پاکستانی نوجوان سسٹم سے ’’ نالاں ‘‘ کیوں ؟

پاکستانی نوجوان سسٹم سے ’’ نالاں ‘‘ کیوں ؟
 پاکستانی نوجوان سسٹم سے ’’ نالاں ‘‘ کیوں ؟

  

پاکستان میں بسنے والے مستقبل سے مایوس نوجوان جب تعلیمی ڈگریاں حاصل کر لیتے ہیں تو انہیں ’’ نوکری ‘‘ کی ضرورت پڑتی ہے، کیونکہ نوکری کرکے ایک تو ماں باپ اور بہن بھائیوں کا سہارا بنا جاتا ہے اور دوسرا اپنی پہچان بنانے اور شادی کے لئے تگ و دو کرنا بھی فرض بن جاتا ہے ۔پاکستانی نوجوانوں کی کچھ تعداد تو اپنے بل بوتے اور سفارش وغیرہ سے اپنے معیار کے مطابق ’’ جاب ‘‘ حاصل کر لیتی ہے،

جبکہ کچھ نوجوان سفارش ، پیسہ اور واقفیت نہ ہونے کی وجہ سے ’’ جاب ‘‘ جیسی سوغات سے محروم رہ جاتے ہیں ، محروم رہ جانے والا یہ طبقہ یا تو حکومت وقت کو کوستا ہے اور یا پھر اپنے ذہنوں میں اُن افراد کے خلاف نفرت پیدا کر لیتا ہے، جس کے متعلق وہ سمجھ لے کہ اُس نے ان کا حق مارا ہے۔

اِسی وجہ سے جرائم کی دُنیا میں پڑھے لکھے اور اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد بھی شامل ہو جاتے ہیں،جو اپنی جگہ ایک لمحہ فکریہ ہے ۔یہاں یہ لکھنا بھی ضروری ہے کہ پاکستانی نوجوانوں کی تعداد کا بہت بڑاحصہ جب اپنے وطن عزیز کے سسٹم سے نہیں لڑ سکتا اور وہ اپنی عملی میدان میں دکھائی جانے والی صلاحیتوں کو پس پشت ہوتا دیکھتا ہے تو اُس کے دِ ل میں مُلک چھوڑ کر مستقبل کو تابناک بنانے کے لئے دیارِ غیر جانا بہتر محسوس ہوتا ہے لہٰذا وہ اپنی اس خواہش کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے یا ایجنٹ مافیا کے ہاتھ چڑھ جاتا ہے یا اپنے والدین کی زمین جائیداد بیچ کر خود ہی رختِ سفر باندھ لیتا ہے، جس میں کامیابی اور ناکامی کا تناسب ففٹی ففٹی ہوتا ہے۔

کچھ نوجوان ایجنٹ مافیا کے ہاتھوں یورپی ممالک کی ’’ ڈنکیاں ‘‘ لگاتے ہوئے اور ناجائز راستوں سے بغیر ویزوں کے سیکیورٹی اہلکاروں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں اور باقی ماندہ راستوں کی خاک ہو کر اپنے خالق حقیقی سے جا ملتے ہیں ، ان نوجوانوں کی ایک تعداد جب مشکلات اور کٹھن حالات کے باوجود دیار غیر میں پہنچ جاتی ہے تو وہاں اُن کو قانونی طور پر رہائش رکھنے اور کام کرنے کے کاغذات نہ ہونے کی وجہ سے یا تو ’’ ڈی پورٹ ‘‘ ہونا پڑتا ہے یا انہیں جیلوں کی سزائیں کاٹنی پڑتی ہیں ،ڈی پورٹ ہونے یا جیل میں جانے سے اُس نوجوان کا دوسرے مُلک جانے کے لئے لگایا ہوا سرمایہ بھی یکسر ضائع ہو جاتا ہے اور اس ضیاع کا تقاضا وہ کسی سے نہیں کر سکتا ۔

ساؤتھ ایشیاء کے ممالک جن میں جاپان ، کوریا ، ملائیشیا ، سنگا پور ، ہانگ کانگ ، چائناء ، میکاؤ شامل ہیں جہاں پاکستانی نوجوان اپنا مستقبل بہتر بنانے کے لئے جاتے ہیں۔دوسری طرف یورپی ممالک میں جرمنی ، سپین ، ہالینڈ ، بیلجیم ، یونان ، اٹلی، فرانس ، آسٹریا ، پولینڈ ، ڈنمارک ، ناروے ، سویڈن ، سوئٹزر لینڈ اور برطانیہ جیسے مُلک شامل ہیں جہاں ایجنٹ مافیا پاکستانی نوجوانوں کو قانونی اور غیرقانونی طریقوں سے جانے کی ترغیب دیتا ہے۔ پاکستانی نوجوانوں کے والدین بھی وطن عزیز کے سسٹم کی ناکامی کی وجہ سے اپنے بچوں کو دوسرے ممالک جانے کی اجازت دے دیتے ہیں ، والدین کے لئے وہ لمحہ بہت ہی تکلیف دہ ہوتا ہے، لیکن بچوں کی خواہش اورحکومتی نمائندوں کی طرف سے نوجوانوں کے بہتر مستقبل کے لئے عدم دلچسپی اور اُن کے لئے بنائی جانے والی پالیسیوں کے فقدان کی وجہ سے والدین ایسا ’’ رسک ‘‘ لینے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

لہٰذا یہ کہنا قطعاً غلط نہ ہوگا کہ اگر پاکستان میں نوکریوں اور دوسرے معاملات میں یکساں انصاف ہو ، سفارش اور رشوت کا دُور دُور تک شائبہ تک نہ ہو تو پاکستانی نوجوان غیر قانونی ہتھکنڈوں سے دوسرے ممالک جانے سے گریز کریں گے اور وہ وطن عزیز کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنا فرائض میں شامل کرکے جرائم کی دُنیا سے یقیناًبچ جائیں گے۔دوسرے ممالک میں پاکستانی سفارت خانوں اور تعینات عملے کو بھی چاہئے کہ وہ اُن پاکستانیوں کی خبر گیری کریں جو غیر قانونی رہائشی ہونے یا کام کرنے کا پرمٹ نہ ہونے کی وجہ سے غیر ملکی جیلوں میں کسی مسیحا کے منتظر اپنا وقت گزار رہے ہیں ۔

یورپی جیلوں میں پاکستانیوں کی بہت کم تعداد بڑے مقدمات میں قید کاٹ رہی ہے،جبکہ پاکستانی قیدیوں کی زیادہ تعداد معمولی نوعیت کے مقدمات میں ملوث ہونے پر جیلوں میں بند ہے اِن میں دوسرے ممالک میں غیر قانونی طور پر داخل ہونا یا بغیر کاغذات کے کام کرنا جیسے مقدمات کا سامناپاکستانی نوجوانوں کی زیادہ ترتعداد کو ہے اور اُن کا وہاں کوئی پُرسانِ حال نہیں۔ ایجنٹ مافیاکے جھانسے میں آکر غیر قانونی طور پر بیرون مُلک جانے والے کچھ پاکستانی جاپان کی جیلوں اور امیگریشن کے حراستی مراکز میں اپنی سزا مکمل کر لینے کے بعد بھی اس لئے قیدہیں کہ ان کے پاسپورٹ اور دیگر کاغذات زائد المیعاد ہو چکے ہیں اور وطن واپسی کے لئے پاکستانی سفارت خانہ بھی ان کی فوری مدد سے قاصر ہے، کیونکہ سفر ی کاغذات یعنی آؤٹ پاس جاری کرنے کے لئے پاکستانی سفارت خانے کو وزارت خارجہ اور نادرا سے تصدیق کرانا پڑتی ہے کہ یہ قیدی پاکستانی ہے یا نہیں؟

ایسی ہی ایک اور رپورٹ گزشتہ دِنوں تھائی لینڈ کی مختلف جیلوں میں قید سینکڑوں پاکستانیوں کے حوالے سے بھی منظر عام پر آچکی ہے،جو اپنے سفارتخانے کی جانب سے قانونی امداد کے منتظر ہیں اور طویل سزاؤں کا سامنا کرنے پر مجبور ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق اس وقت 8597 پاکستانی افراد دُنیا کی مختلف جیلوں میں مختلف کیسوں کے تحت قید ہیں، ان میں سے 96فیصد غیرقانونی تارکین وطن ہیں، جن کا مقدمہ لڑنے اور انہیں بازیاب کرانے کے لئے وکیل دستیاب نہیں،جبکہ بعض ممالک میں وہاں کی مقامی زبان کا مسئلہ بھی درپیش ہے۔ وزیراعظم عمران خان اپنی تقریر میں اس بات کا اظہارکر چکے ہیں کہ یہ ایک تشویشناک معاملہ ہے ،

اسی طرح ہزاروں کی تعداد میں پاکستانی نوجوان ایجنٹ مافیا کے جھانسے میں آ کر تعلیمی ویزوں کے نام سے بھی بیرون مُلک گئے ہوئے ہیں اور متعدد وہاں جانے کی تیاریوں میں ہیں تعلیم کے نام پر دوسرے ممالک جانے والے طالب علموں کو حکومتی تعاون حاصل ہونا بہت ضروری ہے تاکہ وہ طالب علم دیارِ غیر میں اپنے آپ کو محفوظ تصور کریں، چونکہ یہ معاملہ وطن عزیز کی عزت و آبرو کا معاملہ ہے، لہٰذا سفارت خانوں میں تعینات پاکستانی حکام کو اُن لاوارث قیدیوں کی معلومات اور تصدیق کرنے کے عمل کو تیز اور قانونی چارہ جوئی کرتے ہوئے اُن کی رہائی اورپاکستان واپسی کا انتظام ترجیحی بنیادوں پر کرنا چاہئے ، ساتھ ساتھ اُس ایجنٹ مافیا کا صفایا بھی کیا جائے،جو پاکستان کی نوجوان نسل کو سہانے خواب دکھا کر دوسرے ممالک میں جانے پر مجبور کرتا ہے ، اُس ایجنٹ مافیا کے پیچھے کون ہے؟

اور اِن کی پشت پناہی میں کن شرفاء کے نام آتے ہیں اِس خوف سے بالا تر ہو کر انسانی سمگلنگ کا خاتمہ کرنا حکومت وقت کا اؤلین فرض ہونا چاہئے تاکہ ہماری نوجوان نسل ’’ ہجرت ‘‘ جیسے ناسور سے محفوظ رہ سکے اور غیر قانونی سفر اور ’’ڈنکیاں ‘‘ کسی پاکستانی نوجوان کی موت کا سبب نہ بنیں اور کسی لخت جگر کی میت اُس کے والدین کو وصول نہ کرنی پڑے ۔

مزید :

رائے -کالم -