وہوا گر یجویشن امتحانات کیلئے سنٹر کی عدم دستیابی ، طلبہ کا مستقل داؤ پر لگ گیا

وہوا گر یجویشن امتحانات کیلئے سنٹر کی عدم دستیابی ، طلبہ کا مستقل داؤ پر لگ ...

وہوا(نمائندہ پاکستان) وہوا میں بی اے، بی ایس سی امتحانی سنٹر کی عدم دستیابی، طلبہ کے غریب والدین اپنے بچوں و بچیوں کو امتحان دلانے کے لیے 50کلومیٹر دور تونسہ شریف لے جانے سے قاصر، طلباء و طالبات کا مستقبل داؤ پر لگ گیا، طلباء کی جانب سے فوری امتحانی سنٹر کے قیام کا مطالبہ، وہوا اور گردونواح کے طلباء زوہیب نثار، محمد علی، عبدالصمد نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ وہوا (بقیہ نمبر37صفحہ7پر )

اور قریبی دیہاتوں کے بی ایس سی، بی اے کے سینکڑوں ریگولر اور پرائیویٹ طلباء و طالبات ہر سال بیچلر کلاسوں میں داخلہ تو لے لیتے ہیں مگر وہوا میں امتحانی سنٹر نہ ہونے کے باعث ان میں سے اکثر طلباء وطالبات امتحان دینے سے محروم رہ جاتے ہیں طلباء امان اللہ، عبدالقدیر، احمد بخش، زوبیر احمد نے بتایا کہ وہ دیہات سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کے والدین مزدور پیشہ ہیں سارا دن ان کے والدین سخت محنت کے بعد صرف اتنی روزی کماتے ہیں کہ مہنگائی کے اس دور میں بمشکل گھر کا گزارہ ہوتا ہے اس لیے وہ ہماری پڑھائی کے اخراجات برداشت کرنے سے قاصر ہیں انہوں نے کہا کہ بوائز ڈگری کالج میں بی اے ، بی ایس سی کا امتحانی سنٹر نہ ہونے سے ان کے غریب والدین پچاس کلومیٹر دور تونسہ شریف جا کر امتحان دینے کے اخراجات برداشت نہیں کرسکتے جس سے ان کا قیمتی امتحانی سال ضائع ہونے کا اندیشہ ہے طالبات کے والدین فیض اللہ، محمد بخش، ذوالفقار احمد، ذوالقرنین ، محمد انور نے بتایا کہ غربت کے باعث وہ اپنی بچیوں کو شہر سے باہر امتحان نہیں دلاسکتے جس سے ان کی بچیوں کی تعلیم حاصل کرنے کے خواہش پوری نہیں ہوسکتی اور وہ اپنے بچیوں کی تعلیم کی حسرت پوری نہ کرسکنے پر دل ہی دل میں کڑھتے رہتے ہیں انہوں نے وزیر اعلٰی پنجاب سردار عثمان خان بزدار، صوبائی وزیر تعلیم پنجاب، ڈائریکٹر کالجز ڈیرہ غازی خان اور کنٹرولر امتحانات بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے وہوا ڈگری کالج میں فوری طور پر بی ایس سی، بی اے کا امتحانی سنٹر قائم کرکے سینکڑوں طلباء وطالبات کے مستقبل کو تاریک ہونے سے بچانے کا مطالبہ کیا ہے۔

گریجوایشن امتحانات

مزید : ملتان صفحہ آخر