بجلی چوری روکنے اور سستی کرنے کی تجاویز

بجلی چوری روکنے اور سستی کرنے کی تجاویز
بجلی چوری روکنے اور سستی کرنے کی تجاویز

  

عوام کا موجودہ حالات میں سب سے بڑا مسئلہ یوٹیلٹی بلز بن گیا ہے۔ گزشتہ اور موجودہ حکومت کے عوامی ریلیف کے نعرے اور وعدے سب ہوا میں اُڑتے نظر آ رہے ہیں، ملکی معیشت کے بحران کے حل کے نام پر گزشتہ 20سال سے اقتدار میں رہنے والوں نے ورلڈ بنک اور آئی ایم ایف سے قرضوں کے حصول کے لئے عوام کو مہنگائی کی دلدل میں پھینک دیا ہے۔

20سال پہلے 50پیسے والا یونٹ اب10روپے یونٹ سے بھی اوپر جاتا دکھائی دے رہا ہے۔ گزشتہ حکومتوں نے بھی دِل کھول کر قرضے حاصل کئے اور عوام کو آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کے ہاں گروی رکھ دیا،موجودہ حکومت بھی گزشتہ حکومتوں کی روایت پر پوری طرح عمل درآمد کر رہی ہے۔آئی ایم ایف کا وفد جو قرضہ دینے کی شرائط طے کرنے کے لئے پاکستان پہنچ چکا ہے اس نے قرضے کی درخواست کے ساتھ ہی یقینی قرضے کے لئے پاکستانی روپے کی بے قدری اور بجلی اور گیس مہنگی کرنے کی شرط رکھی تھی، نئے پاکستان میں تحریک انصاف کی حکومت نے آئی ایم ایف کے وفد کی آمد سے پہلے ہی بجلی اور گیس کا بم عوام پر گرا کر مہنگائی کو چار چاند لگا دیئے ہیں۔

عوام کی خوش قسمتی ہے سردیاں ہیں،اے سی اور پنکھے نہیں چل رہے ورنہ عوام کا کچومر نکالنے کے لئے کافی تھا۔ حکومت نے بجلی مہنگی کرنے کے ساتھ ہی عوام کو لالی پاپ دینے کے لئے بجلی چوروں کے خلاف بھرپور ایکشن شروع کر دیا ہے۔ سروے کے مطابق35فیصد بجلی چوری ہو رہی ہے، اس کے لائن لائسز غریب عوام کو برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔

بجلی، گیس اور دیگر یوٹیلٹی بلز نے عوام کا جینا دوبھر کر دیا ہے۔ عمران خان نے وزیراعظم بننے کے بعد عوامی ریلیف کے لئے تمام اداروں سے کرپشن کے خاتمے اور بجلی، گیس کی چوری روکنے اور سستی کرنے کے لئے ٹاسک فورس قائم کر دی ہیں اس کے لئے بڑے سینئر اور تجربہ کار افراد کی خدمات حاصل کرنے کا بھی دعویٰ کیا جا رہا ہے، پہلے دو ماہ میں تو ٹاسک فورس نے عوام کو ریلیف دینے کی بجائے بوجھ ہی بڑھایا ہے، بجلی چوری کیوں نہیں رک رہی، بجلی سستی کیوں نہیں ہو رہی، اس کے لئے مجھے واپڈا کے سابق چیئرمین جنرل(ر)ذوالفقار احمد خان کو سننے کا موقع ملا ان کے تجربے اور حقائق پر مبنی تجاویز دِل کو لگیں۔قارئین کے ساتھ ساتھ حکومت بھی استفادہ کر سکتی ہے۔

سابق چیئرمین کا کہنا ہے کہ ہماری بدقسمتی ہے، بجلی، گیس، پانی کول کو علیحدہ علیحدہ وزارتیں ڈیل کر رہی ہیں، جس سے اخراجات ناقابلِ برداشت ہیں، تمام انرجی ذرائع کی ایک ہی وزارت ہونی چاہئے۔

دوسرا اہم مسئلہ لائٹ مین فار لائٹ جاب کا ہے، جو ہمارے سرکاری اداروں میں بالعموم اوربجلی کمپنوں میں بالخصوص نہیں ہے۔ لائن مین سے لے کر چیف ایگزیکٹو تک کی پوسٹ سفارش اور رشوت کی بنیاد پر کی جاتی ہے، بندے میرٹ پر لگائے جائیں، بااختیار بنائے جائیں کم از کم تین سال تک ایک پوسٹ پر رکھ کر ٹارگٹ دیا جائے، نتائج مثبت آئیں گے۔

اوگرا اور نیپرا ایک ہی کام کر رہے ہیں۔ ایک گیس کو دوسرا بجلی کو ریگولیٹ کرنا ہے۔ ان کا چیف ایگزیکٹو ایک ہونا چاہئے، ہمارے ہاں گنگا اُلٹی بہہ رہی ہے۔ اوگرا اور نیپرا کا نظام بلاوجہ دو حصوں میں تقسیم کر کے اخراجات کا بوجھ بڑھا دیا گیا ہے،حالانکہ ایک چیف ایگزیکٹو ایک ہیڈ آفس سے بہتر نتائج حاصل کئے جا سکتے ہیں۔

جنرل صاحب کا کہنا ہے سفارش اور مفادات اتنے بڑھ چکے ہیں ہمارے دور میں گریڈ21 کا ایک چیف ایگزیکٹو ہوتا تھا، ہر کمپنی کے اندر گریڈ 20کے پانچ افسر ہوتے تھے، 7 ایس سی ہوتے تھے اِس وقت25کے قریب ہیں۔

ہمارے دور میں پرانے میٹر کی جگہ ماڈرن میٹر لگانے کا تجربہ کیا گیا،اربوں روپے ضائع کئے گئے، ہمارے تجربہ کار اہلکاروں کی ملی بھگت سے ماڈرن میٹروں کو بھی ریورس کرنے کا کامیاب تجربہ کیا جاتا رہا، بجلی چوری اگر پکڑی گئی تو صرف فوج کی مدد سے روکی گئی،بجلی چوری میں وزیر، صنعتکار پکڑے گئے،غریب آدمی بجلی چوری نہیں کرتا، بجلی چوری میٹر بدلنے یا میٹر ریڈر بدلنے سے نہیں رکے گی۔

بجلی کی چوری رکے گی تو چیک اینڈ بیلنس سے روکے گی، میٹر ریڈر کو الزام دیا جاتا ہے، حالانکہ میٹر ریڈر کے اوپر لائن مین، لائن سپرنٹنڈنٹ، ایس ڈی او،ایکسین ہوتے ہیں،جو اپنا کام نہیں کر رہے۔ بجلی سستی کرنے کے حوالے سے جنرل صاحب کی تجویز ہے کہ جب تک بجلی پانی اور کوئلے سے بنانے کی طرف نہیں آئیں گے، بجلی سستی نہیں ہو گی۔عمران خان کی حکومت چین سے استفادہ کرے گی۔

معلوم ہوا ہے دورے میں اس مسئلے پر بات اور معاہدہ بھی ہوا ہے۔اگر حکومت فوری طور پر کم از کم10ہزار میگاواٹ بجلی کوئلے سے بنا لے اور بھاشا ڈیم سمیت دیگر ڈیم بنا لے تو عوامی ریلیف کی طرف بڑا قدم ہو گا۔

سابق چیئرمین واپڈا کا کہنا ہے کہ موجودہ حالت میں واپڈا مسئلہ نہیں ہے،بلکہ اس کی کمپنیاں مسئلہ ہیں۔ آئی پی پیز سب بڑے مگر مچھ ہیں، انٹرنیشنل وکلا کی ٹیم انہوں نے رکھی ہوئی ہیں، آئی پی پیز کے ساتھ مہنگے داموں کئے گئے معاہدے ہیں، اِس وقت دس آئی پی پیز جن کے ٹیرف بہت زیادہ ہیں، دس برسوں میں دس آئی پی پیز گزشتہ حکومتوں کا کارنامہ ہے، جس نے عوام پر ہمیشہ شب خون مارا ہے، فرنس آئل کے پلانٹ دُنیا بھر میں 05 ملین ڈالر فی میگاواٹ ہیں،جبکہ ہمارے ہاں ایک ملین پر جا رہے ہیں، ہمارا ساہیوال کا پلانٹ ایک ملین ڈالر فی میگاواٹ ہے،دُنیا بھر میں066ملین ڈالر میگاواٹ ہے، گیس کے پلانٹ دُنیا بھر میں 056 سے 065 ملین ڈالر فی میگاواٹ ہے، ہمارے ہاں 11سے 12ملین ڈالر فی میگاواٹ ہے بجلی مہنگی ہونے کی بنیادی وجہ تیل اور گیس سے بجلی بنانا ہے اس کو کوئلے پر لانا پڑے گا۔ سیاسی مداخلت سے بالاتر ہو کر میرٹ کو اپنانا ہو گا، بجلی چوری کی بنیادی وجہ ہی رشوت اور سیاسی دباؤ ہے اس پر واضح پالیسی بنانا ہو گی۔

میرا خیال ہے عمران خان اگر چاہے تو یہ کر سکتے ہیں ان کا کرپشن کے خاتمہ کا عزم قابل ستائش ہے، بجلی اور گیس کے بورڈ آف ڈائریکٹر ممبرز کو سیاست دانوں میں بندر بانٹ کی بجائے پروفیشنلزم لانا ہو گا، پوری دُنیا میں کمپیوٹرائز سسٹم آ چکا ہے۔

میٹر ریڈر اور لائن مین سے بھی جان چھوٹ جائے گی، بل خودبخود گھروں میں پرنٹ ہو سکتے ہیں اس کے لئے بڑا اپریشن کرنے کی ضرورت ہے، عوام کو مہنگائی کی دلدل سے نکالنے، صنعتوں کو چلانے کے لئے بجلی اور گیس کا ریلیف ضروری ہے۔

مزید : رائے /کالم