جنرز ، آئل ملزمالکان مشتعل ، آج سے کپاس ، سیڈ کی خریداری بند کرنیکا اعلان

جنرز ، آئل ملزمالکان مشتعل ، آج سے کپاس ، سیڈ کی خریداری بند کرنیکا اعلان

  

ملتان ( نیوز رپورٹر)پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن نے وفاقی کابینہ کی جانب سے سیلز ٹیکس کا پرانا نظام بحال نہ کرنے کے خلاف ملک بھر کے کاٹن جنرز اور آئل ملز مالکان نے آج 9 نومبر سے ملک بھر میں کپاس اور کاٹن سیڈکی خریداری معطل کرنے کا اعلان کردیا۔ کاشتکاروں اور کاٹن سیکٹر کے(بقیہ نمبر17صفحہ12پر )

تمام سٹیک ہولڈرز میں تشویش کی لہردوڑ گئی چند روز قبل پی سی جی اے کی جنرل باڈی کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین میاں محمود احمد و پی سی جی اے ممبران نے مطالبہ کیا تھا کہ سیلز ٹیکس کا پرانا نظام بحال کیا جائے تاکہ کاٹن جنرز اور آئل ملز مالکان قومی خزانے میں ایک ارب 50 کروڑ روپے سے زائد کا سیلز ٹیکس کی مد میں ریونیو قومی خزانے میں جمع کراسکیں لیکن گزشتہ روز ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ایف بی آر کی جانب سے سیلز ٹیکس کے پرانے نظام کی بحالی کی سمری ہی منظوری کیلئے پیش نہیں کی گئی جس پر احتجاجاً ملک بھر کے کاٹن جنرز اور آئل ملز مالکان نے کپاس اور کاٹن سیڈ کی خریداری معطل کرنے کا اعلان کیاہے جبکہ13 نومبر منگل کے روز ملک بھر میں ایف بی آر کے تمام دفاتر کے سامنے احتجاجی دھرنے دیئے جائیں گے۔ یاد رہے کہ مارچ 2014ء میں ایس آر او188 کے تحت کاٹن سیڈ آئل کی فروخت پر 2 فیصد اور آئل کیک کی فروخت پر 5 فیصد سیلز ٹیکس ختم کرکے کاٹن سیڈ کی فروخت پر 6 روپے فی 40 کلو گرام سیلز ٹیکس عائد کیا گیا تھا لیکن اپریل 2018ء میں اس ایس آر او کی وفاقی کابینہ سے منظوری نہ ہونے کے باعث سپریم کورٹ نے اس ایس آر او کو اس کے تاریخ اجراء سے ہی منسوخ کردیا تھا جس کے باعث ایف بی آر نے کاٹن جنرز اور آئل ملز مالکان کو سیلز ٹیکس ریکوری کی کروڑوں روپے کے نوٹسز بھی جاری کررکھے ہیں۔علاوہ ازیں سیلز ٹیکس کا پرانا نظام بحال نہ کرنے کے خلاف ہڑتال کی کال پر کاٹن جنرز دو حصوں میں تقسیم ہوگئے‘ جننگ فیکٹری اور آئل مل کا کام کرنے والے کمپوزٹ یونٹ مالکان نے ہڑتال کی حمایت جبکہ سنگل یونٹ مالکان نے ہڑتال کی مخالفت کردی سنگل یونٹ مالکان کے مطابق وہ کپاس اور کاٹن کی خریداری جاری رکھیں گے اور منگل کے روز ایف بی آر دفتر کے سامنے احتجاجی دھرنا میں بھی شامل نہیں ہوں گے ذرائع کے مطابق ایف بی آر کی جانب سے ٹیکس بھی کمپوزٹ یونٹ مالکان کو بھجوائے گئے ہیں کیونکہ نئے قانون کے مطابق کاٹن سیڈ کی فی40کلو گرام فروخت پر 6روپے سیلز ٹیکس عائد کیا گیا ہے جبکہ آئل مل مالکان گزشتہ پانچ سالوں سے ٹیکس ہی ادا نہیں کررہے تھے ان کے ذمہ پانچ ارب روپے سے زائد ٹیکس بھی واجب الادا ہے جس کی ادائیگی کے لئے بھی نوٹس دےئے گئے ہیں آئل ملز مالکان نے پہلے SRO 188کو قبول کرنے سے ہی انکار کردیا تھا اب وہ ٹیکس ادا کرنے کے حق میں ہیں مگر گزشتہ پانچ سالوں کا ٹیکس ادا کرنے کیلئے تیارنہیں دوسری جانب کاٹن جنرز پر کسی قسم کا نیا ٹیکس عائد ہی نہیں کیا گیا اور وہ باقاعدہ ٹیکس کی ادائیگی بھی کررہے ہیں جس کی وجہ سے وہ کپاس اور کاٹن کی خریداری بند کرنے کے حق میں بھی نہیں ہیں کاٹن جنرز ایسوسی ایشن کی تقسیم کے بعد ہڑتال ناکام ہوتی دکھائی دے رہی ہے تاہم گزشتہ روز ہونے والے پی سی جی اے کی جنرل باڈی کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چےئرمین میاں محمود ودیگر ممبران نے مطالبہ کیا ہے کہ سیلز ٹیکس کا پرانا نظام بحال کیا جائے تاکہ کاٹن جنرز اور آئل ملز مالکان قومی خزانے میں ایک ارب 50 کروڑ روپے سے زائد کا سیلز ٹیکس کی مد میں ریونیو قومی خزانے میں جمع کراسکیں۔

سیلز ٹیکس ‘ پرانا نظام

مزید :

ملتان صفحہ آخر -