فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر551

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر551
فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر551

  

اکبر کے دربار میں رسائی حاصل کرنے سے پہلے تان سین وسط ہند کی ریاست ایوا کے راجا رام چندر کے دربار میں شاہی موسیقار کا مرتبہ حاصل کر چکا تھا۔ یہیں سے اس کی شہرت شہنشاہ اکبر کے دربار تک پہنچی تھی جو کہ فن کاروں اور ہنر مندوں کا قدر دان اور سرپرست تھا۔ وہ دنیا بھر سے مختلف علوم و فنون کے چیدہ چیدہ اور ممتاز افراد کو تلاش کرکے اپنے دربار میں بلا لیتا تھا۔

تان سین سے پہلے دربار اکبری میں اس وقت کے اور بھی کئی نامور اور ممتاز موسیقار موجود تھے۔ شہنشاہ اکبر نے مہاراج رام چندر کے پاس اپنا ایلچی بھیجا اور خواہش ظاہر کی کہ تان سین کو دربار اکبری میں دہلی بھیج دیا جائے۔ عظیم المرتبت شہنشاہ کی فرمائش بھلا کس کی مجال تھی کہ ٹالتا۔ بظاہر یہ ایک فرمائش تھی لیکن حکم کا درجہ رکھتی تھی اور شہنشاہ اکبر کے حکم سے سرتابی کسی کے بس کی بات نہ تھی۔ مہاراج رام چندر تان سین کو اپنے دربار سے جدا نہیں کرناچاہتا تھا مگر ’’حکم حاکم مرگ مفاجات‘‘ کے تحت سینے پر پتھر رکھ کر تان سین کو شہنشاہ اکبر کے حوالے کرنا پڑا۔ اس طرح تان سین دہلی پہنچ گیا۔

کہا جاتا ہے کہ تان سین نے دو شادیاں کی تھیں۔ اس کی ایک بیوی ہندو تھی اور دوسری مسلمان۔ مسلمان بیوی کے ایما اور تلقین پر ہی تان سین نے اسلام قبول کر لیا اور مسلمان ہوگیا۔ اس طرح اسے میاں تان سین کہا جانے لگا۔ تان سین کے چار بیٹے اور ایک بیٹی تھی جس کا نام سرسوتی تھا۔

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر550پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

تان سین جب دربار اکبری میں حاضر ہوا تو اپنے فن اور موسیقی میں مہارت کے باعث بہت جلد شہنشاہ کا قریبی اور دل پسند درباری بن گیا۔ شہنشاہ اکبر اس پر اتنا مہربان تھا کہ د ربار کے علاوہ اسے اپنے دیوان خاص میں بھی شرف باریابی بخشا تھا اور موسیقی کی یہ نغمہ بار محفلیں رات بھر جاری رہتی تھیں۔ تان سین کو دباری سے بڑھ کر اکبر کے مقرب خاص کا درجہ حاصل ہوگیا تھا۔ شہنشاہ اس پر بے انتہا مہربان تھا اور وقتاً فوقتاً اسے انعام و اکرام اور اعزازات سے نوازتا رہتا تھا۔ گائیکی اور موسیقی میں تان سین یکتا تھا۔ اس کے سامنے دوسرے موسیقاروں کے چراغ ماند پڑ گئے تو وہ اس سے حسد کرنے لگے۔ درباروں میں سازشیں ویسے بھی ہوا کرتی تھیں۔تان سین کے حریفوں اور مخالفین نے تان سین کو نیچا دکھانے اور شہنشاہ کی نظروں سے گرانے کے لی منصوبہ بندی شروع کر دی۔ فن کے مقابلے میں تو وہ تان سین کو شکست نہیں دے سکتے تھے کیونکہ اس دور کے بڑے بڑے نامور مانے ہوئے موسیقار تان سین کے ساتھ موسیقی کے مقابلوں میں شرکت کرکے منہ کی کھاچکے تھے۔ گویا فن کے مدیان میں تان سین کو شکست دینا کسی کے بس کی بات نہ تھی۔ اس مقصد کے لیے ایک ایسی سازش تیار کی گئی جس سے سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے ۔ دیپک راگ گانے کا شوشہ چھوڑا گیا۔ حریفوں کو یقین تھا کہ اول تو تان سین موثر انداز میں دیپک راگ گا کر چراغوں کو روشن ہی نہیں کر سکے گا اور اگر اس میں کامیاب بھی ہوگیا تو اس راگ کی تپش اسے جلا کر راکھ کر دے گی اور وہ یا تو جان سے ہاتھ دھو بیٹھے گا یا پھر خاکستر جسم کے ساتھ باقی زندگی انگاروں پر لوٹتے ہوئے گزار دے گا۔

یہ ایک مکمل اور ’’فول پروف‘‘ منصوبہ تھا۔ چند درباریوں نے شہنشاہ اکبر کے کانوں میں یہ بات ڈالی کہ ان کے دربار میں تان سین جیسا مایہ ناز موسیقار موجود ہے تو کیوں نہ اس سے دیپک راگ سنا جائے جو کہ ایک انوکھا اور انتہائی مشکل راگ ہے اور تان سین ہی یہ راگ گا سکتا ہے۔ شہنشاہ اکبر کو اس راگ کے اثرات اور ردعمل کا علم نہ تھا۔ دیپک راگ کے بارے میں اس کا اشتیاق اتنا بڑھا دیا گیا کہ آخر ایک دن شہنشاہ نے بھرے دربارمیں تان سین سے فرمائش کر دی کہ وہ دربارمیں دیپک راگ گائے اور ایک نئی مثال قائم کر دے کیونکہ اس سے پہلے کوئی موسیقار دیپک راگ گانے کی جرات نہیں کر سکا تھا۔ ظاہر ہے کہ اپنے وقار اور شہنشاہ کے حکم کے پیش نظر تان سین کے لیے اس حکم سے سرتابی ممکن نہ تھی۔

’’تان سین‘‘ کو دیپک راگ کے مضمرات اور بعد میں اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے نقصانات کا بہ خوبی علم تھا لیکن وہ یہ رموز شہنشاہ کو ہیں سمجھا سکتا تھا۔ اس کے مخالفین اس حقیقت سے آگاہ تھے کہ ہر دو صورت انہیں تان سین سے چھٹکارا حاصل ہو جائے گا۔ اگر وہ دیپک رات کے ذریعے دیپ جلانے میں ناکام رہا تو شہنشاہ کی نظروں میں بے توقیر ہونے کے علاوہ اپنے بلند مقام سے بھی گر جائے گا۔ کامیابی کی صورت میں اس کی جان کے لالے پڑ جائیں گے اور وہ دربار اکبری میں اپنے حاضرین اور مخالفین کی راہ کی رکاوٹ بننے کے بجائے ہمیشہ کے لیے ان کے راستے سے ہٹ جائے گا۔ یہ ایک مکمل اور بھرپورسازش تھی جس کا تانا بانا انتہائی ہوشیاری سے سوچ سمجھ کر بنا گیا تھا۔ حیرت اس بات پر ہے کہ موسیقاروں اور فن کاروں جیسے سبک مزاج اور نفاست پسند لوگ اپنے ایک قابل قدر حریف کے خلاف اس قسم کی اخلاق سے گری ہوئی سازشوں میں ملوث ہوگئے تھے۔

تان سین کو اپنی فن کارانہ مہارت پر پورا اعتماد تھا۔ اس نے ایک لمحے کے لیے بھی یہ نہیں سوچا تھا کہ وہ یہ دیپک راگ گانے میں ناکام ہو جائے گا۔ یہ درست ہے کہ وہ اس راگ سے بہ خوبی واقف تھا۔ اس نے ہنر مند اور بلند مرتبہ اساتذہ سے دیپک راگ سیکھا بھی تھا اور اس کے عواقب سے بھی آگاہ تھا لیکن عملی طور پر اس سے پہلے تان سین نے دیپک راگ گانے کا تجربہ نہیں کیا تھا۔ یہ تجربہ ناکام بھی ہو سکتا تھا کیونکہ اس کا تذکرہ بہت قدیم کتابوں میں روایت کے طورپر کیا گیا تھا۔ خود تان سین کی زندگی میں یا اس سے کئی صدی قبل بھی ایسی کوئی مثال نہیں تھی جس میں کسی گائیک نے دیپک راگ گایا ہو اور دیئے روشن ہوگئے ہوں لیکن اسے اپنے اساتذہ کی تعلیم اور قابلیت پر پورا بھروسا تھا۔ ظاہر ہے کہ وہ اسے جھوٹی اور من گھڑت کہانیاں سنا کر ایک فرضی راگ سیکھنے پر اصرار نہیں کر سکتے تھے پھر ان ہی اساتذہ نے اس کو راگ گانے والے کے انجام سے باخبر کر دیا تھا۔ غالباً اس کے استادوں کو بھی یہ علم اور احساس نہیں تھا کہ تان سین کی زندگی میں ایک مرحلہ ایسا بھی آئے گا جب اسے واقعی دیپک راگ گانے کا مظاہرہ کرنا پڑے گا اور وہ حکم عدولی کی جرات نہیں کر پائے گائے گا۔

اب مسئلہ صرف یہ تھا کہ جس طرح دیپک راگ کا عملی مظاہرہ پچھلی صدیوں میں نہیں کیا گیا تھا اس طرح میگھ ملہار کو بھی کبھی نہیں آزمایا گیا تھا۔ اگر دیپک راگ کی حقیقت اور اصلیت کو تسلیم کر لیا جائے اور میگھ ملہارکو بھی حقیقت مان لیا جائے تو سوال یہ تھا کہ میگھ ملہار کون گائے گا اور اس مشاقی اور مہارت سے گائے گا کہ دیپک راگ گانے والے کے سوختہ جاں میں از سرن و زندگی کی لہر دوڑنے لگے گی۔

دیپک راگ دراصل آگ اور شعلوں کا راگ تھا اس کے گانے سے گانے والے پر آگ برسنے لگتی تھی اور اس آگ کو کسی فائر بریگیڈ یا پانی اور دوسرے ذرائع سے ٹھنڈا کرنا ممکن نہ تھا۔ اس کا واحد علاج راگ میگھ ملہار تھا جو اس کے اثر کو زائل کرکے جسم میں ٹھنڈک اور پاکیزگی پیدا کر دے۔ ایسا ماہر اور یگانہ روز گار گانے والا کون ہے؟ اسے کہاں سے تلاش کیا جائے اور کیونکہ میگھ ملہار گانے پر آمادہ کیا جائے اور اس بات کی کیا ضامنت ہے کہ اس کا گایا ہوا میگھ ملہار واقعی مطلوبہ تاثر پیدا کر سکے گا؟ تان سین اس ذہنی الجھن میں مبتلا تھا لیکن برملا اس کا اظہار بھی نہیں کر سکتا تھا۔

جب بھرے دربار میں اس کی گائیکی اور فنکارانہ عظمت و مہارت کو چیلنج کیا گیا اور خود شہنشاہ نے اسے دیپک راگ گانے کا حکم (اگرچہ یہ فرمائش تھی مگر حکم کا درجہ رکھتی تھی) جاری کر دیا تو تان سین کے لیے اسے قبول کرنے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔ خواہ اس کی خاطر اسے اپنی جان پر ہی کیوں نہ کھیل جانا پڑے۔

تان سین نے شہنشاہ کی خواہش کے آگے سر تسلیم خم کر دیا لیکن ریاض اور تیاری کے لیے چند روز کی مہلت دیے جانے کی التجا کی جو منظور کرلی گئی۔

جن کے رتبے ہیں سوا ان کی سوا مشکل ہے ۔

تان سین اسی مشکل سے دوچار تھا۔

تان سین ایک ایسا ماہر فن گویا تھا کہ دیپک راگ گانا اس کے لیے کوئی مشکل اور ناممکن کام نہیں تھا لیکن وہ اس کے نتائج و عواقب سے بھی بہ خوبی واقف تھا جو اس کے استادوں نے موسیقی اور گائیکی کی تربیت دیتے ہوئے اسے سکھائے اور سمجھائے تھے۔ تان سین کو راگ ملہار گانے میں بھی کوئی مشکل درپیش نہیں تھی۔ وہ دوسرے راگوں کی طرح اس راگ سے بھی نہ صرف واقف تھا بلکہ اس کی تربیت بھی حاصل کر چکا تھا۔

تان سین کے لیے اصل مرحلہ دیپک راگ گانے کے بعد رونما ہونے والے حالات تھے۔ ظاہر ہے کہ دیپک راگ کے اثرات سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے وہ بذات خود راگ ملہار نہیں گا سکتا تھا کیونکہ جسمانی اور ذہنی لحاظ سے وہ اس کے قابل ہی نہ رہتا۔ اب سوال یہ تھا کہ راگ ملہار گا کر اس کے دکھوں کا علاج کون کرے؟

اکبر کے دربار میں ایسے ماہر موسیقار تھے جو راگ ملہار گا سکتے تھے لیکن وہ سب کے سب تان سین کے خلاف سازش میں شریک تھے۔ اس لیے ان سے کسی امداد یا فلاح کی امید نہیں رکھی جا سکتی تھی۔ وہ ان میں سے کسی ایک پر بھی بھروسا نہیں کر سکتا تھا لیکن شہنشاہ کے حکم سے سرتابی کی مجال بھی نہ تھی۔ حکم حاکم، مرگ مفاجات۔ا سے ہر صورت میں شہنشاہ کی فرمائش پوری کرنی تھی ۔ وہ اکبر کو موسیقی کے رموز سے آگاہ نہیں کر سکتا تھا کیونکہ شہنشاؤں کو اس سے کوئی سروکار نہیں ہوتا کہ ان کے حکم کی تعمیل کے نتیجے میں تعمیل کرنے والا کس مشکل میں مبتلا ہوگا۔ انہیں تو اپنے شوق کی تکمیل سے غرض ہوتی ہے۔ پھر یہ مسئلہ بھی تھا کہ اگر وہ اکبر اعظم کو اس راگ گانے والے کے انجام سے مطلع کرکے اس حکم کو واپس لینے کی درخواست کرتا تو اس کے دشمن شہنشاہ کو یہ کہہ کر اس کے خلاف بھڑکا سکتے تھے کہ یہ دراصل دیپک راگ گانے کی صلاھیت ہی نہیں رکھتا اس لیے بہانے تراش رہا ہے۔ ایسی صورت میں تان سین کو نہ صرف ذلت اٹھانی پڑتی بلکہ وہ شہنشاہ کی نظروں میں بھی گر جاتا۔

(جاری ہے۔۔۔ اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں)

مزید : کتابیں /فلمی الف لیلیٰ