انسانی زندگیوں کا تحفظ تمام باتوں سے مقدم ، جسٹس عائشہ اے ملک

انسانی زندگیوں کا تحفظ تمام باتوں سے مقدم ، جسٹس عائشہ اے ملک

لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہور ہائیکورٹ کی جسٹس عائشہ اے ملک نے ماحولیاتی آلودگی اور سموگ کا باعث بننے کی بنیاد پر بند کئے گئے اینٹوں کے بھٹوں کی بحالی کے لئے دائر درخواستیں مستردکرتے ہوئے قراردیا کہ انسانی زندگیوں کا تحفظ تمام باتوں سے مقدم ہے ،ماحولیاتی آلودگی اورسموگ کا باعث بننے والے بھٹوں کو کام کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔فاضل جج نے درخواست ناقابل سماعت قراردیتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ اس معاملے پر دادرسی کے لئے ہائی کورٹ مناسب فورم نہیں ہے ،درخواست گزاروں کو متعلقہ فورم سے رجوع کرنا چاہیے ۔ذوالفقار علی سمیت متعدد بھٹہ مالکان کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا تھاکہ سموگ اورآلودگی کا باعث بننے کا جواز بنا کر بھٹے بند کردیئے گئے ،اس بابت پنجاب انوائرمیٹنل پروٹیکشن اتھارٹی اورحکومت کی پالیسی آئین سے متصادم ہے ،بھٹے بند ہونے کی وجہ سے کاروبار بند ہو گئے ہیں ، آئین پاکستان حکومتی پالیسی کے تحت شہریوں کے کاروبار کو بند کرنے کی اجازت نہیں دیتا،بھٹے پر کام کرنے والوں کو بے زور گاری کا سامنا ہے ۔

،اس لئے پنجاب انوائرمیٹنل پروٹیکشن اتھارٹی کا اقدام کالعدم قرار دے کر بھٹے بحال کرنے کا حکم دیا جائے۔

جسٹس عائشہ

مزید : علاقائی