ناموس رسالت ؐ پر ہم سب قربان ہونے کو تیار ہیں : ڈاکٹر عارف علوی ، بین المذاہب ہم آہنگی وقت کی ضرورت ہے : شاہ محمود قریشی

ناموس رسالت ؐ پر ہم سب قربان ہونے کو تیار ہیں : ڈاکٹر عارف علوی ، بین المذاہب ...

ملتان(خصوصی رپورٹر) صدرپاکستان ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ اسلام کے پیغام محبت کو عام کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ بہاء الدین زکریایونیورسٹی ملتان میں بین الاقوامی صوفی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدرمملکت نے کہاکہ پرانا پاکستان وہ ہے جو تعصبات اور نفرتوں کی طرف لے جاتاہے جو ہمیں نیچے کی جانب کھینچتا ہے اور نیا پاکستان وہ ہے جو تعصبات سے بالاتر ہو کر ہمیں بلندیوں کی طرف لے جائے گا۔ایک ایسا پاکستان جہاں لوگوں کو ان کاحق ملے گا۔انصاف ملے گا۔غریب کو روزگار ملے گا ،رہنے کے لیے گھر ملیں گے اور تعلیم اورصحت کی سہولیات انہیں فراہم کی جائیں گی۔جن چیزوں کاحکم نبی کریم اور قرآن پاک میں دیا ہے ان پر عمل کریں گے تو پاکستان کی ترقی کوئی نہیں روک سکے گا۔صدرمملکت نے کہاکہ اسلام محبت کا پیغام دیتا ہے۔محبت کے ذریعے دلوں کو جوڑنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔انہوں نے کہاکہ صوفیاء کرام نے بھی محبت کے ذریعے لوگوں کو جوڑ دیا۔اور محبت کے ذریعے ہی اسلام کا پیغام پھیلایا۔انہوں نے کہاکہ عقیدتوں کے اسی طریقہ کار کو رائج کرنے کی ضرورت ہے۔رواداری ،برداشت ،مذہبی ہم آہنگی کاماحول اسی صورت میں پروان چڑھتا ہے جب ہم محبت کے ذریعے لوگوں کو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ رسول پاک نے بھی محبت کے ذریعے اپنا پیغام پہنچایا۔نبی پاک کے بارے میں یہ روایات ہیں کہ انہیں کبھی غصہ نہیں آیاتھا۔کسی بات پر پریشان ہوتے یا کوئی بات ناگوارگزرتی تو آپ کا چہرہ مبارک سرخ ہوجاتاتھا لیکن کسی کو آپ کی زبان سے تکلیف نہ پہنچی۔اسلام کا اصل پیغام ہی محبت اور درگزر کرنا ہے۔اللہ تعالی نے بھی درگزر کرنے والوں اور معاف کرنے والوں کو پسند فرمایا۔انہوں نے کہاکہ رسول پاک نے ہمیں ہمیشہ کے لیے یہ درس دیا کہ مسلمان ریاست میں کبھی کسی چرچ کو تباہ نہیں کیا جائے گااور نہ غیرمسلم کے ساتھ زبردستی شادیاں کی جائیں گی اور چرچ کے اندر موجود سامان کی حفاظت کی جائے گی۔ناموس رسالت پر ہم سب قربان ہونے کو تیارہیں لیکن اس معاملے پر کسی انسان کو ناحق نقصان پہنچانا صحیح نہیں ہے۔ اللہ تعالی کو ہماری عبادات کی ضرورت نہیں ہے۔کائنات کاذرہ ذرہ اس کی عبادت کررہاہے۔ہم نماز کاسلام پھیرنے کے بعد پھرگمراہ ہوجاتے ہیں جبکہ نماز میں ہم اللہ تعالی سے سیدھا راہ دکھانے کی دعا کرتے ہیں۔ہمارا مذہب ہمیں حقوق العباد کادرس دیتا ہے۔انہوں نے کہاکہ اسلام کے سچے پیغام کو عام کرنا بہت ضروری ہے۔ڈاکٹرعارف علوی نے کہاکہ تعصبات اورنفرت ہمیشہ کے لیے زندگیوں کاحصہ بن جاتی ہیں اور پھراس کا بوجھ ہمیں نسل درنسل اٹھانا پڑتاہے۔ انہوں نے کہاکہ کراچی میں ہم نے بہت تعصبات دیکھے اوران تعصبات کوختم کرنے میں ہمیں پانچ دس برس نہیں پورے 35سال لگ گئے۔انہوں نے کہاکہ مجھے خوشی ہے کہ زکریایونیورسٹی بامقصد اوریکساں نظام تعلیم رائج کرنے کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔انہوں نے کہاکہ اس یونیورسٹی کو جو مالی مشکلات درپیش ہیں ان کے خاتمے کے لیے کوششیں کی جائیں گی۔صدرمملکت نے کہاکہ اسلام نے عورتوں کے حقوق پر بہت زوردیا ہے۔ہمیں ان کوعزت دینے اور ان کے حقوق کویقینی بنانا ہوگا۔انہوں نے کہاکہ ایوان صدر کے دروازے علماء ومشائخ اور ہرخاص عام کے لیے کھلے ہیں۔ڈاکٹرعارف علوی نے کہاکہ نبی کریم کے اخلاق اور درگزر کا یہ معیارتھا کہ ان پر کوڑا پھینکنے والی عورت جب ایک دن ان پر کوڑانہ پھینکا تو اس کی خیریت معلوم کرنے اس کے گھر پہنچ گئے۔یہ نبی کریم اور اولیاء کرام کا یہی پیغام ہے کہ درگزر ،محبت کے اوصاف پیدا کرکے معاشرے میں امن قائم کریں اورحضرت بہاؤالدین زکریا نے بھی اپنے دور میں اس علاقے میں مذہبی ہم آہنگی کا رویہ پروان چڑھایا۔امن محبت کاراستہ اختیارکرکے اسلامی تعلیمات کو فروغ دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر صدیق قادری نے کہا کہ ملتان میں جس علمی انقلاب کی بنیاد حضرت بہا الدین زکریا نے رکھی تھی ، اسی کے ثمرات سے آج پوری مسّلم دنیا مستفید ہو رہی ہے۔۔ڈاکٹر غضنفر مہدی نے اپنے خطاب میں ملتان میں تصوف کی روایت کے نمایاں خدوخال بیان کیے اور ملتان میں نیشنل میوزیم کے قیام کی تجویز دی۔وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر نے کہا کہ بہاء الدین زکریا یونیورسٹی اس خطے کی علمی ، معاشی ، سماجی اور ثقافتی ترقی میں اپنا کردار بھر پور طریقے سے ادا کر رہی ہے۔۔یونیورسٹی جلد ہی انسٹیٹیوٹ آف صوفی ازم کا قیام بھی عمل میں لا رہی ہے،کانفرنس سے علامہ پیر ظہور اللہ ہاشمی ، عبدالقدوس صہیب اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔

صدر مملکت

ملتان(خصوصی رپورٹر‘ نیوز رپورٹر) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمودقریشی نے کہا ہے کہ لوگوں کو نظریاتی بنیادوں پر ایک دوسرے کے ساتھ جوڑنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔انہوں نے کہاکہ اسلام کا پیغام محبت عام کیا جائے۔بین المذاہب ہم آہنگی کے ذریعے ہم پاکستان کا کھویا ہوا وقار بحال کرسکتے ہیں۔بہاء الدین زکریایونیورسٹی ملتان میں بین الاقوامی صوفی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شاہ محمودقریشی نے کہاکہ ہمیں اسلام کا وہ چہرہ لوگوں کو دکھانا ہے جو سچائی اور امن کا پیغام دیتا ہے جواس کا اصلی چہرہ ہے۔انہوں نے کہاکہ دنیا کہتی ہے کہ اگر ہمیں دہشت گردی کی جنگ جیتنی ہے توہمیں اپنا بیانیہ تبدیل کرنا ہوگا۔مدرسوں کومرکزی دھارے میں لانا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے اور جب یہ مدرسے مرکزی دھارے میں آجائیں گے تو علما ء و مشائخ کے ساتھ ساتھ یہ ایسے شہری بھی پیدا کریں گے جو روزمرہ زندگی میں معاشرے کے لیے مفید ثابت ہوں گے۔انہوں نے کہاکہ علماء کرام نے اسلام کی جو شمع روشن کی اس سے پوری دنیا منور ہوئی۔ رسول اکرم کی زندگی ہمارے لیے مشعل راہ ہے۔ رسول پاک نے جب اعلان نبوت کیا تو اس سے پہلے لوگ ان کا صادق اور امین ہونا تسلیم کرچکے تھے۔ان کی شخصیت کے کرشمے لوگوں کو پہلے ہی مائل کرچکے تھے اورآپ کی شخصیت نے پیغام اسلام کے فروغ میں بنیادی کردار اداکیا۔ اسی پیغام کوصوفیا کرام نے عام کیا۔انہوں نے کہاکہ حضرت بہاء الدین زکریا پہلے صوفی دانشور تھے جنہوں نے اقامتی یونیورسٹی کا عملی ماڈل پیش کیا۔یہ یونیورسٹی اتنی وسیع و عریض تھی کہ قلعہ قاسم باغ سے پیراں غائب تک طلباء کے خیمے نصب ہوتے تھے جو دنیا بھر سے یہاں آتے اور پھر یہاں سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد واپس اپنے علاقوں میں جاکرا سلام کی تبلیغ کرتے۔انہوں نے کہاکہ صوفیاء کرام نے نفرتوں کوختم کرکے اسلام کا وہ پیغام اجاگر کیا جو لوگوں کو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑتا ہے۔صوفیا نے ہرزمانے میں اپنے اپنے انداز میں اس پیغام کواجاگر کیا۔یہ لوگ مختلف زمانوں اور مختلف ادوار میں آئے۔ان کے زمانے مختلف تھے ، دل مختلف تھے لیکن دلوں کی دھڑکن ایک تھی۔یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اسلام کی جو شمع روشن کی وہ آج بھی دنیا بھر میں امن کا پیغام پھیلارہی ہے۔انہوں نے کہاکہ خانقاہوں نے ہمیشہ بین المذاہب ہم آہنگی کا درس دیا۔اور یہی وہ پیغام ہے جو دنیا کودکھانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہاکہ سی پیک کو گیم چینجر کہتے ہیں۔یہ بھی مختلف علاقوں کو جوڑنے کا سبب ہے اورایک سبب جوڑنے کا یہ بھی ہے کہ انفراسٹرکچر اور ثقافت کے ذریعے مختلف علاقوں کوجوڑ دیا جائے۔جب ثقافت اور نظریات کی بناء4 پر خطوں کوجوڑتے ہیں تو یہ دیرپا نتائج دیتا ہے۔انہوں نے کہاکہ پاکستان کا دنیا میں ایک مقام ہوتا تھا اس میں اب تنزلی آئی ہے۔ہمیں پھر وہ مقام حاصل کرنے کے لیے صوفیاء کے پیغام کو عام اور اس پر عمل کرنا ہوگا۔بین المذاہب ہم آہنگی کی بڑی شدید ضرورت ہے۔ آج ویٹی کن سٹی دنیا بھر سے علماء کو بین المذاہب ہم آہنگی کے لیے بلواتا ہے۔اجمیر شریف جا کر دیکھیں وہاں مسلمانوں کے ساتھ ساتھ ہندو بھی حضرت معین الدین چشتی کے چوکھٹ پر نظرآتے ہیں اور یہ حال حضرت بہاء الدین زکریاکے عرس مبارک پر بھی نظرآتا ہے جب سندھ کے ہندو بھی یہاں حاضری کے لیے آتے ہیں۔شاہ محمودقریشی نے کہاکہ ہمارے خطہ کی محرومیوں کا کہا جاتاہے میں صدرصاحب کی توجہ اس جانب مبذول کرانا چاہتا ہوں کہ اس علاقے کی یونیورسٹیوں پر وہ توجہ نہیں دی گئی جو ضروری تھی۔ان کو ان کی ضروریات کے مطابق فنڈز کیوں نہیں دیئے جاتے اور جو فنڈ مختص کیے جاتے ہیں وہ واپس کیوں لے لیے جاتے ہیں۔میری آپ سے درخواست ہے کہ آپ یہاں کی یونیورسٹی کے وائس چانسلرز اور پروفیسرز کوبلا کر پوچھیں کہ ان کی ضروریات کیا ہیں۔اسی طرح یہ بھی درخواست ہے کہ جنوبی پنجاب کے علماء4 و مشائخ کے وفد کو آپ اپنے ہاں دعوت دیں اوران کے خیالات اور ان کے تحفظات سے آگاہی حاصل کریں۔انہوں نے کہاکہ وزارتیں آتی ہیں اورچلی جاتی ہیں۔کسی عہدے پر کسی کا تسلط نہیں ہوناچاہیے۔نئے لوگوں کوبھی آگے آنا چاہیے۔ اہلیت نہ ہو تو کرسی پر بیٹھا دیں تو وہ سجتا نہیں ہے۔وزیرخارجہ نے کہاکہ میری خواہش ہے کہ اس سال ربیع الاول کے مہینے میں ایوان صدر اوروزیراعظم ہاؤس میں ایسی نشستیں منعقد ہوں جہاں یارسول اللہ کے نعرے گونجیں۔قبل ازیں وائس چانسلر زکریایونیورسٹی ملتان پروفیسر ڈاکٹر طاہر امین نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ حضرت بہاء الدین زکریا نے اس جگہ پہلی دفعہ اقامتی مدرسہ قائم کیا جہاں سے فازغ التحصیل طلباء زندگی کے ہرشعبہ میں کامیاب رہے۔ہماری یونیورسٹی بھی مقامی سطح پر سوسائٹی کے ساتھ منسلک ہے اوربین الاقوامی سطح پر بھی 40سے زائد یونیورسٹیوں سے ایم اویوز سائن کیے جاچکے ہیں۔ڈائریکٹر جنرل ادارہ تحقیقات اسلامی۔اسلامک انٹرنیشنل یونیورسٹی اسلام آباد پروفیسر ضیاء الحق نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ حضور اکرم کی سنت جس کا تعلق دلوں کوفتح کرنے سے ہے وہی آج ہم چھوڑ چکے ہیں۔آج درس گاہیں اور مدارس تو بہت ہیں لیکن ان میں صوفیا کی تعلیمات کی روح کے مطابق تعلیم و تربیت نہیں دی جارہی۔پاکستان کے جو مسائل ہیں ان میں سے کچھ کوتوہم نے خود پیدا کیا ہے۔قومیں اس وقت تباہ ہوتی ہیں جب امید ختم ہوجاتی ہے اور عمران خان قوم کی امید ہیں۔برطانیہ سے آئے ہوئے علامہ پیر مفتی ظہورالہاشمی نے کہاکہ تمام علماء اس بات پر متفق ہیں کہ موجودہ حالات اورفتنوں کا حل صوفیا کے پیغام پر عمل کرنا ہے۔جب ہم فرقوں میں بٹیں گے تو اختلاف ہوگا لیکن جب ہم اسلام کی طرف آئیں گے تو اختلافات ختم ہوجائیں گے۔انہوں نے کہاکہ جب سکولوں میں ایک جیسی تعلیم دینے کے لیے کوشش کی جارہی ہے تو تمام مدارس میں ایک جیسی مذہبی تعلیم کیوں نہیں دی جاسکتی۔ضروری ہے کہ مدارس کا نصاب چیک کیا جائے اوران میں قرآن کا نصاب رائج کیا جائے۔معروف سکالر غضنفر مہدی نے کہاکہ اس کانفرنس میں 13ممالک کے شرکاء موجودہیں۔ہمارا صدرپاکستان سے مطالبہ ہے کہ حضرت بہاؤالدین زکریاکے زمانے کا صوبہ ملتان بنادیا جائے اسی طرح 30سال سے زیرالتواء منظورشدہ نیشنل میوزیم ملتان کی تعمیر مکمل کی جائے۔قطب شاہ اور شاہ یوسف گردیزکے مزارات کی دوبارہ تعمیرومرمت کرائی جائے۔دریں اثناء وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ چین کا دورہ بہت مفید رہا ۔ ہماری چین کی ٹاپ لیڈر شپ سے اچھی نشتیں ہوئی ہیں۔چین نے پاکستان کے ساتھ دوستی کو واضح کر دیا ہے ۔ پاک چین لازوال دوسری مزید بڑھے گی۔ سی پیک کے اگلے مرحلے پر بھی بات ہوئی ہے۔ہم نے سی پیک پر اپنی ترجیحات چین کے ساتھ شیئر کی ہیں۔تعلیم، صحت ، روزگار کے حوالے سے ہم نے دیکھنا ہے کہ کیا اقدامات اٹھا سکتے ہیں۔چین ہماری اکنامک امداد اور ایکسپورٹ بڑھانے کے لئے مدد کرے گا ۔ جس سے ہماری ایکسپورٹ بڑھنے کا امکان ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز مقامی ہوٹل میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا چین اور سعودی عرب کے دورہ کے بعد ہماری معاشی حالت بہتر ہوجائے گی ۔ امریکی وزیر خارجہ سے ملاقات کے بعد ڈو مور کے مطالبے سے نکلے ہیں ۔ آسیہ مسیح کا کیس سب کے سامنے ہے۔ آسیہ کے معاملے پر ریویو پٹیشن کی گئی۔ میری محدودمعلومات کے مطابق آسیہ بی بی کو ملک سے باہر نہیں بھیجا گیا۔تاہم اس کے بارے میں وزارت داخلہ ہی صحیح بتا سکتی ہے ۔آسیہ کے معاملے پر اندرونی وبیرونی دباو اپنی جگہ لیکن قانونی تقاضے دیکھنا ہوں گے۔مولانا سمیع الحق کا قتل افسوسناک، حقائق سامنے آنے چاہئیں۔ امید ہے ادارے اور پولیس مولانا سمیع الحق کے قاتلوں کو جلد بے نقاب کرینگے۔ انہوں نے کہا پاکستان اور بھارت کے درمیان امن کی بحالی صرف مذاکرات کے ذریعے ہوسکتی ہے لیکن بھارت مذاکرات پر آمادہ نہیں۔ بھارت میں انتخابات کا مرحلہ شروع ہو چکا ہے اس لئے مزید پیش رفت کی توقع نہیں۔ بھارت میں 2019میں آنے والی نئی حکومت سے مذاکرات کی توقع رکھی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہا پاکستان کا مفاد سب سے برتر ہے۔ ایسی خارجہ پالیسی بنا رہے ہیں جس میں پاکستان کا مفاد سب سے برتر ہوگا اور تمام ملکوں سے برابر ی کی سطح پر تعلقات اولین ترجیح ہوگی۔انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب صوبہ تحریک انصاف کی اولین ترجیح ہے اور ہمارے منشور میں شامل ہے۔ اس حوالے سے مرکز اور پنجاب میں علیحدہ علیحدہ کمیٹیاں قائم ہو چکی ہیں۔ انشاء اللہ تحریک انصاف کے دور میں ہی جنوبی پنجاب صوبے کا قیام عمل میں آئیگا۔ ہم کوشش کررہے ہیں کہ جنوبی پنجاب صوبے پر تمام سیاسی جماعتوں میں اتفاق رائے پیدا کیا جائے ۔ نئے صوبے کے قیام کیلئے ہمارے پاس دو تہائی اکثریت نہیں ہے۔ اس لئے ہم دیگر سیاسی جماعتوں سے رابطے کریں گے اور ان سے صوبے کے قیام کیلئے مدد کی درخواست کریں گے۔ انہوں نے کہا تحریک انصاف اقتدار میں آنے کے بعد اپنے 100روزہ ایجنڈے کی طرف گامزن ہے۔ اور یہ ایجنڈا ہم نے اپنی سمت درست رکھنے کیلئے متئین کیا ہے۔ کسی اور نے ہمارے اوپر مسلط نہیں کیا۔ہم 100دن گزرنے کے بعد دیکھیں گے کہ ہم نے اس عرصے میں کیا کارکردگی دکھائی ہے۔ وزیراعظم تمام وزارتوں کی کارکردگی کو خود براہ راست مانیٹر کررہے ہیں۔ انشاء اللہ 100دن کے اختتام پر عوام کو تبدیلی نظر آئیگی۔

شاہ محمود

مزید : کراچی صفحہ اول