لاہورمیں علامہ اقبال نے دوکان کے جس تھڑے پر بیٹھ کر شاعری کا آغاز کیا ،اب اسکا حال کیا ہوچکا ہے ،جان کر آپ کو بھی شدید افسوس ہوگا کہ یادگار اقبال کے ساتھ کیا سلوک کیا جارہا ہے

لاہورمیں علامہ اقبال نے دوکان کے جس تھڑے پر بیٹھ کر شاعری کا آغاز کیا ،اب ...
لاہورمیں علامہ اقبال نے دوکان کے جس تھڑے پر بیٹھ کر شاعری کا آغاز کیا ،اب اسکا حال کیا ہوچکا ہے ،جان کر آپ کو بھی شدید افسوس ہوگا کہ یادگار اقبال کے ساتھ کیا سلوک کیا جارہا ہے

  

لاہور(ایس چودھری)زندہ قومیں اپنے مشاہیرین سے منسوب مقامات کو اہمیت دیتے ہوئے انہیں ادبی و ثقافتی اثاثہ کے طور پر سنبھال کررکھتی ہیں مگر پاکستان میں زیادہ تر مشاہیر سے منسوب مقامات کو اہمیت نہیں دی جاتی ۔جیسا کہ شاعر مشرق علامہ اقبال سے منسوب کوچہ فقیر لاہور میں دوکان کا وہ تھڑا جہاں بیٹھ کر انہوں نے شاعری کا آغاز کیا تھا ،بازاری دنیا کی رونق بن چکا ہے اوروہاں محض ایک تختی لگا چھوڑی گئی ہے مگراس بات کو فراموش کردیا گیا ہے کہ علامہ اقبال کی خوشبو سے مہکتا ہوا یہ تھڑا ہماری قومی ملکیت کا درجہ رکھتا ہے جہاں اسکی ادبی اہمیت کی بنا پر ادبی بیٹھک قائم کرنی چاہئے تھی مگر اسے دوکانداروں کے چنگل میں دے دیا گیا ہے ۔

بازار حکیماں لاہورمیں فقیر خانہ کے قریب واقع اس تھڑے کے بارے بتایا جاتا ہے کہ یہ بھی فقیر خاندان میں سے ایک فرد کی ملکیت ہے جہاں کسی زمانے میں دوکان ہوا کرتی تھی ۔اسی دوکان کے تھڑے پر بیٹھ کر جب علامہ اقبال نے شاعری کا آغاز کیا تو وہ اپنی شاعری کی اصلاح کے لئے حضرت داغ دہلوی کو اپنا کلام بھیجتے تھے۔اس زمانے میں علامہ اقبال نے حضرت داغ کی شاگردی اختیار کرلی تھی اور لاہور مے مشاعروں میں غزلیں سنایا کرتے تھے ۔اقبالیات کے ماہرین کے مطابق علامہ اقبال کی عمر اس وقت اٹھارہ سال تھی اور ایف اے کرنے کے بعد انہوں نے لاہور میں قیام کے دوران اشعار کہنا شروع کئے تھے ۔یہ وہ زمانہ تھا جب بازار حکیماں میں ہر ماہ بڑا عالی شان مشاعرہ ہواکرتا تھا ۔ مرزا رشد گورگانی دہلوی اور میر ناظم لکھنوی جیسے پختہ کلام اور استاد شاعر یہاں موجود تھے جنہوں نے ایک مشاعرے کا سلسلہ شروع کیاتھا۔  علامہ اقبال بھی اپنے شاعرانہ ذوق کی تسکین کی خاطر اس مشاعر ے میں شریک ہونے لگے۔  بازار حکیماں کے ایک مشاعرے میں انہی دنوں اقبال نے ایک غزل پڑھی جس کا ایک شعر یہ تھا۔" موتی سمجھ کے شانِ کریمی نے چن لئے ،قطرے جو تھے مرے عرق انفعال کے "اس شعر کا سننا تھا کہ محفل مشاعرہ میں موجود سخن سنج اصحاب پھڑک اُٹھے اور مرزا ارشد گورگانی نے اسی وقت پیشن گوئی کی کہ اقبال مستقبل کے عظیم شعراءمیں سے ہوگا۔روایت ہے کہ دراصل یہی تھڑا شعرا کے ادبی ذوق کا مرکز تھا ۔جسے ادبی ورثہ کے طور پر سنبھالنے کی ضرورت تھی۔تاہم  باقاعدہ ماہانہ مشاعرہ حکیم امین الدین کے مکان پر منعقد ہوتا تھا ۔  

مزید :

ڈیلی بائیٹس -