انیلہ در پالی قتل کیس،7سال بعد والد اور دو بھائیوں کو عمرقید

           انیلہ در پالی قتل کیس،7سال بعد والد اور دو بھائیوں کو عمرقید

  



جیکب آباد(این این آئی)ماڈل کورٹ نے سات سال بعد انیلہ در پالی قتل کیس کا فیصلہ سنا دیا، مقتولہ کے والد اور دو بھائیوں کو عمرقید،پولیس ڈی ایس پی اور ٹھیکیدار کو 6,6ماہ قید اور جرمانے کی سزا،ایس ایچ اوسمیت پانچ ملزمان باعزت بری،ایک گھنٹے کی حراست بعدسزا یافتہ پولیس ڈی ایس پی اور ٹھیکیدار کو ضمانت پر آزاد کر دیا گیا۔تفصیلات کے مطابق جیکب آباد کے سٹی تھانے کی حدود میں سات سال قبل قتل کی گئی لڑکی انیلہ دہرپالی کے کیس کافیصلہ فرسٹ ایڈیشنل /ماڈل کرمنل ٹرائل کورٹ کے جج ذوالفقار علی شیخ کی عدالت نے سنا دیا انیلہ کے قتل کا جرم ثابت ہونے پر مقتولہ کے والد عبدالعزیزبھائی،وسیم،،منظور احمدکو عمر قید اور ایک ایک لاکھ جرمانے جبکہ سیکشن 120Bکے تحت کیس میں نامزد ملزم ڈی ایس پی عبدالمجید ابڑو،ٹھیکیدار رزاقبہرانی کو چھ،چھ ماہ قید اور 35,35ہزار جرمانہ کی سزا سنادی جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں عمر قید کی ملزمان کومزید ایک ایک سال جبکہ ڈی ایس پی اور ٹھیکیدار کو مزید ایک ایک ماہ قید کاٹنا ہو گی جبکہ اسی کیس میں پانچ ملزمان ایس ایچ او عبدالاحد سومرو،نظیر احمد،الہیار،عبداللہ اور رشید کو جرم ثابت نہ ہونے پر باعزت بری کر دیا گیا اس کیس میں مقتولہ کی والدہ ملوکاں،فرزانہ اور بلال روپوش ہیں جبکہ ایک ملزم مدد وعلی فوت ہو گیا ہے سزا سنائے جانے کے بعد ملزمان کو ہتھکڑیا لگواکر پولیس حراست میں دے دیا گیا یاد ہے کہ سات سال قبل ڈنگر محلہ سے انیلہ دہرپالی زبردستی شادی کرانے پر گھر سے نکلی تھی اور سٹی تھانے پر پناہ لی تھی جسے ڈی ایس پی عبدالمجید ابڑو نے ٹھیکیدار عبدالرزاق بہرانی کی ضمانت پر عدالت میں پیش کرنے کے بجائے ورثاء کے حوالے کر دیا تھا بعد میں انیلہ کو قتل کر دیا جس کی خبر میڈیا میں نمایاں ہوئی تو سرکاری مدعیت میں 16جون 2012کو 9ملزمان کے خلاف کیس داخل کیا گیا،مذکورہ کیس کااس وقت کے ایڈیشنل سیشن جج غلام مرتضی میتلو نے ازخود نوٹیس لیکر 19اکتوبر 2016کو آئی جی سندھ پولیس کو خط لکھ کر انیلا قتل کیس کی تحقیقات کا حکم دیا جس پر آئی جی سندھ پولیس نے 8جون 2017کو تین رکنی جی آئی ٹی اس وقت کے ایس ایس پی شکارپور عمر طفیل کی سربراہی میں تشکیل دی جس کے ممبران میں سابق ایس ایس پی جیکب آباد ساجد کھوکھراور اے ایس پی شکارپور محمد کلیم تھے جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ میں پولیس افسرا ن غفلت کا مرتکب قرار دیا تھا۔

انیلہ درپالی کیس

مزید : پشاورصفحہ آخر


loading...