انسانی سمگلنگ ۔۔۔ خوفناک حقائق ... قسط نمبر 13

انسانی سمگلنگ ۔۔۔ خوفناک حقائق ... قسط نمبر 13
انسانی سمگلنگ ۔۔۔ خوفناک حقائق ... قسط نمبر 13

  

1964ء سے لے کر 1996ء تک عیسائیوں کے خلاف تشدد کے 88 واقعات ریکارڈ ہوئے۔انڈیا میں ہونے والی دہشت گردی کا الزام اس نے ہمیشہ پاکستان پر لگایا۔ متعدد واقعات میں صحافیوں اور سیاستدانوں نے پاکستانی انٹیلی جنس آئی ایس آئی پر الزام لگایا کہ وہ ان واقعات میں ملوث ہے۔ پاکستان پر اس وقت الزامات امریکہ، افغانستان اور انڈیا کی طرف سے مسلسل لگائے جا رہے ہیں اور ملک کو بدنام کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

انڈیا میں بعض علاقے ایسے بھی ہیں جن میں کروڑوں انسانوں کو مرکزی حکومت کے متعلق علم بھی نہیں ہے۔ بڑا ملک اور بڑی آبادی میں ہزاروں کی تعداد میں انسانوں کو اغوا اور قتل کیا جاتا ہے۔ انڈین حکومت کے ذرائع کے مطابق ہر سال ملک میں 20 ہزار عورتوں سے جنسی زیادتی کی جاتی ہے۔ جرائم اور لاقانونیت ملک کے ہر حصے میں پھیلی ہوئی ہے۔ کروڑوں انسانوں کو پیٹ پالنے کے لئے کام سے فرصت نہیں کہ وہ اپنے اردگرد ہونے والے واقعات کا نوٹس لے سکیں۔ ذیل میں ان جرائم میں ایک جرم ’’انسانی سمگلنگ‘‘ کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔

انسانی سمگلنگ ۔۔۔ خوفناک حقائق ... قسط نمبر 12 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

انڈیا انسانی سمگلنگ کا مرکز بھی ہے اور ایک بڑا ذریعہ بھی ۔یہاں پر لوگ دیگر ممالک سے عارضی قیام کے لئے لائے جاتے ہیں اور پھر ایشیاء، مڈل ایسٹ، مشرقی ایشیاء اور یورپی ممالک کی طرف سمگل کئے جاتے ہیں۔ انڈیا کے اندر جبری مشقت، جنسی استحصال اس وقت زوروں پر ہے۔ انڈیا میں درون ملک انسانی سمگلنگ دراصل مقامی سطح پر ہونے والی جبری مشقت کا نتیجہ قرار دی جاتی ہے۔ سمگل شدہ افراد جن میں عورتیں، بچے اور مرد شامل ہوتے ہیں کو بھٹہ خشت ، رائس ملز، زراعت اور کشیدہ کاری کی صنعت میں جبراً کام پر لگا دیا جاتا ہے۔ اگرچہ ایسے افراد کے بارے میں کوئی جامع رپورٹ ابھی تک سامنے نہیں آسکی لیکن غیر سرکاری ذرائع کے مطابق 4 سے 6 کروڑ افراد اس مسئلہ سے متاثر ہیں۔ عورتوں اور لڑکیوں کو ملک کے ایسے حصوں میں سمگل کر کے لایا جاتا ہے جہاں جنسی اعتبار سے آبادی مردوں کے زیر اثر ہے۔ اور سمگل شدہ لڑکیوں سے جبری شادیاں بھی کی جاتی ہیں ۔ ان کا جنسی استحصال بھی کیا جاتا ہے جس کی تفصیل آگے بیان کی گئی ہے۔ بچوں کو زراعت اور کارخانوں میں جبری مشقت پر لگایا جاتا ہے اور کچھ گھریلو ورکرز اور بھکاری بن جاتے ہیں۔ انڈیا میں بچوں کو مسلح کارروائیوں کے لئے بھی استعمال کرنے کی اطلاعات ہیں جن کو دہشت گرد اور عسکری تنظیمیں مبینہ طور پر تربیت فراہم کرتی ہیں۔ نیپالی بچوں کو بھارت میں سرکس میں کرتب دکھانے کے لئے سمگل کر کے لایا جاتا ہے۔ انڈین عورتیں مڈل ایسٹ اور مشرقی ایشیائی ممالک میں جعلی دستاویزات کے ذریعے بھیجی جاتی ہیں جہاں انہیں جنسی طورپر ہراساں کیا جاتا ہے۔ لاکھوں کی تعداد میں انڈین باشندے رضاکارانہ طور پر مشرق وسطی کے ممالک جاتے ہیں۔ یہ افراد وہاں گھریلو ملازموں کے طور پر کام کرتے ہیں۔ غیر ہنر مند ہونے کی وجہ سے ان کو بہت کم تنخواہ پر گھروں اور سٹورز پر بطور چوکیدار رکھا جاتا ہے۔ ان میں بعض چونکہ ایجنٹ مافیا کے ذریعے جعلی دستاویزات پر سفر کرتے ہیں لہٰذا ایسے افراد کو ہر ماہ باقاعدگی سے تنخواہ نہیں دی جاتی۔ اس طرح سہانے خواب لیکر غیر ممالک جانے والوں کو مذکورہ بالا صورت حال کا جب سامنا کرنا پڑتا ہے تو وہ نفسیاتی امراض کا شکار بھی ہو جاتے ہیں۔ ان کو گھروں سے باہر اکیلے نکلنے کی ہر گز اجازٖت نہیں دی جاتی اور ان کے پاسپورٹ وغیرہ آجر چھین کر اپنے پاس رکھ لیتے ہیں۔ انڈین حکومت ممنوعہ غیر اخلاقی سمگلنگ کے ایکٹ کے تحت اپنے باشندوں کو کاروباری جنسی استحصال سے منع کرتی ہے۔ اس قانون کے تحت لوگوں کو سزائیں بھی دی جاتی ہیں جن کی مدت سات سال سے عمر قید تک ہے جو دیگر خطرناک جرائم کے مساوی تصور کی جاتی ہیں۔انڈیا میں جبری مشقت کی ممانعت کا قانون ’’ممنوعہ مشقت کے خاتمے کا ایکٹ‘‘ موجود ہے جس کے تحت اس لعنت کو روکا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ ملک میں ’’چائلڈ لیبر ایکٹ‘‘ اور ’’جونیائل جسٹس ایکٹ‘‘ بھی موجود ہے۔

مذکورہ بالا قوانین کا نفاذ بھی غیر موثر ہو چکا ہے تاہم اس میں درج سزائیں، مثلاً زیادہ سے زیادہ تین سال کی سزا کافی نہیں ہے۔ انڈیا میں جس قانون کے تحت سمگلرز کو گرفتار کیا جاتا ہے اس میں زیادہ سے زیادہ 10 سال قید اور جرمانہ کی سزا دی جاسکتی ہے۔ علاوہ ازیں جبری مشقت اور جنسی استحصال کا شکار افراد کی نقل و حمل میں کرپٹ سرکاری افسران اور اس بزنس سے منافع حاصل کرنے والے شراکت دار شامل ہوتے ہیں جو بااثر ہوتے ہیں۔ کم سن افراد کو جسم فروشی کے لئے اغوا کرنا ایک ایسا جرم ہے جس کی سزا سخت ہونی چاہیے لیکن انڈیا میں ایسے مقدمات کا اندراج بھی 150 سالہ پرانے قانون (انڈین پینل کوڈ) کے تحت کیا جاتا ہے۔ کرپٹ افسران اور مقامی مافیا کے مجرمانہ پس منظر کے حامل افراد ہیرا منڈیوں کو تحفظ دیتے ہیں اور ان کے سرپرستوں کو ہر قسم کا تعاون فراہم کرتے ہیں۔ ایسے میں اس جرم کے خاتمے کی امید کیسے کی جاسکتی ہے؟ ہیرا منڈی یا قحبہ خانہ چلانے والے کو قانونی تحفظ کی دستیابی کے بدلے بھاری رقم ادا کرنا پڑتی ہے جو وہ قحبہ خانے میں بند لڑکیوں اور عورتوں سے وصول کرتا ہے۔ یعنی اس جرم کی دو سطحیں ہیں جو نہ صرف ایک دوسرے سے بدتر اور رسوا کن ہیں بلکہ ایک دوسرے کی مرہون منت ہیں۔ قانون کا ان لڑکیوں تک پہنچنا ناممکن بنا دیا جاتا ہے جن میں استحصال زدہ عورتوں اور لڑکیوں کا بالواسطہ قابل رحم کردا ر بھی شامل ہوتا ہے۔

انڈیا میں اس جرم کی روک تھام کے لئے کوئی موثر اقدام نہیں اٹھایا گیا اور نہ ہی بدعنوان افسران کی سرپرستی کو روکنے کا کوئی مناسب انتظام موجود ہے۔ انسانی سمگلنگ ایک منافع بخش اور پیچیدہ کاروبار بن چکا ہے جس کی جڑیں سیاسی نظام اور حکومتی مشینری کی رگوں تک سرایت کر چکی ہیں۔انڈیا میں پائی جانے والی وسیع پیمانے پر غربت اور چند ہاتھوں میں دولت کے ارتکاز نے اس غیر قانونی عمل کو مضبوط سے مضبوط تر کر دیا ہے۔ حتیٰ کہ مڈل ایسٹ میں جانے والے ایسے ورکرز کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ وہاں کی ابھرتی ہوئی معیشت میں غیر ملکی ہاتھوں کا کردار کبھی بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ کنسٹرکشن اور ہوٹلنگ کے دونوں شعبے غیر ملکیوں خصوصاً ایشیائی باشندوں کی وجہ سے منافع کما رہے ہیں۔ دونوں شعبوں میں آپ کو انڈیا کے ہر ضلع کا فرد ضرور نظر آئے گا۔ ہوٹلوں اور نیم ہوٹل نما عمارتوں میں بنگلہ دیشی، انڈین، وسطی ریاستوں کی لڑکیاں جسم فروشی کے کاروبار میں ملوث ہیں۔

انڈیا میں ریاستی حکومتیں اپنے فلاحی اداروں کے تعاون اور پولیس کے ساتھ مل کر باقاعدگی سے ایسے پروگرام تشکیل دیتی رہتی ہیں جو انسانی سمگلنگ اور جنسی استحصال کے خاتمے کے لئے موثر ثابت ہوسکتے ہیں۔ لیکن ان کی کوششیں رائیگاں جاتی ہیں۔ کیونکہ متعلقہ قوانین غیر مؤثر ہو چکے ہیں اور عدالتوں میں مقدمات کی سماعت میں تاخیر ہوتی ہے۔

حکومتی سطح پر عدم توجہ کی ایک صورت فنڈز کی عدم دستیابی کی شکل میں سامنے آتی ہے۔نومبر 2011 میں ’’سنٹرل بیورو آف انوسٹی گیشن‘‘ نے مہاراشٹر ریاست میں اینٹی ٹریفکینگ ٹریننگ کا اہتمام کیا لیکن اس کے لئے درکار فنڈز کی عدم دستیابی اس منصوبے کے خاتمے کا باعث بنی۔ حکومت کی طرف سے انسانی سمگلنگ کے متعلق کبھی اعداد و شمار سامنے نہیں آئے۔ سمگلنگ کا شکار ہونے والے افراد کے تحفظ کے لئے بھی انڈیا میں خاطر خواہ انتظامات موجود نہیں اور نہ ہی کبھی موثر طریقے سے کوشش کی گئی ہے۔ ہر ریاست اپنے طور پر کچھ اقدامات کرتی ہے جو ناکافی ہوتے ہیں۔ مرکزی حکومت کی طرف سے اعلان کیا گیا کہ جبری مشقت کے شکار افراد کو فی کس 10 ہزار روپے دیئے جائیں گے۔ تا کہ وہ اپنے آپ کو بحال کرسکیں ۔اس اعلان پر بھی ملک کے چند مخصوص علاقوں میں عملدرآمد کیا گیا اور کروڑوں کی تعداد اب بھی حکومتی امداد کی منتظر ہے۔ سرکاری افسران ایسے افراد کی مناسب طریقے سے شناخت نہیں کرتے جو جبری مشقت میں ملوث ہیں۔ چنانچہ چند ایک لوگ ہی اس امداد سے مستفید ہوتے ہیں۔ سرکاری طور پر بنائے گئے گھروں میں چند افراد کو رکھا جاتا ہے۔ جن کی حالت زار انسانوں کے رہنے کے قابل نہیں تاہم ان کو 20 ہزار روپے ادا کرنے کا اشتہار بھی آپ پڑھ سکتے ہیں ۔ جبری مشقت اور بغیر اجرت کے محنت کا انڈیا میں ایسے مزدوروں کے لئے بھی ایک بڑی تکلیف دہ چیز ہے جو روزانہ پیسے کما کر اپنے چولہا چلاتے ہیں۔ جبری مشقت اور جسمانی استحصال کے شکار افراد کو غیر سرکاری تنظیمیں نہ صرف تحفظ فراہم کرتی ہیں بلکہ وہ طبی سہولتوں اور خوراک کی فراہمی کی نگرانی بھی خود کرتی ہیں۔ مرکزی حکومت تو ملک سے باہر سمگل ہونے والوں کو بھی قانونی تحفظ فراہم نہیں کرتی جن کو جنسی استحصال اور جبری محنت کے لئے سمگل کیا جاتا ہے۔ ملک کے اندر جسم فروشی میں ملوث عورتوں کی تعداد کے بارے میں بھی حکومت نے کبھی معلومات شائع نہیں کیں۔ کسی کو معلوم نہیں کہ اس ’’کاروبار‘‘ میں کمی ہوئی ہے یا اضافہ۔ دراصل سرکاری اداروں کے اہل کار اس رسمی طریقہ کار سے ناواقف ہیں جو مقامی اور سمگل شدہ جسم فروش عورتوں کو الگ الگ کرنے کے لئے اپنایا جاتا ہے۔ ان میں ایسی عورتیں بھی شامل ہوتی ہیں جن کو جسم فروشی کی سزا دی جاتی ہے جو وہ سمگل ہونے کے نتیجے میں کرتی ہیں۔

انڈیا میں آنے والے بے شمار لوگ مستقل طور پر وہاں رہائش پذیر ہیں۔ ان میں ایسے غیر ملکی بھی شامل ہیں جو دیگر ممالک سمگل کئے گئے لیکن ان کو انڈیا واپس بھیج دیا گیا۔ ایسے افراد کو کوئی قانونی یا مالی امداد نہیں دی جاتی اور نہ ہی ان کے آبائی ملک بھیجنے کا انتظام کیا جاتا ہے۔ ان افراد میں اکثریت بنگلہ دیشی اور نیپالی اور ویتنامی، برمی عورتوں اور بچوں کی ہے۔ بہت سے افراد ان سمگلرز کا نام نہیں بتاتے جو ان کو ورغلا کر لے گئے تھے۔ ان کو سمگلرز کی طرف سے انتقام کا خوف دامن گیر رہتا ہے۔ 

انڈیا میں ’’وزارت برائے لیبر اور روزگار‘‘ وقفے وقفے سے اخبارات میں چائلڈ لیبر کے خلاف اشتہارات شائع کراتی رہتی ہے۔ حکومت کی طرف سے ترک وطن کرنے والوں کے لئے تصدیقی کاؤنٹر بھی بنے ہوئے ہیں تا کہ ملک چھوڑنے سے پہلے وہ اطمینان کرلیں کہ انہیں کسی نوع کے جبر یا ظلم کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ تصدیق کے عمل سے بچنے کے لئے انڈین شہری بھاری رقوم رشوت کے طور پر ادا کرتے ہیں اور ملک سے باہر چلے جاتے ہیں۔ اس کی اہم وجہ ملک میں پائی جانے والی غربت اور غیر یقینی معاشی و سیاسی حالات ہیں۔ ملک سے باہر جانے کا بھوت بہتر مستقبل کے خواب کو پورا کرنے کے لئے سوار ہوتا ہے۔ جو وہ غیر ملک میں جا کر زیادہ پیسے کما کر پورا کرسکتے ہیں۔ یہ چیز ان کو اپنے ملک میں بیٹھنے نہیں دیتی اور اسی وجہ سے انڈیا سے انسانی سمگلنگ ختم ہونے کے امکانات بہت کم ہیں۔ یاد رہے کہ انڈیا 2000ء کنونشن پروٹوکول کا دستخطی نہیں ہے۔

اب انڈیا کے اندر ان حالات کا مختصر طور پر جائزہ لیا جا رہا ہے جو انسانی سمگلنگ کا باعث بنتے ہیں ۔ لہٰذا چند ایک واقعات بھی درج کر دیئے گئے ہیں۔

انڈیا میں انسانی سمگلنگ اور استحصال کی کہانی

انڈیا میں جنسی استحصال، بچوں سے مشقت لینے اور جبری مشقت کے لئے ہونے والی اندرون اور بیرون ملک انسانی سمگلنگ کی صورتحال انتہائی افسوناک اور غیر انسانی قرار دی جاسکتی ہے۔ اسے امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے سرکل 2 میں رکھا گیا ہے جس کا مطلب ہے کہ انڈیا انسانی سمگلنگ پر قابو پانے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکاہے۔ اس جرم کی وجوہات انڈیا کے معاشی، سیاسی، سماجی اور انتظامی حالات کے باب میں تفصیل کے ساتھ بیان کر دی گئی ہیں۔ اس باب میں ان حقائق اور اعداد و شمار کا مختصر طور پر جائزہ لیا گیا ہے جو اس جرم کی گہرائی اور وسعت کا اندازہ لگانے میں معاون ثابت ہوسکتے ہیں۔

انڈیا میں تقریباً دس کروڑ افراد غلامی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ ہر سال 12 لاکھ سے زائد بچے درون اور بیرون ملک سمگل کئے جاتے ہیں جن کی ایک بڑی تعداد سیاحت کے شعبے میں ’’جنسی خدمتگار‘‘ کے طور پر کام کرتی ہے۔ بچوں کی جسم فروشی میں چند برسوں میں 30% تک اضافہ ہوا ہے جو اربوں ڈالر کما رہے ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر انسانی سمگلنگ اور جنسی استحصال کے خلاف کام کرنے والے اداروں میں ایک فقرہ بہت مقبول ہو چکا ہے۔ یعنی ’’انڈیا میں صاف رنگت والی 13 سالہ لڑکی 24 گھنٹوں میں 2500 امریکی ڈالر کما سکتی ہے، پھر کیا وجہ ہے کہ انڈیا کی غربت ختم نہیں ہوئی۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ اس میں بھی سرکاری افسران اور سماجی کرتا دھرتا کرپشن کرتے ہیں۔‘‘سمگل ہونے والے افراد کو فلم انڈسٹری میں کام کرنے یا فیکٹری میں ملازمت کا جھانسہ دیکر لایا جاتا ہے۔ ان کی اکثریت والدین پر بنے ہوئے بوجھ بچوں، ذہنی انتشار کا شکار اور معاشی و معاشرتی حالات سے تنگ آئے ہوئے افراد پر مشتمل ہوتی ہے۔(جاری ہے )

انسانی سمگلنگ ۔۔۔ خوفناک حقائق ... قسط نمبر 14 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /انسانی سمگلنگ