لکی مروت قتل کیس کے ملزم کی ضمانت کنفرم

لکی مروت قتل کیس کے ملزم کی ضمانت کنفرم

  



پشاور(نیوزرپورٹر)پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس صاحبزادہ اسد اللہ نے مشہور زمانہ لکی مروت کے قتل کیس میں نامزد ملزم احسان اللہ عرف ثنا اللہ کی ضمانت پر رہائی کے احکامات جاری کر دیئے ملزم کی جانب سے کیس کی پیروی الطاف خان ایڈوکیٹ نے کی استغاثہ کے مطابق ملزم احسان اللہ پر الزام تھا کہ انہوں نے دو دیگر ساتھیوں کی مدد سے فائرنگ کرکے پولیس اسٹیشن لکی مروت کی حدود میں 24 جولائی 2019 کو گل محمد کو قتل جبکہ غلام محمد کو زخمی کیا ہے دوران سماعت ملزم کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اس کیس میں تین ملزمان پر دعویداری کی گئی ہے جس میں دو مفرور ہیں جبکہ احسان اللہ گرفتار ہیں اس کے ساتھ ساتھ مدعی مقدمہ غلام رسول جس کو بھی 4 گولیاں لگی ہیں نے مختلف مواقعوں پر بیان بدلہ ہے ابتدائی طور پر انہوں نے تینوں افراد پر دعویداری ظاہر کی ہے بعد میں مختلف افراد کو ایک خاص رول دیا اس کے ساتھ ساتھ مدعی مقدمہ نے موقف اختیار کیا کہ وہاں پر لوگوں کی بڑی تعداد موجود تھی تاہم پٹرول پمپ کے باوجود کوئی بھی گواہ اس میں پیش نہیں ہوا جبکہ موقع سے ملنے والی کارتوس کلاشنکوف اور 30 بور پشتول کی ہے جبکہ مدعی مقدمہ نے ایف ائی ار میں صرف کلاشنکوف کا زکر کیا ہے لہذا اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ملزمان کو اس کیس میں پھنسایا گیا ہے عدالت نیدلائل مکمل ہونے کے بعد ملزم کی ضمانت پر رہا کرنے کی استدعا منظور کر دی

مزید : پشاورصفحہ آخر


loading...