شانگلہ کے عوام یونیورسٹی کیمپس کا خاتمہ ہر گز برداشت نہیں کرینگے : ایکشن کمیٹی

شانگلہ کے عوام یونیورسٹی کیمپس کا خاتمہ ہر گز برداشت نہیں کرینگے : ایکشن ...

  

الپوری(ڈسٹرکٹ رپورٹر )شا نگلہ ایکشن کمیٹی نے سوات یونیورسٹی شانگلہ الپوری کیمپس کے خاتمے کو یکساں مسترد کرتے ہوئے صوبائی حکومت سے کیمپس کیلئے گزشتہ چار سال سے مکمل شدہ خالی ٹیکنیکل کالج کے عمارت کو یونیورسٹی کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر دیا۔ یونیورسٹی کیمپس خاتمہ شانگلہ کے عوام ہرگز برداشت نہیں کرینگے۔ صوبائی حکومت ایسے فیصلوں سے اجتناب کریں ۔ مسئلہ شانگلہ کے ہزاروں طلباء کے مستقبل کا ہیں کسی بھی صورت فیصلہ قبول کرنے کے حق میں نہیں۔ سوات یونیورسٹی کیمپس شانگلہ الپوری کے عوام کا درینہ مطالبہ تھا۔ لہذا اب بلڈنگ کی عدم فراہمی کے باعث یونیورسٹی کیمپس شانگلہ الپوری خاتمہ شانگلہ عوام کیلئے کسی بھی المیہ سے کم نہیں ہیں ۔دو سال سے جاری کیمپس کو اب ختم کرنا افسوس ناک ہیں ، شانگلہ کے تمام سیاسی ، سماجی اور سول سوسائیٹی اس وقت اس بات پر متفق ہیں کہ یونیورسٹی کیمپس کو خالی تعمیر شدہ ٹیکنیکل کالج کو منتقل کیا جائے ۔ ٹیکنیکل کالج گزشتہ چار سال سے مکمل ہے تاہم اتنا عرصہ گزرنے کے باوجود ٹیکنیکل کالج حوالہ نہیں کیا گیا اور دن بہ دن کروڑوں فنڈ سے تعمیر کالج خستہ حال ہوتا جا رہا ہے۔ سوات یونیورسٹی کیمپس شانگلہ الپوری یہاں طویل رقبے پر مشتمل اس عمارت پر منتقل کیا جائے تو ایک طرف یہاں پر یونیورسٹی کے کلاسیز لئے جائیں گے تو دوسری طرف اس عمارت میں یونیورسٹی ٹیکنیکل تعلیم بھی شروع کرے گی جس سے شانگلہ کے ہزاروں طلباء مستفید ہوں گے اور ان کا مستقبل روشن ہو گا ۔ شانگلہ ایکشن کمیٹی نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان سے پر زور مطالبہ کیا کہ شانگلہ کے اس کیمپس کے خاتمے پر سنجید گی سے نوٹس لے اور شانگلہ کے ہزاروں طلباء کے مستقبل کو محفوظ بناکر کیمپس کو ٹیکنیکل کالج منتقل کیا جائے ۔شا نگلہ ایکشن کمیٹی کا اجلاس میں شانگلہ بار ایسوی سی ایشن اور ایکشن کمیٹی کے صدر محمد نعیم خان ایڈوکیٹ کے زیر صدارت ڈسٹرکٹ بار روم شانگلہ بمقام الپوری منعقد ہوا تھا جس میں جنرل سیکرٹری صدر رحمان ایڈوکیٹ کے علاوہ سینئر ممبران میں سے حق نوار خان ایڈوکیٹ ، شاہ فواد خان ایڈوکیٹ ، سردار علی ایڈوکیٹ ، میاں زاہد علی ایڈوکیٹ ،شاہ ایرانی ایڈوکیٹ ، شاہ فواد خان شاہپوری ایڈوکیٹ ، عبد الصبور ایڈوکیٹ ، حضرت یوسف ایڈوکیٹ ، فتحیاب علی خان ایڈوکیٹ ، سیف الرحمان ایڈوکیٹ ، نادرخان ایڈوکیٹ ، اشفاق حسین ایڈوکیٹ ، واقف شاہ ایڈوکیٹ ، سلیمان شاہ ایڈوکیٹ ، اقبال حسین ایڈوکیٹ و دیگر ممبران نے کثیر تعداد میں شرکت کی اور دوران اجلاس انھوں نے دیگر قرارددیں بھی منظور کرائی جس میں محکمہ جنگلات کی جانب سے لوکل کوٹے کی بندش اور شانگلہ کے مختلف علاقوں کے سڑکوں کی تعمیر میں سست روی اور بعض سڑکوں پر کام بندش سمیت ٹی ایم اے کے ٹرانسپورٹ اڈوں کی بدتر صورتحال بھی شامل ہیں ۔ اراکین نے اپنے خطاب میں یونیورسٹی کیمپس خاتمے کے فیصلے کو شانگلہ کے ساتھ امتیازی سلوک قرار دے دیا اور کہا کہ یونیورسٹی کیمپیس الپوری میں دو سال سے کلاسیز لے رہا ہے اب اس کی بندش ناقابل قبول اس لئے بھی ہے کہ یہاں پر بلڈنگ موجود ہے اور وہ بھی گزشتہ چار برس سے کسی کے استعمال میں نہیں جو یونیورسٹی کیمپس کیلئے اس وقت کے مطابق موزون ہیں۔ اراکین نے کہا کہ شانگلہ میں سردی شروع ہو چکی ہے اور محکمہ جنگلات نے یہاں پر لوکل کوٹہ بند کیا ہے شانگلہ میں گیس یا یگر کوئی بندوبست موجود نہیں اور سردیوں میں سوختی لکڑی کا انحصار صرف یہاں کے جنگلات پر ہے ۔ جنگلات کی کٹائی کے خلاف ہے تاہم اس کے آڑ میں عوام کو تنگ کرنا نامناسب ہیں فی الفور لوکل کوٹہ پر درختان دی جائے تاکہ عوام شدید سردی سے نمٹے ۔ شانگلہ کے دور افتادہ علاقوں میں سڑکوں کی ناقص صورت حال سے عوام میں شدید بے چینی ہے اور بعض سڑکوں کا حال انتہائی گمبیر ہیں اور ائے دن اس سڑکوں کی تعمیر نہ ہونے کی وجہ سے حادثات میں اضافہ ہو رہا ہیں ۔ کروڑہ اجمیر روڈ ، کروڑہ چکیسر روڈ خستہ حالی کا شکار ہیں جبکہ متعلقہ ادارے صرف اور صرف یقین دہانیوں اور تسلیوں سے کام چلا رہے ہیں ۔ تمام سڑکوں کو فوری طور پر کام شروع کی جائے اور جن پر شروع ہے اس پر مزید کام تیز کیا جائے ۔ ایکشن کمیٹی اجلاس کے قرار دادوں میں ایک قرارداد یہ بھی تھی کہ ہر سال تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن ٹرانسپورٹ اڈوں کی مد میں کروڑوں روپے حصول کرتے ہیں جبکہ ٹرانسپورٹ گاڑیاں اڈوں سے باہر مین سڑکوں پر کھڑی ہوتی ہیں جسکی وجہ سے رہگیروں کو شدید قسم کی مشکلات درپیش ہیں.ٹرانسپورٹ اڈوں میں بنیادی سہولیات کا فقدان ہیں جبکہ ٹی ایم اے اس حوالے سے خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہے ہیں ۔ شانگلہ ایکشن کمیٹی کے اجلاس میں متفقہ طور پر فیصلہ کی گیا کہ سوات یونیورسٹی کیمپس شانگلہ کے خاتمے کو کسی صورت قبول نہیں کریں گے ۔دیگر منظور قراردادوں پر عملدارامد فوری طور پر کیا جائے جبکہ ایکشن کمیٹی کا دوسرا اجلاس بھی انقریب بلایا جائے گا جسمیں شانگلہ سے منتخب تمام اراکین اسمبلی ، مشران علاقہ اور ایکشن کمیٹی کے دیگر ممبران کو مدعو کیا جائے گا تاکہ شانگلہ میں جاری اس مسئلوں کے حل کیلئے جامع اقدامات اٹھائیں جائے ۔ ایکشن کمیٹی شانگلہ میں جاری اس صور حال پر خاموش نہیں بیٹھے گی اور بھر پور احتجاج بھی کریں گی۔ ۔

Ba

مزید :

پشاورصفحہ آخر -