پنجاب اسمبلی کا ایوان ’’ڈونکی راجہ نامنظور‘‘ اور ’’چور چور‘‘ کے نعروں سے گونج اٹھا

پنجاب اسمبلی کا ایوان ’’ڈونکی راجہ نامنظور‘‘ اور ’’چور چور‘‘ کے نعروں ...

  

لاہور ( نمائندہ خصوصی) پنجاب اسمبلی کے ایک روزہ اجلا س میں بار بار ہنگامہ آرائی ہو تی رہی ،ایوان ’’ڈونکی راجہ نامنظور‘‘ ،’’ڈاکو راج‘‘ اور ’’ چور چور‘‘کے نعروں سے گھونج اٹھا،حکومت اور اپوزیشن ایک دوسرے پر طعنہ زنی کرتی رہی،مولانا سمیع الحق کے قتل کیخلاف مذمتی قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی گئی۔تفصیلات کے مطابق پنجاب اسمبلی کا اجلاس سپیکر چودھری پرویز الٰہی کے زیر صدارت ایک گھنٹہ پچاس منٹ تاخیر سے شروع ہوا۔اجلاس کے آغاز میں ہی رولز کو معطل کرکے وزیر قانون راجہ بشارت نے مولانا سمیع الحق کے قتل کیخلاف قرارداد پیش کی جس کو متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا،قرارداد میں کہا گیا کہ پنجاب کا یہ ایوان جید عالم دین مولانا سمیع الحق کے قتل کی شدیدالفاظ میں مذمت کرتا ہے،پاکستان ایک ممتاز عالم دین سے محروم ہو گیا، مولانا سمیع الحق کے قاتلوں کو جلد سامنے لا کر کیفرکردار تک پہنچانے کا اعادہ کرتا ہے۔بعدازاں دوبارہ رولز معطل کر کے اجلاس میں امن و امان پر بحث کرائی گئی۔رانا مشہود نکتہ اعتراض پر اپنی سیٹ سے ہٹ کر بات کرنے لگے تو سپیکر چودھری پرویز الٰہی نے انہیں ڈانٹ پلا دی، رانا مشہود پھر کھڑے ہو گئے جس پر سپیکر نے کہا اگر آپ آرام سے نہیں بیٹھیں گے تو مجھے دوسرے طریقے بھی آتے ہیں۔قبل ازیں مسلم لیگ(ن) کے معطل 6 ارکان نے ایوان میں دھماکے دار انٹری دی،لیگی ارکان شہباز شریف کی تصویر یں اٹھائے ایوان میں داخل ہوکر نعرہ بازی شروع کردی اور پھر دوسر دروازے سے باہر نکل گئے۔ اویس لغاری نے بحث کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ شہباز شریف موجودہ حکومت کے سیاسی قیدی ہیں ،ان کو ضمنی انتخابات سے قبل اس لیے گرفتار کرایا گیا کہ مسلم لیگ( ن) ناکام ہو جائے لیکن عوام نے جعلی مینڈیٹ والوں کو مسترد کردیا،مولانا معاویہ اعظم طارق نے مطالبہ کیاکہ حکومت مولانا سمیع الحق کے قتل کی تحقیقاتی رپورٹ 20دن میں پیش کرے۔انہوں نے کہا کہ اصغر خان کیس اور مشرف غداری کیس کے فیصلے اب تک نہیں ہو سکے لیکن ممتاز قادری اور آسیہ ملعو نہ کا فیصلہ چند منٹوں میں کردیا جاتا ہے،چھوٹی عدالتوں نے فیصلے کو برقرار رکھا لیکن بڑی عدالت نے ایک ملعو نہ کو رہا کردیا،اگر ایسے ہی فیصلے آتے رہے تو عوام کا عدالتوں سے اعتبار اٹھ جائے گا۔رانا مشہود احمد نے کہا مولانا سمیع الحق کے قتل پر ہاؤس کی کمیٹی یا کمیشن بننا چاہیے تھا لیکن حکومت نے ایسا کوئی اقدام نہیں اٹھایا،ماضی میں تحریک انصاف پرتشدد دھرنوں کا حصہ بنتی رہی لیکن ہم نے موجودہ دھرنوں میں شرکت نہیں کی کیونکہ ہم جمہوریت پسند لوگ ہیں۔پیپلزپارٹی کے پارلیمانی لیڈر سید حسن مرتضی نے کہا ہمیں قراردادوں سے آگے بڑھنا چاہئے،بھٹو کا بھی عدالتی قتل کیا گیا تھا جس کو عدالت بھی تسلیم کررہی ہے،وزیر قانون راجہ بشارت نے کہا کہ تفتیشی ٹیم کیساتھ مسلسل رابطے میں ہوں، مولانا سمیع الحق کے قاتلوں کو جلد از جلد گرفتار کیا جائے گا،دھرنوں سے متعلق 25مقدمات درج کیے گئے جبکہ100سے زائد شرپسندوں کو گرفتار کرلیا جبکہ 9سوسے زائد بے گناہوں کو رہا کردیا گیا ،راجہ بشارت نے کہاکہ مظاہروں میں ہونیوالے نقصانات کا ازالہ کیا جائے گا۔فیاض الحسن چوہان نے کہاکہ100ارب روپے کاسرپلس صوبہ پرویز الہی چھوڑکرگئے اور1200 ارب روپے کاخادم اعلی نے مقروض کردیا۔انہوں رانامشہود کے متعلق انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ میں اسی گھر میں شفٹ ہوا ہوں جہاں پہلے رانا مشہود رہتے تھے وہاں کے ملازمین بھی کہتے ہیں کہ سابق وزیر سر سے پاؤں تک کرپشن میں ڈوبے ہوئے ہیں،خادم اعلیٰ فرزند اعلیٰ داماد اعلیٰ چور ہیں ،گلی گلی میں چور ہیں اورجو سر سے پاؤں تک چور ہو اسے دوسرے پر انگلی نہیں اٹھانی چاہئے ۔ پولٹری انڈسڑی میں کرپشن کرکے مرغی مافیا بن گئے،مسلم لیگ(ن ) کو اخلاقی طورپرجرات نہیں ہونی چاہئے کہ کرپشن کی بات کرے۔لیگی رکن ملک احمد خان نے کہا پنجاب میں امن وامان کی صورتحال پہلے دن سے خراب ہو چکی ہے،ناصر درانی کا استعفیٰ اور پھرآئی جی پنجاب کے تبادلے کا معاملہ سب کے سامنے ہے،صوبائی وزیرمیاں اسلم اقبال نے کہا کہ میٹرو بس اور اورنج لائن ٹرین میں کرپشن کی گئی۔صوبائی وزیر چوہدری ظہیر الدین نے کہا کہ احتساب کو انتقام کا نام دینے والے عدالتوں میں اپنی بیگناہی کا ایک بھی ثبوت پیش نہیں کر سکے۔سردار شہاب الدین،بیگم عشرت اشرف،سمیع اللہ خان،مجتبیٰ شجاع الرحمن،مخدوم عثمان،ندیم قریشی،پیر اشرف رسول،میاں جلیل احمد شرقپوری ،طاہر خلیل سندھو نے بھی گفتگو کی،بعدازاں بحث مکمل ہونے پر ڈپٹی سپیکر سردار دوست محمدمزاری نے اجلاس غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردیا۔بعدازاں اسمبلی کے احاطہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز شریف نے کہا کہ یہ کتنا دوہرا معیار ہے کہ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کو صاف پانی کیس میں بلا کر آشیانہ ہاؤسنگ میں گرفتار کرلیا جاتا ہے، نیب سے احتساب عدالت میں پوچھا جاتا ہے کہ ایک پائی کی کرپشن ثابت ہوئی، جس پر وہ کہتے ہیں کہ ابھی تحقیقات کر رہے ہیں درحقیقت نیب کے پیچھے نیازی چھپا ہوا ہے جبکہ عمران خان بھی ہیلی کاپٹر کیس میں نیب میں پیش ہو چکے ہیں اور وہ اس بارے میں بھی جواب دیں۔انہوں نے عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ چار ووٹوں کے فرق سے وزیراعظم ہیں۔پنجاب اسمبلی کے احاطہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزیر اطلاعات وثقافت فیاض الحسن چوہان نے کہا کہ احتساب کا کدو کٹے گا تو پھر بٹے گا ،احتساب میں کوئی بھی جماعت والا ہو ہماری حکومت کی جانب سے کسی بھی طرح نیب اور سپریم کورٹ میں کوئی رکاوٹ نہیں کھڑی کی جائے گی ،شاہد خاقان تنقید چھوڑیں اور لوٹا گیا پیسہ واپس کرکے اڈیالہ جیل جانے کی تیاری کریں۔ فیاض الحسن چوہان نے کہا کہ شہباز شریف کی گرفتاری پر احتجاج کھسیانی بلی کھمبانوچے کے مترادف ہے ، کرپشن کے دائرے میں جو آئے گا تحقیقات کی جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ سب جانتے ہیں کہ رانا مشہود حمزہ کے فرنٹ مین ہیں اور گزشتہ دس برسوں میں رانامشہود پولٹری انڈسٹری سے کھربوں روپے لوٹ مارکرکے مرغی مافیا کے نام سے مشہور ہوئے۔راناثنااللہ جوسرپر شرافت کی ٹوپی اور مونچھوں کو تاؤ دے کر اخلاقیات کی تعلیم دیتے ہیں وہ بھی مفرورہیں۔(ن) لیگ کے جتنے مافیاز ہیں میدان میں آ جائیں۔انہوں نے کہا کہ اکرام نوید 50کروڑ روپے دے کر نیب سے چھوٹنے والے ہیں۔صوبائی وزیر نے کہا کہ آسیہ بی بی کے بیرون ملک جانے کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں۔عدالت کے فیصلے پر نظر ثانی کی اپیل دائر کرنا حکومت کی ذمہ داری نہیں، ای سی ایل میں نام ڈالنے کا فیصلہ بھی عدالت کرے گی۔

پنجاب اسمبلی

مزید :

صفحہ آخر -