صدر ٹرمپ نے عدم تعاون پر اٹارنی جنرل کو برخواست کیا

صدر ٹرمپ نے عدم تعاون پر اٹارنی جنرل کو برخواست کیا

واشنگٹن( اظہر زمان،بیورو رپورٹ) صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے خلاف تفتیش میں ساتھ نہ دینے پر اٹارنی جنرل جیف سیشنز کو برخواست کر دیا ہے۔ صدر نے ان سے استعفیٰ طلب کیا تھا جس کی تعمیل کرتے ہوئے وہ فوری طور پر مستعفی ہو گئے۔ ضوابط کے مطابق صدر اٹارنی جنرل کو عہدے سے آسانی سے نہیں ہٹا سکتے جس کے لئے پیچیدہ طریق کار اپنانا پڑتاہے۔ صدر ٹرمپ نے ان سے استعفیٰ طلب کیا تھا جس سے وہ انکار بھی کر سکتے تھے لیکن انہوں نے تعمیل کرنے کو ترجیح دی وائٹ ہاؤس کے چیف آف سٹاف کے نام اپنے خط میں انہوں نے استعفیٰ دینے کا پیغام دیا جس کے فوراً بعد صدر ٹرمپ نے اٹارنی جنرل کے چیف آف سٹاف میتھیو وائی ٹیکر کو قائم مقام اٹارنی جنرل کے طور پر عہدہ سنبھالنے کی ہدایت کر دی۔ وائٹ ہاؤس ذرائع کے مطابق اٹارنی جنرل کی نشست کے لئے نیوجرسی کی سابق گورنر کرس کرسٹی اور فلوریڈا ریاست کے اٹارنی جنرل پام میں سے کسی ایک کا انتخاب کریں گے۔ یاد رہے گزشتہ صدارتی انتخابات میں وہ صدر ٹرمپ کے ساتھ متبادل امیدوار تھیں۔ قائم مقام اٹارنی جنرل صدارتی انتخابات میں روسی مداخلت کی تفتیش کرنے والے خصوصی قونصل رابرٹ میولر اور ڈپٹی اٹارنی جنرل راڈ روزن سٹین کو بھی فارغ کر سکتے ہیں جس کے بعد ساری تفتیش رک سکتی ہے۔

اٹارنی جنرل

مزید : صفحہ آخر