عدالت نے نیب کو پیپلز پارٹی کی رہنما عاصمہ عالمگیر کی ممکنہ گرفتاری سے روک دیا

عدالت نے نیب کو پیپلز پارٹی کی رہنما عاصمہ عالمگیر کی ممکنہ گرفتاری سے ...

پشاور(نیوزرپورٹر) پشاور ہائیکورٹ نے نیب کو پیپلز پارٹی کی رہنما عاصمہ عالمگیر کی ممکنہ گرفتاری سے روک دیا عدالت نے نیب حکام کو عاصمہ عالمگیر کے خلاف انکوائری 45 دن میں مکمل کرنے اور بغیر وارنٹ اور کال نوٹسز پر پیشی کے دوران گرفتار نہ کرنے کا حکم دیا ہے چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ جسٹس وقار احمد سیٹھ اور جسٹس ایوب خان پر مشتمل دو رکنی بینچ نے عاصمہ عالمگیر کی نیب کے خلاف دائر درخواست پر کیس کی سماعت کی درخواست گزار کے وکیل بیرسٹر مدثر امیر نے عدالت کو بتایا کہ نیب گزشتہ چار سال سے انکے موکل کے خلاف تفتیش کر رہا ہے انکا موکل نوٹسر پر پیش ہو کر نیب کے ساتھ مکمل تعاون کر رہا ہے لیکن نیب تاحال کچھ ثابت نہ کر سکا اور اب انکے موکل کو حراساں کیا جا رہا ہے پراسیکیوٹر نیب جمیل نے عدالت کو بتایا کہ نیب کی انکوائری اخری مراحل میں ہے انکے خلاف بیرون ملک جائیداد کی انکوائری رپورٹ مکمل نہیں کچھ دن میں مکمل ہو جائے گا جس کے بعد انکے خلاف ریفرنس دائر کیا جائے گا، چیف جسٹس نے پراسیکیوٹر نیب سے استفسار کیا کہ ساڑھے چار سال سے انکوائری چل رہی ہے مگر ابھی تک کیوں مکمل نہیں کی گئی ہے اس حوالے سے نیب کا قانون تو کچھ اور کہہ رہا ہے جس کے بعد عدالت نے نیب کو 45 دن میں انکوائری مکمل کرنے اور بغیر وارنٹ اور کال نوٹس کیک دوران گرفتار نہ کرنے کی ہدایت کی نیب پیپلز پارٹی کی رہنما عاصمہ عالمگیر کے خلاف امدن سے زیادہ اثاثے اور بیرون ملک جائیداد بنانے پر انکوائری کر رہا ہے

مزید : پشاورصفحہ آخر