گورو نانک کی امن راہداری

گورو نانک کی امن راہداری
 گورو نانک کی امن راہداری

  



سکھ مذہب کے بانی بابا گورو نانک کی تعلیمات کا مطالعہ کیا جائے تو ان میں اہم ترین بتوں سے نفرت اور ایک خدا کی عبادت ہے۔بابا جی نے سب سے زیادہ زور وحدانیت پر دیا اسی طرح ظالم کے خلاف مظلوم کا ساتھ دینے کی بھی انہوں نے سخت تلقین کی ۔با با جی کے نزدیک انسان کا مقام مذہب سے زیادہ ہے اس لئے انسانیت کا احترام بہت ضروری ہے۔ سکھ برادری نے بابا جی کی یادگاروں کی بہت محبت سے حفاظت کی اور بابا جی کے زیر استعمال رہنے والی ہر جگہ پر گورودوارہ تعمیر کر کے عبادت اور اصلاح وخدمت کا مرکز بنا ڈالا۔

ان یادگاروں کا لاہور کے نواحی علاقہ ننکانہ صاحب میں جال بچھا ہواہے، چوہڑ کانہ میں ایک گورو دوارہ سچا سودا کے نام سے موجود ہے، جبکہ پنجہ صاحب کے نام سے ایک گورو دوارہ حسن ابدال میں بھی قائم ہے۔نارووال کے علاقہ کرتار پور میں دربار صاحب کے نام سے ایک گورو دوارہ قیام پاکستان سے پہلے سے ہی موجود تھا، مگر پاک بھارت کشیدگی کی وجہ سے سکھوں کی رسائی نہیں ہو رہی تھی،آج وزیر اعظم پاکستان عمران خان اس تاریخی مقام کا افتتاح کرنے جا رہے ہیں جہاں بابا جی کا انتقال ہوا، اور ان کا مدفن ہے،تقریب میں بھارت کے علاوہ دُنیا بھر سے مہمان اور یاتریوں کی شرکت متوقع ہے۔ دربار صاحب کی یہ راہداری کھلنے سے سکھ مسلم نئے تعلقات کا آغاز اور نئی تاریخ رقم ہو گی اور امید ہے کہ یہ امن کی راہداری بنے گی۔

بابا جی اور کرتار پور کے حوالے سے میرے گزشتہ کالم کی حد سے زیادہ پذیرائی ہوئی جس پر میں اپنے قارئین کا شکر گذار ہوں اور یہ دوسری قسط معروف صحافی اور دوست کاظم خان کے اصرار پر لکھ رہا ہوں۔گزشتہ کالم پڑھنے کے بعد مجھے کاظم کا فون آیا اور بتایا کہ اس سے میرا نمبر مس ہوگیا تھا اور انہوں نے پاکستان کے ایڈیٹر عمر شامی سے نہ صرف میرا نمبر لیا،بلکہ کالم کی تحسین بھی کی ہے۔کاظم بھی محبت کا مارا عجیب شخص ہے میرا نمبر وہ علی احمد ڈھلوں اور ایاز خان سے بھی لے سکتا تھا۔

سکھ مذہب کے بانی بابا گورو نانک 15اپریل 1469ء میں ایک ہندو گھرانے میں پیدا ہوئے،ان کے والد مہتا کلیان داس کھیتی باڑی کے ساتھ مقامی حکومت میں پٹواری کے فرائض بھی انجام دیتے تھے،8سال کی عمر میں نانک جی کو سکول سے فارغ کر دیا گیا،کیونکہ بچپن میں ہی سوالات کر کے بابا جی نے استادوں کو اتنا تنگ کیا کہ انہیں سکول سے نکال دیا گیا،بابا جی کے فطرت اور خدا کے بارے میں سوالات کا جواب دینا اساتذہ کے لئے بھی ممکن نہ تھا،نتیجے میں بابا نانک جی کو سکول سے ہی نکال دیا گیا،والد نے بچے کو کاروبار سے لگانے کی کوشش کی، بابا جی اس مقصد کے لئے پیسے لے کے قریبی علاقہ چوہڑ کانہ گئے،دیکھا قصبہ میں بہت سے لوگ بھوکے بیٹھے ہیں نانک جی نے والد کی طرف سے کاروبار کے لئے دئیے پیسے ان ضرورت مندوں میں تقسیم کر دیئے،خالی ہاتھ گھر لوٹے اور والد کو جب علم ہوا کہ بیٹا پیسے غریبوں میں بانٹ آیا ہے تو غصے میں آکر بچے کے چہرے پر زوردار تھپڑ رسید کر دیا اور کہا تمہیں سودا کرنے بھیجا تھا تم کیا کر آئے بیٹے نے کہا میں نے بھی سودا کیا ہے، مگر ”سچا سودا“اس واقعہ کی یاد میں سکھ برادری نے چوہڑ کانہ میں سچا سودا کے نام سے گورودوارہ تعمیر کر رکھاہے،جہاں دن رات مذہبی رسومات ادا کی جاتی ہیں۔

نانک جی کو اپنی بڑی بہن نانکی سے بہت محبت تھی اس کی شادی سلطان پور میں ہوئی تو نانک جی بہن کے ساتھ سلطان پور بھی رہے۔قبل ازیں والد نے اپنے ساتھ پٹوار کے کام میں لگا لیا، مگر وہاں بھی دل نہ لگا، باپ نے گائے بھینسیں چرانے کے کام پر بھی لگایا،اسی دوران ایک عجیب واقعہ تاریخ میں درج ہے،نانک جی گاؤں سے باہر مویشی چراتے ایک درخت کے نیچے سو رہے تھے،اسی دوران علاقہ کی اہم شخصیت رائے بلر کا ادھر سے گزر ہوا، دیکھا جس درخت کے نیچے نانک جی سو رہے ہیں اس کا سایہ ایک ہی جگہ تھما ہوا ہے،حیرت کے سمندر میں ابھی رائے بلر غوطہ زن تھا کہ دیکھا سایہ ہٹ گیا ہے، مگر ایک بڑے کوبرا سانپ نے آکر اپنا پھن پھیلا کر نانک جی پر سایہ کر دیا ہے،عقیدت مندوں نے اس جگہ مال جی صاحب کے نام سے ایک شاندار گورودوارہ تعمیر کیاہے،جبکہ شہر سے ڈیڑھ کلو میٹر دور جہاں نانک جی مویشی چرایا کرتے تھے یادگار کے طور پر کیارا صاحب کے نام سے گورو دوارہ قائم ہے،بابا جی حسن ابدال تشریف لے گئے وہاں ایک پہاڑ کے نیچے کھڑے تھے کہ دیکھا اوپر سے ایک بڑی چٹان لڑھکتی ہوئی نشیب میں قائم آبادی کی طرف آرہی ہے بابا جی لڑھکتی چٹان کے سامنے آکر کھڑے ہو گئے اور جب وہ قریب آئی تو اپنا ہاتھ آگے کر کے چٹان کو روک لیا،چٹان پر ان کے پنجہ کا نشان بن گیا، جس کی یاد میں اسی مقام پر پنجہ صاحب کے نام سے گورو دوارہ آج بھی قائم ہے۔

ایک اور واقعہ ہے کہ بابا جی 30سال کی عمر میں غسل کے لئے دریا میں گئے اور غائب ہو گئے کپڑے دریا کے کنارے پڑے رہے،علاقہ کے لوگوں نے دریا کو چھان مارا، مگر بابا جی نہ ملے،تین روز بعد بابا جی نمودار ہوئے،روائت ہے اس دوران ان کو کشف ہوا،انہیں ایک جگہ لے جایا گیا جہاں ایک پیالہ میں امرت پلایا گیا اور حکم ہوا یہ میرے نام کی برکت والا مشروب ہے اسے پیو اور ہر وقت خدا کا ذکر کرو،بابا جی واپس آکر خاموش رہے کسی سے بات نہ کی،بولے تو اتنا کہا کہ کوئی ہندو ہے نہ مسلم سب انسان ہیں،مجھے خدا کے نام کو جپنے اور اس کے نام کے پرچار کا حکم ہوا ہے،اور یہیں سے سکھ مذہب کی بنیاد پڑی،اسی واقعہ کی یاد میں سکھ قوم ہر گوردوارہ میں پانی کا تالاب بناتی ہے،جہاں گناہوں سے نجات کے لئے غسل کیا جاتا ہے۔

گورودوارہ جاتے ہوئے ہر کسی کو اس تالاب سے گزرنا ضروری ہوتا ہے کہ اس کے گناہ دھل جائیں،گرنتھ صاحب سکھ مذہب کی مقدس ترین کتاب ہے، جس میں بابا گورونانک سمیت چھ گورؤں کی تعلیمات شامل ہیں،گورو مکھی بابا جی کی سوانح حیات ہے، گورو نانک نے بھائی لہنا کو اپنا جانشین اور گورو مقرر کیا، اس کے کچھ ہی عرصہ بعد 22ستمبر1539ء میں کرتارپور کے مقام پر انتقال کر گئے۔ آج 70 سال بعد سکھ یاتریوں کو بابا گورو نانک کی جائے وفات پر حاضری اور مزار وسمادھی پر مذہبی رسومات ادا کرنے کا تاریخی موقع مل رہا ہے،جو سکھ برادری کے لئے ایک بہت ہی بڑا دن ہے۔ وزیراعظم پاکستان عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، سکھ قوم کی آنکھوں میں بسے دیرینہ خواب کو تعبیر دینے پر مبارکباد کے مستحق ہیں،سکھ قوم پاکستانی حکومت اور عوام کی یقینا شکر گزار ہو گی کہ ان کے پیشوا کی آخری آرام گاہ تک ان کی رسائی کو بھارت کی مخالفت کے باوجود ممکن بنایا گیا۔

مزید : رائے /کالم


loading...