پاک ترک انٹرنیشنل سکولز اینڈ کالجز یوم اقبال کے موقعے پر ماہ نومبر کو ماہ اقبال کے طور پر منانے کا آغاز

پاک ترک انٹرنیشنل سکولز اینڈ کالجز یوم اقبال کے موقعے پر ماہ نومبر کو ماہ ...

  

لاہور (پ ر)پاک ترک انٹر نیشنل سکولز اینڈ کالجز کی ہر سال یہ سعی ہوتی ہے کہ یومِ اقبال کو منفرد انداز سے منایا جائے۔اس سال اپنی دیرینہ روایت کو بر قرار رکھتے ہوئے ماہِ نومبر کو ماہ،اقبال کے طور پر منانے کا آغاز کیا۔۸نومبر ۸۱۰۲ء کو منعقد ہونے والا پروگرام اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔اس پروگرام کی مہمانِ خصوصی ایف جی کالج کی سابق پرنسپل محترمہ حسینہ جلیل صاحبہ تھیں۔ اس پروگرام کے دو سیشن تھے پہلے سیشن کے پروگرام کے آغاز میں ایف ایس سی کی طالبہ فاکھہ بلوچ نے نہایت خوش الحانی سے سورۃ رحمن کی تلاوت کی ۔ایک ننھی طالبہ نے کلامِ اقبال’’کبھی اے حقیقتِ منتَظَر۔۔۔،،اپنی خوبصورت آواز میں ترنم سے پیش کیا۔اس کے بعد معمول کے مطابق پاکستان اور برادر ملک ترکی کے ترانے پڑ ھے گئے ترانوں کے بعد پرنسپل مس مریم عثمان صاحبہ نے اسٹیج پر آ کر مہمانِ خصوصی کو خوش آمدید کہا ۔پری سکول کے ننھے طلبہ نے اقبال ؔ کی پر سوز دعا’’لب پہ آتی ہے دعا۔۔۔۔،، کورس میں ترنم سے پڑھی۔ایف ایس سی کی طالبہ دشیا تقدیس نے ’’سختیاں کرتا ہوں دل پر۔۔۔،،کلامِ اقبال تحت اللفظ سے پڑھا۔جونئیر سیکشن کے بچوں نے ’’مکڑا اور مکھی ،، ٹیبلو پیش کیا ان کے ملبوسات بڑی محنت سے تیار کئے گئے تھے۔کیمبرج سیکشن کی طالبہ ،کیف الوریٰ نے کلامِ اقبال’’لا پھر اک بار وہی۔۔۔،،ترنم سے پڑھ کر شرکاء پر ایک سحر طاری کر دیا۔پھر عبداللہ نے’’ پرندے کی فریاد ،، نظم اپنی پر سوز آواز میں ترنم سے پڑھی۔جماعت دہم کی طالبہ لائبہ امبر نے کلامِ اقبال ’’گیسوئے تابدار کو۔۔۔،، تحت اللفظ سے پڑھا۔مڈل سیکشن کی طالبات نے فاطمہ بنتِ عبداللہ پر ٹیبلو پیش کر کے اس عظیم مجاہدہ کی یاد کو تازہ کردیا۔ماہین ، ماریہ ،ماہ نور مختار اور آمنہ علی طالبات جماعت دہم نے ’’رہزنِ ہمت ہوا ذوقِ تن آسانی ترا،، کورس میں پیش کیا ۔ کیمبرج سیکشن کی شافعہ اور امن نے ’’شکوہ جوابِ شکوہ،، ایک مکالمے کی شکل میں تحت اللفظ میں پڑھی۔ننھے طالبِ علم محب مالک نے ’’ہر لحظہ ہے مومن۔۔۔۔۔،،ترنم سے پڑھ کر حاظرین سے خوب داد وصول کی ۔نظم ’’پرندے کی فریاد،، پر جونئیر سیکشن نے ٹیبلو پیش کیا۔شرکاء نے تالیاں بجا کر خوب داد دی۔اس کے بعد جونئیر طالبات زینب مصطفیٰ ،اور عائشہ شریف اورایف ایس سی کی طالبات انوشہ اور زینب نے اقبال کی نظم ’’ جبریل اور ابلیس ،، کو تمثیلی رنگ میں پیش کیا۔ عائشہ نے کلامِ اقبال تحت اللفظ سے پیش کئے ٰٓ۔آخر میں جونئیر سیکشن کے طالبِ علم علی مرتضی نے اقبال کا فارسی کلام ز بانی ترنم سے پیش کرکے سب کو حیران کر دیا۔پروگرام کے آخر میں مہمانِ خصوصی نے انتظامیہ،اساتذہ اور طلبہ و طالبات کی کاوشوں کو سراہا اور اپنے قیمتی خیالات کا اظہار کیا۔ ای

آخر میں جونئیر ایکشن کے طالبِ علم علی مرتضیٰ نے کلامِ اقبال فارسی میں ترنم سے پڑھ کر سب کو حیران کر دیا۔آخر میں مہمانِ خصوصی محترمہ حسینہ جلیل صاحبہ نے اپنے خیالات کا اظہار کیا اورانتظامیہ ،اساتذہ اور طالبات کی کاوشوں کو سراہا۔پروگرام کے دوسرے سیشن کے مہمانانِ گرامی پروفیسر جلیل عالی صاحب اور ڈاکٹر محمد ادریس صاحب تھے۔ یہ پروگرم ایک مذاکرے کی طرز پر ترتیب دیا گیا تھا۔جس میں طالبات نے مہمانانِ گرامی سے اقبال کے فکر اور فلسفہ سے متعلق سوالات پوچھے اور انہوں نے تسلی بخش جوا بات ہی نہیں دئیے بلکہ مذکورہ موضوعات پر سیر حاصل گفتگو بھی کی۔پروگرام کے آخر میں پرنسپل مس مریم عثمان صاحبہ نے مہمانِ خصوصی اور دیگر مہمانانِ گرامی کو تحائف پیش کئے۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -