کرتار پور راہداری منصوبہ پر شکوک و شبہات کیوں؟

کرتار پور راہداری منصوبہ پر شکوک و شبہات کیوں؟
کرتار پور راہداری منصوبہ پر شکوک و شبہات کیوں؟

  



پاکستان اوربھارت کےمابین سخت کشیدگی کےماحول اورتناؤ کی صورت حال میں جس برق رفتاری اور جوش و جذبے کے ساتھ انتہائی مختصر مدت کے اندر یہ منصوبہ پایہ تکمیل کو پہنچایا گیا ہے اس نے بہت سے ذہنوں میں سوالات اور شکوک وشبہات کو جنم دیاہے۔مختلف حلقوں کی طرف سے یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا اس منصوبے کا مقصد مذہبی سیاحت کے ذریعے واقعی پاکستان کی معاشی ابتری میں بہتری لانا ہے یا کچھ اور؟ کیونکہ کرتار پور کے دوسری طرف صرف چند کلو میٹرز کے فاصلے پر بھارتی ضلع گورداسپور ہے جہاں پر پاکستان کے آئین میں غیر مسلم قراردیے جانے والے قادیانیوں کا مرکز قادیان واقع ہے چنانچہ جب حکومت نے کرتار پورراہداری کھولنے کا اعلان کیا تھا تو مذہبی جماعتوں نے اس پر اپنے تحفظات کا اظہاربھی کیا تھا۔

پاکستان کی سب سے بڑی مذہبی جماعت جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے آزادی مارچ پر سرکاری حلقوں کی طرف سے کشمیر کے معاملے پر سرحدی کشیدگی کے ماحول میں لانگ مارچ کرنے پر اعتراض کے جواب میں یہ دلیل پیش کی تھی کہ اگر پاکستان اور بھارت کے درمیان حالات اتنے ہی کشیدہ ہیں تو پھر کرتار پور راہداری کیوں کھولی جارہی ہے۔ کرتار پور راہداری کے حوالے سے شکوک و شبہات پیدا ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ حکومت نے اس مقصد کےلیےآنےوالوں کوپہلے دورروز کے لیے پاسپورٹ سے مستثنیٰ قرار دے دیا ہے یعنی یاترہ کے لیے آنے والے پاسپورٹ کے بغیر پاکستان کی حدود میں داخل ہوسکتے ہیں۔یہ استثنیٰ حیران کن ہے اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ پہلے دو روز سکھ یاتریوں کے کھانے پینے کا بندوبست بھی حکومت پاکستان نے اپنے ذمے لے رکھا ہے ۔گو یہ نوازش بھی اپنے اند ر حیرتوں کا ایک جہان رکھتی ہےلیکن یہ سب کچھ محض شکوک وشبہات کی حد تک ہے معاملے کا گہرائی میں جائزہ لینے کے بعد ان میں بظاہر پریشانی کی کوئی بات دکھائی نہیں دیتی ۔

کرتار پور راہداری کے حوالے سے اگرچہ پہلی مرتبہ پاکستان اور بھارت کے درمیان بات چیت1998میں ہوئی تھی لیکن اس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان حالا ت خراب ہونے کے باعث یہ معاملہ کھٹائی میں پڑا رہالیکن20سال کے بعد2018میں اچانک اس پر پھر سے کام شروع کردیا گیا۔گزشتہ برس جب وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھانے کی تقریب کے موقع پر وزیر اعظم عمران خان کی خصوصی دعوت پر جب بھارت کے معروف کرکٹر نوجوت سنگھ سندھو پاکستان آئے تو تقریب میں موجود پاک فوج کے سپہ سالار جنرل قمرجاویدباجوہ نے بھارتی کرکٹر کو کرتار پور راہداری کھولنے کی نوید سنائی دی جس سے ایک طرف سکھ مہمان کو بے حد خوشی ہوئی وہاں بھارتی حکومت نے سخت رد عمل ظاہر کرتے ہوئینوجوت سنگھ سندھو کے خلاف انتقامی کاررائی کرنا شروع کردیا لیکن آرمی چیف کی طرف سے کرتارپورراہداری کھولنے کی اس نوید سے پوری دنیا میں سکھ برادری میں خوشی کی ایک لہر دوڑ گئی جبکہ پاکستان کی سفارتی محاز پر بڑی کامیابی سے تعبیرکیا گیا ۔

کرتارپور دراصل نارووال ضلع کی تحصیل شکرگڑھ میں واقع ہے جہاں پر سکھ مذہب کے بانی بابا گرونانک نے وفات پائی چنانچہ ان کی قبر اورسمادھی اُسی جگہ بنادی گئی۔ سکھ مذہب کے ماننے والوں کے لیے اس جگہ کے بارے میں بڑی عقیدت پائی جاتی اوریہ مقام ان کے ’کعبہ‘ کا درجہ رکھتا ہے۔ سکھ یاتریوں کے مطابق ابتک بھارت کے سکھ بارڈر کے اس پار کھڑے ہوکر دوربین کی مدد سے اپنے اس مقدس مقام کا درشن کرتے تھے،اس طرف رخ کرکے عبادت کرتے تھے۔ بھارتی حکومت نے اس مقصد کے لیے درشن ستھل قائم کررکھے ہیں تاکہ ان پر کھڑے ہوکر واضح طورپر درشن کیا جاسکے سکھ یہاں آنے کے لیے ترستے تھے لیکن اب راہداری کھل جانے سے وہ خود یہاں آ کر فیوض و برکات سمیٹ سکیں گے۔

کہاجاتا ہے کہ بابا گرو نانک تقریبا500سال قبل1521میں52سال کی عمر میں یہاں آئے تھےاوریہاں مستقل رہائش اختیارکرکےعبادت کرنا شروع کردی۔انہوں نے اس جگہ کا نام کرتار پور رکھا جس کا ذکر سکھوں کی مذہبی کتاب گرنتھ میں بھی ملتا ہے۔ یہاں کھیتی باڑی کے لیے کنواں بھی تھا جو آج بھی موجود ہے۔اسے سری کھو کانام دیا گیا ہے۔بابا گرونانک نے زندگی کے آخری18سال یہیں گزار دیے اور جب ان کا انتقال ہوگیا تو کہا جاتا ہے کہ اس موقع پر مسلمانوں کی طرف سے ان کی میت کومسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنے اورسکھوں کی طرف سے ان کی چتا کو جلا نے کےحوالے سےجھگڑا کھڑا ہوگیا۔جس پردونوں طرف کے معززین کی موجودگی میں جب ان کی میت پر پڑی چادراٹھائی تودیکھا کہ میت غائب ہے اور اس کی جگہ گلاب کے تازہ پھول پڑے ہیں۔جن میں سے نصف کو دفن کرکے مقبرہ بنادیاگیا جبکہ گورونانک کے نام لیوا سنگتوں نے نصف پھولوں پر سمادھی بنا دی۔اس طرح آج بھی اسلام اور سکھ دونوں مذاہب کے لوگ یہاں آتے اور عقیدت کے پھول نچھاور کرتے ہیں۔اس قدیم عمارت دریائےراوی میں سیلاب آنے کے باعث تباہ ہوگئی تھی۔موجودہ عمارت 1920 اور 1929 کے درمیان ایک کروڑ،پینتیس لاکھ چھ سو روپے کی لاگت سے پٹیالہ کے مہاراجہ سردار پھونیدار سنگھ نے دوبارہ بنوائی۔

تقسیم ہند کے وقت یہ گوردوارہ پاکستان کے حصے ہیں آیا لیکن 56 سال تک یہ گوردوارہ ویران رہاجس کی وجہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدہ تعلقات تھے۔ 1995 میں حکومت پاکستان نےاس کی دوبارہ مرمت کروائی۔1971 کی پاک بھارت جنگ کےدوران بھارتی ایئر فورس نےاس جگہ کونشانہ بنایاتھالیکن یہاں پھینکا جانے والا بم گوردوارہ پر نہیں گرا بلکہ قریبی کنویں میں گر گیا جس کے ایک ٹکڑے کو بعد میں نکال کر یہاں شیشے کے ایک شو کیس میں محفوظ کرلیا گیاہے۔

کرتارپور راہداری کے منصوبے کاافتتاح 28 نومبر2018 کو کیاگیا۔ اس سے پہلے یہاں 23 کنال 2 مرلے قطع ارضی اس کے لیے مختص تھی لیکن بعد میں حکومت پاکستان نے اس مقصد کے لیے 42 ایکڑ وسیع وعریض زمین عطیہ کی ہےجس پر تعمیرات مکمل کرلی گئی ہیں۔ اب فنشنگ کا کام کام جاری ہے جو بہت جلد مکمل کرلیا جائے گا۔ اس جگہ پر جو اصل عبادت گاہ تھی اسے جوں کا توں رکھا گیا ہے لیکن وہ تعمیرات جو 2000کے بعد کی گئی تھیں انہیں گرا دیا گیا ہے۔ اس وقت منصوبے کافیز ون مکمل ہونے جارہاہے جس میں عباد ت خانہ ، لنگر کھانا، یاتریوں کے قیام کے لیے کمرے، تالاب اور بارہ دری وغیرہ شامل ہیں،جبکہ فیز ٹو میں یہاں ہوٹلوں کا قیام، کمرشل مارکیٹیں وغیرہ شامل ہیں۔نئے تعمیر کیے جانے والیے کمپلیکس میں داخلے کے لیے چار اطراف سے راستے بنائے گئے ہیں۔ انڈیا کی طرف سے ویزہ فری کاریڈور سے آنے والے سکھ یاتری دوسری طرف سے آئیں گے۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید : بلاگ


loading...