فکر ِ اقبال ؒ

فکر ِ اقبال ؒ

  



علامہ اقبالؒ کا یہ کارنامہ ہے کہ انہوں نے مغربی فلسفہ ،مادرپدر آزاد تہذیب کے خلاف اعلان جنگ کیا،سب سے پہلے قدم اٹھانے کی جرا¿ت کی اور ملت اسلامیہ کو اس محاذ پر معرکہ آرائی کی رہنمائی دی،اس دور میںاسلام کو کھل کر اپنا دین کہنے کی عظیم مثال قائم کی،اقبال کی فکر ،ان کے توحید و رسالت پر مبنی فلسفہ ¿ خودی،فکر اور عشق حقیقی کے جذبات نے ایک ایسی فضا مہیا کی کہ جس میں اسلام کے آفاقی پیغام کو فروغ پانے کا موقع حاصل ہوا۔اسلامی فکر کے حامی افراد کو جرا¿ت اظہار اور اعتماد مہیا کر دیا۔

علامہ اقبالؒ کی فکر توحید اور عشق رسول اللہ سے جڑی ہوئی ہے انہوںنے اُمت محمدیہ کو یہ پیغام دینے کی مسلسل کوشش کی کہ اپنے آپ کو جانو اور پہچانو،اپنے آپ کو مایوسی اوریاسیت سے نکالو، اپنے آپ کو قائم کرو اور بحال کرو،اپنے آپ کو اللہ سے بغاوت کی فکر اورفلسفہ سے بچاو¿،اپنے آپ کو دوسروں سے منواو¿ اور اس سلسلہ میں جو بھی معرکہ لڑنا پڑے لڑنے کے لئے تیار رہو۔انہوں نے فکر دی کہ ہم نے اپنا وجود کھو دیا ہے اقدار ہمارا امتیاز ہیں،جس سے امتیازی وجود حیثیت پاتا ہے اس سے انحراف کرکے ذلت سے دوچار ہوئے۔اس لئے اپنے اعتقادات ،اپنے نظریات اپنے تاریخی تجربات،اپنے اصول و آئین ،اپنی روایات و اقدار،اپنا زاویہ¿ نظر،اپنے پیمانہ ہائے خیروشر،اپنی حدود حلال و حرام ،اپنے فنون لطیفہ کا مخصوص مزاج ، اپنی سیاسی ہیئت ،اپنا معاشی نظام عدل،اپنا تعلیمی نظام فکر،اپنا تصور ازواج و معاشرت اور اپنے معیار شرف کی طرف پلٹ کر عظمت رفتہ پا سکتے ہیں اس کی بازیافت کے لئے اقبال کا مشن اور جاندار فکر تھی،یہ ہی بازیافت اور فکر، پاکستان کی تشکیل اور دو قومی نظریہ کی بنیاد بن گئی۔

علامہ اقبالؒ آج اپنی زندہ فکر کی وجہ سے زندہ ہیں۔اقبال کا مقصود صرف اور صرف مخلص مسلمان یا جری و بہادر مرد مومن ہے،اقبال کی فکر اسلامی نظریاتی و تہذیبی پیغام کی علمبردار ہے۔ اقبال نے ترجیحاًنوجوانوں کو مخاطب کیا اور باور کرایا کہ قوم کو باکردار،اسلامی نظریہ پر پختگی سے قائم اور جمے ہوئے نوجوان ہی ملت اسلامیہ کی ضرورت ہیں۔ اقبال نے پوری علمی فکری طاقت سے، تمیز رنگ ونسل اور مغرب کی وطنی قومیت کے طلسم سے نکال کر صاحبانِ ایمان کو دنیا میں اُمت واحدہ بنانے کا مشن جاری رکھا۔اقبال نے ایسے مرد مومن کی فکر کی کہ تشکیل کی ملحدوں،اغیار پرستوں،غبار نفرت و عداوت کے مقابلہ میں بندہ¿ مومن خودی،غیرت وحمیت،فکر وعمل کا پیکر بن جائے۔اقبال نے عقیدہ ختم نبوت کے مسئلہ پر عمرانی نقطہ¿ نظر سے حکیمانہ بحث کرتے ہوئے آگاہ کیا کہ یہ اصولی عقیدہ ہے اور ملت اسلامیہ کے نظام دین پر نقب لگانے والے شیطانی عناصر کو للکارا،دلیل کی برہان سے انہیں بے نقاب کیا۔عشق ِ رسول اللہ اور ختم نبوت کے تحفظ کے لئے اقبال کی جدوجہد ان کے لئے توشہ آخرت ہے۔

علامہ اقبالؒ نے برصغیر کے مسلمانوں میں بالخصوص یہ فکر اجاگر کی اور اس کی آبیاری کی کہ ”قوموں کی حیات ان کے تخیل پر ہے موقوف“، یعنی قومیں فکر ونظریہ سے محروم ہوں تو انہیں تباہی سے کوئی نہیں بچا سکتا۔اقبال نے یہ باور کرایا کہ قرآن کریم اپنے نظریہ حق کا کرشمہ بتاتا ہے کہ وہ اپنے ماننے والوں کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لاتا ہے اس کے اثر سے دل ودماغ کی قوتیں جاگ اٹھتی ہیں جو یہ کام کرنے کے لئے تیار ہو جائے تو خیروشر کا شعور زندگی کو جگمگا دیتا ہے۔اور جو حق کا دامن چھوڑ دے اسے طاغوتی طاقتیں روشنی سے نکال کر تاریکیوں میں ڈال دیتی ہیں۔ان کے دل ودماغ سُن ہو جاتے ہیں ان کی بصیرت و بصارت ماری جاتی ہے،جن کے کان بہرے اور عملاً حیوانی کیفیات میں مبتلا ہو جاتے ہیں،علمی صلاحیت،سائنسی و تحقیقی مہارت،قوت اظہار کی بے پناہ صلاحیتوں کے باوجود حق سے ناآشنا راہ راست کھو بیٹھتی ہے اور انسانیت ودھرتی کے لئے بوجھ بن جاتی ہے۔اقبال نے یہ بھی پیغام دیا اور اپنی فکر کو آشکار کیا کہ نظریہ کی قوت پنہاں کا کمال یہ ہے کہ اپنے ماننے والوں کو جذبہ دیتا ہے کہ ڈرو نہیں،غم نہ کرو تم حق پر ہو تم نے ہی غلبہ پانا ہے۔ اللہ کی رحمت اور تائید ایسی طاقت ہے جو حزب اللہ کو غلبہ دیتی ہے۔اقبال نے یہ بھی حوصلہ دیا کہ تمہارے مقابلہ میں جو قوت ہے وہ نظریہ حق تک لے جانے والے شعورو تفکر سے بے بہرہ ہے اس کے مقابلہ میں حق سے جڑے گروہ تعداد میں قلیل بھی ہوں تو کثیر تعداد دشمنوں پر غلبہ پا لیتے ہیں۔

علامہ اقبال کی فکر صرف فلسفہ نہیں یقین محکم ہے،اس کی نگاہ میں محض فلسفیانہ قیاس،شاعرانہ خواب مطمئن نہیں کر سکتی زندگی میں معرکہ آرائی کے لئے زندہ عامل ناگزیر ہے۔اسلامی،نظریاتی،فکری کام کرنے والے کے لئے فکروتخیل کی بنیاد پختہ عقیدہ،محکم ایمان ہی ہے جو ثباتِ زندگی اور کشمکش ِ حیات کو قوت دیتا ہے۔اقبال نے کہا

یقین محکم،عمل پیہم، محبت فاتحِ عالم

جہادِ زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں

اقبال نے شمشیر برآں کو یقین محکم قرار دیا،انسانی تاریخ ،تمام علوم اور ہر طرح کے تمدن تعمیر ہی نہیں ہو سکتا اگر ایمان ویقین پر مبنی اعتقاد کی اساس مہیا نہ ہو اقبال نے کہا

دین ہو ،فلسفہ ہو،فقر ہو،سلطانی ہو

ہوتے ہیں پختہ عقائد کی بنا پر تعمیر

حرف اس قوم کا بے سوز،عمل زاروزبوں

ہوگیا پختہ عقائد سے تہی جس کا ضمیر

اقبال کے ہاں عقل و عشق کا سارا مضمون ہمیشہ اس مدعا تک لے جاتا ہے کہ نرے فلسفیانہ تصورات زندگی کا سرمایہ نہیں بن سکتے ،محکم نظریات اسی کے ہو سکتے ہیں،جو تحصیل ملکوتی اور جذبہ ہائے بلند کے دونوں عناصر اس کے امانت دار ہوں۔

علامہ اقبالؒ کا ابتدائی دور وہ ہے جب برطانوی سامراج برصغیر پر قابض تھا۔برصغیر کے عوام انگریز کی غلامی سے نجات کے لئے مضطرب تھے۔اقبال کے پیش نظر وہ جاری دور تھا کہ ہندو، ایمپریلزم انگریز کی سرپرستی میں پل بڑھ کر مسلمانوں کے لئے واضح خطرہ بن گیا تھا،اقبال نے بہت سے لوگوں سے بہت پہلے اس خطرہ عظیم کو اچھی طرح محسوس کر لیا جو مغربی مادہ پرست تہذیب کی شکل میں یلغار کرتا ہوا پیش رفت کر رہا تھا اس خوفناک بحران کے سامنے اقبال نے اپنی فکر کے ہتھیار نہیں ڈالے،محض ذاتی احساسات کی شاعری میں پناہ نہیں لی،بلکہ عین فن کے دائرے میں اس چیلنج کو قبول کیا اور اس کے ہر رنگ پر خوب خوب ضرب لگائی۔سامراج کے مقابلہ کے لئے قوم میں آزادی کا جذبہ موجزن کیا ،آزادی کے گیت گائے،ہندوا مپریلزم کا توڑ کرنے کے لئے وطنی قومیت کے بُت توڑے اور اسلامی تہذیبی قومیت کا تصور مسلمانوں میں پیدا کیا۔اقبال نے ایک انتہائی مشکل دور میں مسلمانوں کو سہارا دیاحریت فکر دی، شکست خوردگی،خود تحقیری کے غُلاف سے نکالنے کی کامیاب جدوجہد کی اور حریت ِ فکر کے بےشمار چراغ جلائے،روشن کردار اُجاگر کیے اور یہی فکر آزادی کے منزل کی طرف گامزن ہوئی

اندھیری شب ہے جدا اپنے قافلہ سے ہے تو

ترے لئے ہے میرا شعلہ نوا قندیل

علامہ اقبالؒ انسانوں میں تحریک پیدا کرتے اور بندہ مومن کی صورت میں جن بڑے چیلنجز کا سامنا تھا اس کے لئے ان کے پیش نظر مطلوب انسان ساری فکر کی بنیادی اکائی رہا،اقبال نے اپنے پیغام کو اسلامی عناصر کو غیر اسلامی عناصر کی آمیزشوں سے پاک کر کے نکھاراہے، جس سے پوری قوم اور ساری دُنیا مستفید ہوئی۔اقبال کی حقیقت ان کے کلام میں سمندر کی سطحی موجوں کے نیچے ایک خاموش طوفان انقلاب کی حیثیت میں موجود ہے۔اقبال کی فکر کا جائزہ ساحل سے نہیں لیا جا سکتا اس کے اندر اتر کر گہرائیوں میںہی روشنی ملتی ہے۔مومنانہ کردار ہی اقبال کا اصل ہدف ہے۔ زمانہ حاضر میں مادہ پرست فکر نے اپنی کوکھ سے جس نمونہ انسانیت کو جنم دیا ہے اقبال اس پر ضرب کلیم ہیں۔ چند الفاظ میں اقبال نے اتنا جامعہ تبصرہ کر دیا ہے کہ اس کی حقیقت کو سمجھنے میں کوئی دشواری نہیں آتی۔انسان کے حال پر یہ مصرع

عقل کو تابع فرمان نظر کر نہ سکا

اس سے آگے بڑھ کر پوری بات جان لینے کے لئے یہ پیغام بھی کیا خوب ہے۔

ڈھونڈے والا ستاروں کی گزرگاہوں کا

اپنے افکار کی دُنیا میں سفر کر نہ سکا

اپنی حکمت کے خم و پیچ میں الجھا ایسا

آج تک فیصلہ نفع و ضرر کر نہ سکا

علامہ اقبالؒ ،مادہ پرست اورمفاد پرست،حق سے ناآشنا تہذیب کے پیدا کردہ انسانوں کے مقابلے میں اسلامی فکر کے لئے ایسے مطلوب انسانوں کا نقشہ پیش کرتے ہیں، جس کے سانچے میں وہ اپنے نور نظر ”جاوید اقبال“ کو ڈھالنا چاہتے ہیں۔کلام اقبال سے یہ امر واضح اور عیاں ہے کہ اقبال کا انسان مطلوب پیدا کرنے کے لئے سب سے پہلے ایسی ماں کی گود مطلوب ہے جو اپنی لوریوں میں بچے کو جو پہلا سبق گھول کر پلا دے وہ لا الٰہ الا اللّٰہ کا سبق ہو۔ایک پاک باز ماں کی پاکیزہ گود ہی غلبہ اسلام اور انسانوں کو راہِ راست پر لانے کے لئے جری افرادپیدا کرتی ہے،یہ ماحول ایک تلوار کی حیثیت اختیار کر جاتا ہے،جو حق اور باطل کو خدا پرستی اور خدا ناشناسی کو اسلام اور جاہلیت کو، توحید اور شرک والحاد کو باہم منقطع کر دیتی ہے۔ اقبال اسی قندیل کی روشنی میں بندہ¿ مومن کو اپنے کارواں تک پہنچنے اور پھر بلند ترین منزل خودی کو پا لینے کی سعی کی جانب متوجہ کرتے ہیں۔اقبال عصر رواں میں اپنی فکر کے سبب ہر بڑے معرکے کے لئے ہر صاحب ِ دِل کو اور قریبی رابطے کی وجہ سے ملت کے ہر جوان کو پکارتا ہے کہ مادہ پرستی اور مادیت کے مقابلہ میں روحانیت اور خدا پرستی کے علمبردار بن جاو،اقبال کی فکر کی خوبیاں ہر فرد اور پوری قوم کے لئے مفید ہیں۔

فطرت کے مقاصد کی کرتا ہے نگہبانی

یا بندہ صحرائی یا مرد کوہستانی

شاعر مشرق،عظیم فلسفی،صاحب ایمان و حکمت شاعر علامہ اقبالؒ کا اہم موضوع افغانستان اور کشمیر بھی ہے۔افغانستان کی مرکزی حیثیت اقبال پر آشکار تھی وہ جانتے تھے کہ افغان بڑی قوم ہے۔ملک چھوٹا ہے لیکن ملک کا محل وقوع ایسا ہے کہ اس کے احوال کا مدوجزر پورے ایشیاءکو متاثر کرتا ہے جس کے اطراف میں ایران،پاکستان ،روس،بھارت اور چین ہے اس میں کوئی تزلزل آئے تو اس کا اثر ہر طرف پھیلے گا۔

از فسادِ او فسادِ آسیا

در کشادِ او کشاد آسیا

اقبالؒ کی گہری فکر جو آج حرف بہ حرف پیشین گوئی کی حیثیت سے پوری ہو رہی ہے،ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اردگرد کے چوطرفہ علاقوں کے لئے کابل میں کوئی ایسا سوئچ لگا ہوا ہے کہ اسے گھمائیں اور کشاد کے نقصان سے ہٹا کر فساد کے نقصان پر لے آئیں تو حالات ہر طرف بگڑ جاتے ہیں۔ افغانستان عالم اسلامی کا ایک اہم حصّہ اور اتحاد امت کی آواز کا سرچشمہ ہے۔افغانوں کی خودی، جرا¿ت،غیرت وحمیت نے مسلمانوں کی لاج پالی ہے اور استعماری قوتوں کے غرور، گھمنڈ اور ظلم کو ایمانی طاقت سے کند کیا ہے ان سازشوں کو مل کر شکست دینے کے لئے عالم اسلام کو متحد ہونا ہو گا۔ یہ ہی ذلت وخواری سے نجات کی راہ ہے۔اقبال کے نزدیک کسی بھی افغانی کی وطن سے محبت بے مثل ہے،افغانستان شاہین کی شکار کی جگہ ہے اور ہمیشہ سے پھولوں اور بلبل کے نغموں سے پاک رہا ہے۔یہ پیغام کہ غیرت مندفقر! یہ فیصلہ تونے کرنا ہے کہ تجھے استعمار کی ذہنی اور لباس کی غلامی چاہئے یا پھر اپنا پھٹا ہوا پیراہن!

اے مرے فقر غیور! فیصلہ تیرا ہے کیا

خلعت انگریز یا پیرہنِ چاک چاک

علامہ اقبالؒ بارگاہ خداوندی میں فریاد کرتے ہیں اے اللہ تو کب ان کشمیریوں پر ظلم کرنے والوں سے باز پرس کرے گا اور کب انہیں ان کے اعمال کا جوابدہ بنائے گا۔وادی کشمیر کی خوشحالی غلامی کی زنجیروں میں جکڑنے سے بدحالی کا شکار ہے۔

کسی بوڑھے کسان کی جھونپڑی کو دیکھ کر اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ آج کشمیری عوام کس کرب و بلا میں مبتلا ہیں۔عالمی اداروںاورعالمی قوتوں بالخصوص عالم اسلام کی بے حسی ہے کہ کشمیری لوگ ظلم،بربریت،جبر اور بدترین غلامی کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے ،بے بسی اور مفلسی کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ 1931ءسے غلامی مسلط کرنے کے لئے کشمیریوں پر،ظلم،جبر مسلط رکھنے اور انسانوں سے تمام بنیادی انسانی حقوق چھین لئے جاتے ہیں،آج کشمیر مظلومیت کی تصویر ہے،انسانی المیے رونما ہو رہے ہیں ،لیکن عالمی ضمیر مردہ ،بے حس اورجانبدار ہے۔اقبال فرماتے ہیں

آج وہ کشمیر ہے محکوم و مجبور و فقیر

کل جسے اہل نظر کہتے تھے ایرانِ صغیر

سینہ افلاک سے اٹھتی ہے وہ آہ سوزناک

مرد حق ہوتا ہے جب مرعوب سلطان وامیر

کہ رہا ہے داستاں بیداری ایام کی

کوہ کے دامن میں وہ غم خانہ دہقان و پیر

آہ یہ قوم نجیب وچرب دست وتردماغ ہے

ہے کہاں روز مکافات اے خدائے دیر گیر؟

اقبال یہ بھی حریت فکر،جدوجہد آزادی کے مجاہدوں کو پیغام دیتے ہیں کہ جب غلامی میں جکڑی قوم پر ان کے آقاو¿ں کا ظلم وستم تجاوز کر جاتا ہے تو پھر ان غلاموں کا خون جوش مارتا ہے اور ان کی آزادی کا جذبہ بیدار ہوتا ہے۔پھر ان کے اس جذبہ بیداری اور خون کے جوش کی بدولت ساری دنیا خوف سے کانپنے لگتی ہے اور انہیں دنیا کی کوئی طاقت آزادی حاصل کرنے سے نہیں روک سکتی۔

گرم ہو جاتا ہے جب محکوم قوموں کا لہو

تھرتھراتا ہے جہانِ چار سو رنگ و بو

مزید : ایڈیشن 1


loading...