حیات آباد میں واقع میچ فیکٹری کی تحلیل کے احکامات جاری

حیات آباد میں واقع میچ فیکٹری کی تحلیل کے احکامات جاری

  



پشاور(نیوزرپورٹر)پشاور ہائیکورٹ کی جسٹس مسرت ہلالی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے حیات آباد میں واقع ایک میچ فیکٹری کی تحلیل کے احکامات جاری کرتے ہوئے متعلقہ فریقین کو لیکویڈیشن کے عمل کیلئے تین تین نام عدالت کو دینے کے احکامات جاری کردیئے فاضل بینچ نے گزشتہ روز نجی میچ فیکٹری کے مالک زاہد حامد میکر کی اپیل کی سماعت کی دوران سماعت اس کے وکیل اسحاق علی قاضی ایڈوکیٹ نے عدالت کو بتایا اس کے موکل نے پشاور میں ار جی میچ فیکٹری کے نام سے کمپنی قائم کی جس میں اس کے موکل کے شیئرز 50 فیصد جبکہ مقامی سرمایہ کار افتاب الحسن کے بھی اسی نوعیت کے شیئرز تھے تاہم بعد میں فریقین کے درمیان تنازعہ پیدا ہوا اور آفتاب الحسن نے اسکے موکل پر اغوا کرنے کی کوشش کا الزام لگایا تاہم مذکورہ مقدمے میں عدالت نے اس کے موکل کو بری کر دیا تاہم اب اس کا موکل اس پارٹنر کے ساتھ مزید کام جاری رکھنا نہیں چاہتا لہذہ اس کمپنی کو تحلیل کیا جائے انہوں نے عدالت کو بتایا کہ اس کمپنی پر 5 کروڑ روپے بینک کا قرضہ ہے جبکہ کسٹم کے بھی بقایا جات ہیں لہذہ کمپنی کو تحلیل کرکے بقایاجات ادا کئے جائیں اور جو رقم بچتی ہے اسے کمپنی ایکٹ کے تحت فریقین میں سرمایہ کاری کے تناسب سے تقسیم کیا جائے انہوں نے عدالت کو بتایا کہ چونکہ اب یہ ضروری ہو گیا ہے کہ درخواست گزار کمپنی کو جاری نہیں رکھنا چاہتا اور اس کا سرمایہ خراب ہونے کا خدشہ ہے لہذا عدالت اس کمپنی کے تحلیل ہونے کا حکم جاری کرے دوسری جانب افتاب الحسن کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اگر مذکورہ فریق اس کے ساتھ کاروبار جاری نہیں رکھنا چاہتا تو یہ بہتر ہوگا کہ کمپنی کو تحلیل کیا جائے اور اس کے بقایاجات کا حساب کتاب کیا جائے عدالت نے دلائل مکمل ہونے پر کمپنی کو تحلیل کرنے کے احکامات جاری کر دیئے اور متعلقہ فریقین کو حکم دیا کہ وہ تین تین نام ہائیکورٹ کو ارسال کریں تاکہ کمپنی جج اس عمل کا باقاعدہ اغاز کرے

مزید : پشاورصفحہ آخر


loading...