حاجی بشیر کی نماز جنازہ ادا،سیاسی ،صحافتی اور تجارتی شخصیات کی شرکت

حاجی بشیر کی نماز جنازہ ادا،سیاسی ،صحافتی اور تجارتی شخصیات کی شرکت

لاہور( نیوز رپورٹر) بابائے فلور ملز اور ممتاز صنعت کار حاجی محمد بشیر گزشتہ روز انتقال کر گئے ۔ان کی نماز جنازہ بعد نماز عصر جی بلاک ماڈل ٹاؤن کی جامع مسجد میں ادا کی گئی، جس میں چیئرمین دنیا میڈیا گروپ میاں عامر محمود، نشاط گروپ کے چیئرمین میاں منشا،روزنامہ پاکستان کے چیف ایڈیٹر مجیب الرحمن شامی، لیسکو چیف مجاہد پرویزچٹھہ،وائس چانسلر یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز ڈاکڑ طلعت نصیر پاشا، چیئرمین پی پی اے چودھری نصرت،لاہور چیمبر کے نائب صدر فہیم الرحمن سہگل،ایگزیکٹو کمیٹی رکن ڈاکٹر محمد ارشد، سابق صدو ر عبدالباسط، میاں انجم نثار، فاروق افتخار، خلیق ارشد،مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ احمد حسان، پیپلز پارٹی کے رہنما قاسم ضیا، تحریک انصاف کے رہنما اعجاز چودھری، سلمان باسط، میاں ریاض، حاجی عبدالوحید، عبدالستار، عبدالجبار، خواجہ شاہ زیب اکرم، طاہر حنیف ملک، میجر ر جاوید بخاری، محمد گوہر، حبیب گردیزی، ڈاکٹر خالد خان، یاسر شامی، کاشف شامی، ڈاکٹر اے اے رمذی، جماعت اسلامی کے رہنما فرید پراچہ، ارسلان بشیر، محمد ہمایوں، ڈاکٹرحنیف نذیر، ڈاکٹر مرغوب، میاں مقصود، نثار احمد، عباس علی، محمد احمدسمیت مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی کاروباری، سیاسی و سماجی شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔مرحوم کا شمار ملک کے ممتاز صنعتکاروں میں ہوتا تھا وہ سیزنز گروپ ، مینیو چیکن ، پنجاب آٹا اور فلور ملز ایسوسی ایشن کے بانی چیئرمین تھے ،جو 1929ء میں پیدا ہوئے ابتدائی تعلیم شیرانوالہ گیٹ کے ایک پرائمری سکول سے حاصل کی۔ پرائمری ہی میں سکالر شپ مل گیا۔ وہیں سے میٹرک تک تعلیم پائی۔ 1945ء میں میٹرک کا امتحان پاس کر لیا۔ 1945ء میں میٹرک کا امتحان پاس کر لیا۔ مزید تعلیم حاصل نہ کرنے کا فیصلہ کیونکہ 1941ء میں والد وفات پا چکے تھے تب وہ چھٹی کے طالبعلم تھے۔والد چمڑے کا کاروبار کرتے تھے۔ بھائی کے ساتھ مل کر فیصلہ کیا کہ لاہور سے کلکتہ منتقل ہو جائیں کیونکہ وہاں لیدر ٹیزیز کی بہت زیادہ گنجائش تھی چنانچہ 1945ء میں ہم نے اپنے لاہور کے تمام اثاثے فروخت کر دیئے اور کلکتہ چلے گئے۔ ایک سال بعد کلکتہ فسادات کی لپیٹ میں آ گیا تو سب کچھ چھوڑ کر لاہور واپس آ گئے۔ آنے سے پہلے ملازمین کے ہاتھ میں اڑھائی لاکھ کی وہ فیکٹری 46ہزار میں فروخت کر دی۔ کلکتہ میں مسلمانوں کی صرف دو ٹیزیز تھیں، جن میں سے ایک ہماری تھی، ہم نے وہاں ایس ایم لطیف اینڈ کمپنی کے نام سے باقاعدہ فرم بنائی تھی۔ حاجی بشیر چار بھائی تھے، سب نے الگ الگ کاروبار شروع کئے۔ 4,3سال مختلف کاروبار کئے ان میں پہلا کپڑے کا کاروبار تھا پھر کراچی میں بھی کپڑے کا کاروبار کیا۔ڈیڑھ دو سال تک لیدر کا کاوبار بھی کیا۔ اس کے بعد 1952ء میں فوڈ گرین کے شعبے میں قسمت آزمائی کی۔ اکبری منڈی کے باہر چاول، دالوں کا ہول سیل کا کام شروع کر دیا۔1962ء میں لاہور میں فلور مل لگائی وہ اس کاروبار سے چالیس سال تک وابستہ رہے ۔ حاجی محمد بشیر پولٹری فیڈ انڈسٹری کے سربراہ کے طور پر کام کرتے رہے۔ ان میں خدمت خلق کا جذبہ فراواں تھا۔ مستحق، غریب اور ضرورت مند افراد کی مالی امداد ہر دور میں کرتے رہے۔ملک کی معروف سیاسی ،سماجی اور کاروباری شخصیات نے حاجی محمد بشیر کی وفات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے اور دعا کی ہے کہ خدا تعالیٰ ان کے درجات بلند کرے اور پسماندگان کو یہ صدمہ برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔لاہور چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کے صدر الماس حیدر، سینئر نائب صدر خواجہ شہزاد ناصر اور نائب صدر فہیم الرحمن سہگل شہر بھر کی بزنس کمیونٹی نے معروف صنعتکار حاجی محمد بشیر کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے عہدیداروں نے کہا کہ حاجی محمد بشیر کا انتقال کاروباری برادری کے لیے ناقابل تلافی نقصان ہے، ان کی ساری زندگی صنعت، تجارت اور سماجی شعبے میں خدمات سے بھرپور رہی، ان کے انتقال سے جو خلا پیدا ہوا ہے وہ کبھی بھی پر نہیں ہوپائے گا۔ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے عہدیداروں نے حاجی محمد بشیر کے اہل خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالی ان کو اپنے جوار رحمت میں جگہ دیں اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائیں۔

حاجی بشیر

مزید : صفحہ اول