ہاؤس جاب ختم کرنیوالے 75 سٹوڈنٹس 5 ماہ سے سرٹیفکیٹ سے محروم

ہاؤس جاب ختم کرنیوالے 75 سٹوڈنٹس 5 ماہ سے سرٹیفکیٹ سے محروم

  

ملتان( وقائع نگار)نشتر میڈیکل یونیورسٹی میں ہاوس جاب ختم کرنے والے 75 میڈیکل سٹوڈنٹس گزشتہ پانچ ماہ سے زاہد کا عرصہ گزرنے کے باوجود مستقل پی ایم ڈی سی سرٹیفیکیٹ لینے سے محروم ہونے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔جس پر ڈاکٹر تنظیموں نے ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔نشتر میڈیکل سٹوڈنٹس ذرائع کے مطابق نشتر میڈیکل یونیورسٹی کو جب کالج کا درجہ حاصل تھا۔تو اس وقت نشتر میڈیکل کالج(بقیہ نمبر16صفحہ12پر )

میں ایم بی بی ایس کے داخلے کیلئے 250 سیٹیں مختص کی گئی تھی۔جس کے بعد سابق حکومت نے ان سیٹوں میں 75 مزید سیٹوں کا اضافہ کردیا۔جس کے بعد نشتر میڈیکل کالج میں مجموعی طور پر سیٹوں کی تعداد 325 ہوگئی ہے۔یہاں ڈاکٹروں کی تنظیموں کا یہ بھی کہنا ہے کہ نشر سابق میڈیکل کالج موجودہ درجہ نشتر میڈیکل یونیورسٹی گزشتہ چار سالوں میں حکومت کی عدم توجہ کی وجہ سے ہرسال لاکھوں روپے کا پی ایم ڈی سی کو جرمانہ ادا کرکے نئی بننے والی75 ایم بی بی ایس کی سیٹوں کیلئے مستقل پی ایم ڈی سی سرٹیفیکیٹ حاصل کیا جاتا ہے۔اور رواں سال میں اس بار تقریبا 67 لاکھ سے زاہد پی ایم ڈی سی کو جرمانہ ادا کیا جائے۔رولز کے مطابق وہ میڈیکل سٹوڈنٹس جنہوں ہاوس جاب ختم کرلی ہے جب تک انکو پامانٹ پی ایم ڈی سی سرٹیفیکیٹ نہیں مل جاتا۔تب تک وہ کسی بھی سرکاری و پرائیویٹ ہسپتال میں ملازمت نہیں کر سکتے۔ اور نہ ہی اپنا کلینک بنا کر پرائیویٹ پریکٹس کر سکتے ہیں۔میڈیکل سٹوڈنٹس نے مذکورہ صورت حال پر صحت کے اعلی حکام سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔جبکہ نشتر حکام کا اس بارے میں کہنا ہے کہ میڈیکل یونیورسٹی میں ٹیچنگ فیکلٹی کی کمی ہے۔جس کو پورا کرنے کیلئے انٹرویوز بھی لئے گئے ہیں۔حکومت سے ملنے والی اضافی سیٹوں کی پی ایم ڈی سی سے باضابطہ منظوری کیلئے پنجاب حکومت وصحت انتظامیہ کو تحریری طور پر آگاہ کیا گیا۔جن کے احکامات آنے کی صورت میں اگلہ لائحہ عمل بنایا جائے گا۔

سرٹیفکیٹ

مزید :

ملتان صفحہ آخر -