سینیٹ ، اپوزیشن کا گیس اور بجلی کی قیمتوں میں اضافہ فوری واپس لینے کا مطالبہ

سینیٹ ، اپوزیشن کا گیس اور بجلی کی قیمتوں میں اضافہ فوری واپس لینے کا مطالبہ

اسلام آباد( نیوزایجنسیاں ) سینیٹ میں اپوزیشن ارکان کا حکومت سے گیس اور بجلی کی قیمتوں میں اضافہ فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ،وزراء کی عدم موجودگی پر اپوزیشن کا احتجاج ، ایوان سے واک آؤٹ،نئے پاکستان میں گولیاں اور لاٹھیاں چلانا حکومتی وطیرہ نہیں ، قانون توڑنے والو ں کو نشان عبر ت بنا دیں گے، وزیر مملکت داخلہ۔تفصیلات کے مطابقسینیٹ میں اپوزیشن ارکان نے حکومت سے گیس اور بجلی کی قیمتوں میں اضافہ فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کر تے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے آئی ایم ایف جانے کے شوق میں بجلی اور گیس کی قیمتیں بڑھائی ہیں یہ غریب سے کس چیز کا بدلہ لینا چاہتے ہیں تاریخ میں اتنی مہنگائی نہیں ہوئی جتنی اس حکومت نے کی، وقت سے پہلے بات کرلیتے ہیں اور پھر کام نہیں کرسکتے، آج تک جتنے قرضے لئے گئے ہیں یہ کہاں استعمال ہورہے ہیں ہمیں یہ بتایا جائے،کشکول کا رواج مارشل دور میں رکھا گیا، دوسروں کی جنگ میں فریق نہیں بننا چاہئے، تحریک انصاف والے کہتے تھے کہ سی پیک کے منصوبے مہنگے ہیں اور ان میں کرپشن ہوئی ہے لیکن اب جو مشترکہ اعلامیہ آیا ہے اس میں کہا گیا ہے کہ یہ بجلی کے منصوبے سب سے بہتر اور سستے لگے ہیں اور ان میں کوئی کرپشن نہیں ہوئی ہے، قرضے داخلہ اور خارجہ کی پالیسیوں پر اثر انداز ہوتے ہیں، کن شرائط پر قرضے لئے جارہے ہیں، ان خیالات کا اظہار جمعرات کو سینیٹ میں سینیٹر جاوید عباسی ، میر حاصل خان بزنجو ، عثمان خان کاکڑ اور سردار اعظم خان موسی خیل نے کیا۔ علاوہ ازیں سینیٹ میں وزراء کی عدم موجودگی پر اپوزیشن نے احتجاج کرتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کیا ، جس پر چیئرمین سینیٹ کو قائد ایوان شبلی فراز کو اپوزیشن کو منانے اور وزراء کو بلانے کی ہدایت کرنی پڑی ، شبلی فراز اپوزیشن کو منا کر لے آئے تاہم سینیٹر اعظم خان موسی خیل نے وزراء کے ایوان میں موجود نہ ہونے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ وزراء ٹائم پر نہیں آتے یہ شہنشاہ بنے ہوئے ہیں، بعد ازاں وزیر سائنس و ٹیکنالوجی اعظم خان سواتی کی تقریر کے دوران کورم کی نشاندہی کر دی گئی کورم پورا نہ ہونے پر اجلاس ملتوی کر دیا گیا۔ دریں اثناوزیر مملکت داخلہ شہریار آفریدی نے سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئے پاکستان میں گولیاں اور لاٹھیاں چلانا حکومتی وطیرہ نہیں ، کسی بھی مہذب قوم کے لئے قومی سلامتی اور امن اہم ہے، عدالتی حکم پر عمل درآمد حکومت کی ذمہ داری ہے قانون ہاتھ میں لینے والوں کو نشان عبرت بنائیں گے،ہم نمبر بڑھانے کے لئے گرفتاریاں نہیں کررہے اپوزیشن نے پہلے دن تعاون کی بات کی دوسرے دن ملنا گوارا نہیں کیا۔شہریار خان آفریدی نے انکشاف کرتے ہوئے مزید کہا ہے کہ دھرنے کے دوران کچھ سیاسی رہنماؤں کے کارکنوں نے جلاؤ گھیراؤ کیا ہے ، حکومت تحقیقات کرا رہی ہے ، ہم ان میں سے کسی کو معاف نہیں کریں گے،جو رٹ کو چیلنج کرے گا اور قانون کو توڑے گا نئے پاکستان میں ان کے خلاف مثالی اقدامات کئے جائیں گے ،چاہے وہ ان ایوانوں کا حصہ ہوں یا کابینہ کے ارکان ہوں ، قا نون توڑنے والوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا ۔

مزید : صفحہ آخر