مذہبی جماعتوں کو عوام نے سیاست میں پذیرائی کیوں نہ دی؟

مذہبی جماعتوں کو عوام نے سیاست میں پذیرائی کیوں نہ دی؟
مذہبی جماعتوں کو عوام نے سیاست میں پذیرائی کیوں نہ دی؟

  

پاکستان بناتے وقت نعرہ لگتا تھا ،پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الا اللہ،اسلئے کہا جاتا ہے کہ پاکستان مذہب کے نام پر حاصل کیا گیا۔ مگر قومی سیاست میں مذہبی جماعتوں کا کردار کبھی اہم رہا اور نہ ہی قوم نے ان کو کبھی پذیرائی دی۔آہستہ آہستہ ان کی سیاسی حیثیت ختم ہوتی جا رہی ہے،گزشتہ اور حالیہ الیکشن اسکا ثبوت ہے،حالیہ الیکشن میں تحریک لبیک کو ممتازقادری کی پھانسی کی وجہ سے دئیے جانے والے دھرنے کی وجہ سے خاطر خواہ ووٹ ملے ہیں،مگر حاصل ہونے والی قومی صوبائی اسمبلی کی نشستوں کی تعداد نہ ہونے کے برابرہے،مذہبی جماعتوں کی عوامی حیثیت ہر دور میں رہی مگر عوام کی اکثریت نے کبھی ان کو حق حکمرانی دینے بارے سنجیدگی سے نہیں سوچا۔

متحدہ ہندوستان میں مجلس احرار اسلام انتہائی مقبول جماعت تھی،رئیس الا حرار سید عطاء اللہ شاہ بخاری نماز عشاء کے بعد خطاب شروع کرتے اور نماز فجر تک لوگ ہمہ تن گوش سنتے،سکوت اتنا ہوتا کہ پن گرنے کی آواز بھی سنی جا سکتی تھی،مگر عطاء اللہ بخاری کو ہمیشہ شکوہ رہا کہ لوگ تقریریں ان کی سنتے ہیں مگر ووٹ کسی اور کو دیتے ہیں،حالانکہ سید صاحب دنیا دار نہ تھے،ان کی زندگی انتہائی شفاف تھی، کبھی کسی سے مفاد حاصل نہ کیا،پر تعیش زندگی انکی کبھی آرزو نہ رہی،صبر شکر کیساتھ زندگی گزاری،لاکھوں عقیدت مندوں سے کبھی مالی منفعت حاصل کرنے کا سوچا بھی نہیں،یہی وجہ ہے کہ ان کے تینوں بیٹے بھی جو قیام پاکستان کے بعد پاکستان آگئے تھے نے فقیرانہ زندگی بسر کی،دنیا ویآسائشات نے کبھی ان کو اپنے عظیم باپ کے طریقہ سے ہٹنے نہ دیا۔

سید ابوالاعلیٰ مودودی نے بھی قیام پاکستان سے قبل جماعت اسلامی کی بنیاد رکھ دی تھی،اس جماعت اسلامی کی رکنیت کیلئے سخت شرائط کیوجہ سے عام لوگ اس جماعت سے بدکتے تھے،سید صاحب بھی بھیڑ جمع کرنے کے بجائے چند تربیت یافتہ،صاحب تقویٰ،خدمت خلق کے خواہش مند لوگوں کا ساتھ چاہتے تھے تاکہ دین کی تبلیغ کیساتھ قرآن کے علم کو عام کیا جا سکے،مولانا مودودی خود بھی ساری عمر قرآن پاک کی تعلیمات کو عام اور آسان عام فہم تفسیر لکھنے میں مصروف رہے،جماعت اسلامی کے اجتماعات ابتداء میں درس قرآن اور درس حد یث کیلئے ہوتے تھے،کارکنوں کی تربیت کی اسلامی تعلیمات کی روشنی میں تربیت کی جاتی تھی،جماعت کے کارکن سے جھوٹ،بد دیانتی،احسان فراموشی،وعدہ خلافی کا تصورنہیں کیا جا سکتا تھا،مگر 1953ء میں جب جماعت نے پنچائتی انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا تو جماعت اسلامی کے منشور،ارکان کیلئے نصاب کے خالق مولا نا امین احسن اصلاحی اور ڈاکٹر اسرار احمد نے جماعت سے کنارہ کشی اختیار کر لی،جماعت اسلامی بتدریج اسلامی سے سیاسی جماعت بنتی گئی،نتیجہ یہ نکلا کہ 1970ء کے الیکشن میں جماعت اسلامی مغربی پاکستان میں صرف چار نشستوں پر کامیابی حاصل کر پائی،تین کراچی اورایک ڈیرہ غازیخان سے،بعد کے انتخابات میں بھی نتائج اسی

نوعیت کے تھے۔

عوام مولانا مودودی کی دینی خدمات کے معترف تھے،ان کی تحریروں سے فیض بھی حاصل کرتے ،جماعت کے کارکنوں نکی بلند کرداری کو بھی سراہتے مگر ووٹ نہیں دیتے تھے،جماعت اسلامی کے نظم پر اسلامی جمیعت طلباء کے کلچر کے غلبہ نے جماعت کا اسلامی تشخص بالکل ہی ختم کر دیا اوراب جماعت اسلامی نہ مذہبی جماعت ہے نہ سیاسی،ایک نشست جیتنے کیلئے بھی اسے دیگر جماعتوں سے اتحاد یا تعاون کی ضرورت رہتی ہے۔

مذہب کے نام پر ملک میں سرگرم باقی جماعتیں فرقہ پرست گروہ ہیں،کچھ تو اپنے نام سے ہی مختلف فرقوں کی نمائندہ ہیں،جمیعت العلماء اسلام کے اس وقت تین گروہ ہیں اور یہ جماعت دیو بندی مکتب فکر کی نمائندہ ہے،جمیعت اہلحدیث کے بھی متعدد گروپ ہیں یہ جماعت اپنے نام سے ہی ایک فرقہ کی نمائندہ لگتی ہے،پابندی زدہ تحریک نفاذ فقہ جعفریہ اہل تشیع کی نمائندہ تھی،جمیعت العلماء پاکستان 70 کی دہائی تک بریلوی مکتب فکر کی بڑی نمائندہ جماعت تھی جس کی سربراہی علامہ شاہ احمد نورانی کے سپرد تھی مگر نورانی صاحب ایک معتدل مزاج شخصیت تھے اور ہر مکتب فکر کیلئے قابل قبول تھے،یہی وجہ ہے کہ جن دنوں مذہب کے نام پر ملک میں قتل و غارت گری جاری تھی تب ملی یکجہتی کونسل کا قیام عمل میں آیا جس کی سربراہی علامہ نورانی کے ذمہ تھی ،یکجہتی کونسل کی کوششوں سے فرقہ وارانہ نفرت میں کمی آئی،اگر چہ جے یو پی نورانی صاحب کی زندگی میں ہی تقسیم ہو گئی اور مولانا عبدالستار نیازی نے اپنا الگ دھڑا تشکیل دے لیا،اس وقت یہ جماعت دو سے زیادہ دھڑوں میں تقسیم ہے۔

بریلوی مکتب فکر کے پیروکار صوفیاء،اولیاء کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کی وجہ سے انتہائی امن پسند،صلح جو،تحمل اور برداشت کرنے والے ہوتے ہیں،شدت پسندی ،تشدد سے ان کا دور کا بھی واسطہ نہیں،مگر حال میں منظر عام پر آنے والے علامہ خادم حسین رذوی نے اس تاثر کو زائل کر دیا ہے،ماضی میں انہوں نے ممتاز قادری کی پھانسی کیخلاف دھرنا دیا،جو کئی روز تک جاری رہا،ممتاز قادری کی پھانسی ایک قانونی معاملہ تھی ،ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ جب عدالت نے سزائے موت کا حکم دیا تھا خادم رضوی نظر ثانی کی اپیل کرتے اور عدالت میں دلائل و براہین کیساتھ سزا کو غلط ثابت کرتے مگر ایسا کر کے قانونی راستہ اختیار نہ کیا گیابلکہ تشدد کا راستہ اپنایا گیا جس کا نقصان ملک و قوم کو برداشت کرنا پڑا،آسیہ کی رہائی کے عدالتی حکم پر بھی انہوں نے قانونی راستہ اپنانے کی بجائے تشدد کا راستہ اپنایا،آرمی چیف، چیف جسٹس آف پاکستان بارے رقیق زبان استعمال کی گئی،مگر عدالتی حکم کیخلاف آئینی راستہ اختیار کر کے نظر ثانی اپیل کی زحمت نہ کی،جس بناء پر سواد اعظم کی حمائت وہ حاصل نہ کر سکے اس کی واحد وجہ یہ ہے کہ مذہبی جماعتوں کی مقبولیت میں بتدریج کمی آرہی ہے،اب ان کا اقتدار میں آنیکا خواب شائدہی کبھی پورا ہو۔

 نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں،ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ