 24 گھنٹوں تک روشن رکھا جاسکے گا!یہ مصنوعی چاند انسانی آنکھ سے بھی دیکھا جاسکے گا لیکن اس کا حجم 500 کلو میٹر دوری کی وجہ سے ایک بڑے ستارے جتنا بڑا نظر آئے گا۔ یہ خیال بھی کیا جارہا ہے کہ اس سے زمین کی انسانی آبادیوں کے معمولات (مثلاً شب خوابی) میں کوئی فرق نہیں پڑے گا!

خلائی تسخیر کے اس دور نے تسخیرِ کائنات کے کئی باب وا کر دیئے ہیں۔ ہم خوش قسمت لوگ ہیں کہ ہزاروں برس کے پرانے افسانوں کو اپنی آنکھوں سے حقیقت میں ڈھلتا دیکھ رہے ہیں۔امید ہے بچوں کا چاند تو ویسے کا ویسا ہی رہے گا اور چندا ماموں بھی ویسے ہی دور کے رہیں گے جو ان کی اردو نظموں میں بیان کئے ہوتے ہیں۔۔۔۔ اور ہم بالغوں کے لئے بھی یہ اصلی چاند ویسے ہی چھپ چھپ کر اونچی کھجوروں کی اوٹ سے جھانکا کرے گا جیسا ماضی کی فلم ’’عشقِ لیلیٰ‘‘ میں صبیحہ اور سنتوش کے اس دو گانے میں سنا اور دیکھا جا سکتا ہے:

چاند تکے چھپ چھپ کے اونچی کھجور سے

ملنے کو آئی تھی میں تو حضور سے

چاند تکے چھپ چھپ کے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مزید :

رائے -کالم -