ہسپتالوں میں لڑائی سے بچنے کیلئے سکیورٹی ایکٹ بنانے کی تیاری

ہسپتالوں میں لڑائی سے بچنے کیلئے سکیورٹی ایکٹ بنانے کی تیاری

  

لاہور (جاوید اقبال)محکمہ صحت نے ہسپتالوں میں ڈاکٹر اور مریضوں میں جھگڑوں تشدد اور سرکاری عمارت کو نقصان پہنچانے کیخلاف تحفظ کیلئے نیا ء قانون سیکورٹی ایکٹ بنانے کیلئے تیاری شروع کر دی ہے ۔قا نو ن کا مسودہ تیار کرنے کیلئے 14 رکنی اعلی سطحی کمیٹی تشکیل دیدی ہے ۔کمیٹی کے چیئر مین وزیر اعلی کے مشیر برائے صحت حنیف پتافی کو مقرر کیا گیا ہے ۔کمیٹی کا پہلا اجلاس14نومبر کو طلب کر لیا گیا ہے سیکورٹی ایکٹ کو (prohibition of violence in hospitals and damages to related property act 2018) (ہسپتالوں میں تشدد کی روک تھام اور متعلقہ جائداد کے نقصا نات کا قانون 2018) کا نام دیا گیا ہے ۔ جس کیلئے کمیٹی تشکیل د ید ی گئی ہے جس کا باقائدہ طور پر نوٹیفیکشن جاری کر دیا گیا ہے ۔جس کے مطابق کمیٹی کا چیئرمین مشیر وزیر اعلی کے مشیر برائے صحت حنیف پتا فی ہوں گے ۔سیکرٹری سپیشلائزڈ ہیلتھ ،وی سی ایف جے ایم یو ڈاکٹر عامر زمان ڈی جی ہیلتھ پنجاب ، ڈی جی نرسنگ ،سی ای او ہیلتھ لاہور ڈا کٹر عمر عزیز رانا ،کرنل ر ڈاکٹر غلام شبیر،ڈاکٹر محمد ندیم خواجہ ،ڈاکٹر کامران سعیدپی ایس او ٹو وزیر صحت،ڈاکٹر عامر یوسف،ڈاکٹر بلال اصغر ، نمائندہ پریس کلب لاہور ڈاکٹر عاصم حمید ایم ایس جناح ہاسپٹل کے نام شامل ہیں کمیٹی نئے قانون کو بنانے کیلئے جزا سزا کا تعین کرے گی ۔ڈ اکٹر کو تشدد کرنیوالے مریض کے لواحقین ڈاکٹرز کی طرف سے مریض پر تشدد اور مریضوں کی طرف سے دوران لڑائی سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے پر سزا اور جرمانے کا تعین کریگی اور مسودہ قانون تیارکر کے محکمہ صحت کو فراہم کرے گی جو محکمہ قانون کو روانہ کرے گا اور محکمہ قانون ضرو ری کاروائی کے بعد مسودے کوحتمی منظوری کیلئے دو ہفتوں کے اند ر وزیر اعلی کو روانہ کرے گا۔ جس کے بعد پنجاب اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں قانو ن کو منظور کریا جائے گا۔

سکیورٹی ایکٹ

مزید :

صفحہ اول -