”کرتارپور راہداری“ کا جذبہ

”کرتارپور راہداری“ کا جذبہ

  



پاکستان میں حزبِ اقتدار اور حزبِ اختلاف کے درمیان زور پکڑتی کشمکش، اسلام آباد میں مولانا فضل الرحمن کے ہزاروں کارکنوں کے جاری دھرنے اور مولانا کے لہجے میں بڑھتی ہوئی حدت کے دوران وزیراعظم عمران خان آج(9نومبر کو) کرتارپور راہداری کا افتتاح کریں گے۔ دُنیا بھر کے سکھوں کے لیے مفاہمت اور خیر سگالی کا یہ پیغام خطے کے حال اور مستقبل پر دور رس اثرات مرتب کرے گا۔توقع کی جا رہی ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے میں بھی اس سے مدد ملے گی،کہ سرحدی علاقوں کے بسنے والے جب ایک دوسرے کا ہاتھ تھامتے ہیں تو دور بیٹھ کر جنگی احکامات جاری کرنے والوں کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے ایک ٹویٹ میں اس بڑے منصوبے کی ایک سال کے اندر تکمیل پر اپنی حکومت کو دلی مبارک باد پیش کی ہے،سکھ مذہب کے بانی حضرت بابا گورو نانک جی کے550 ویں جنم دن کے موقع پر اسے ایک نئی تاریخ رقم کرنے کے مترادف قرار دیا ہے۔یاد رہے کہ دو ہزار پاکستانی انجینئروں اور مزدوروں نے دن رات کام کر کے ناممکن کو ممکن کر دکھایا ہے،وسعت کے اعتبار سے گوردوارہ کرتارپوردُنیا کا سب سے بڑا گوردوارہ بن گیا ہے۔پاکستان کو یہ اعزاز بھی حاصل ہو گیا ہے کہ سکھ مذہب کی سب سے بڑی عبادت گاہ کا یہ محافظ اور نگران ہے۔کرتارپور راہداری (پنجابی زبان میں لانگاہ یا لانگہ) بھارتی پنجاب میں واقع ڈیرہ بابا گورونانک صاحب کو کرتارپور میں واقع گوردوارہ دربار صاحب سے ملا دے گی، اور یاتری سرحد سے صرف 4.7 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع اس مقدس مقام تک ویزا کے بغیر آ سکیں گے۔

برطانوی راج کے خاتمے پر برصغیر کو دو حصوں میں تقسیم کر کے، دو مملکتوں کے قیام پر اتفاق ہوا، تو سرحدوں کے تعین کے لیے ایک ثالثی بورڈ تشکیل دیا گیا تھا،جس کے سربراہ ایک برطانوی قانون دان ریڈ کلف تھے۔ مسلم لیگ اور کانگرس کے ارکان کے درمیان اگر اتفاق ہو جاتا تو پھر چیئرمین کو اپنا فیصلہ نہ دینا پڑتا۔ایسا ممکن نہ ہو سکا تو ریڈ کلف نے من مانی کر ڈالی۔اب یہ بات ثابت ہو چکی ہے، حقائق کھل کر سامنے آ چکے ہیں کہ ریڈ کلف کو بھارت کے گورنر جنرل لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے کانگرسی رہنماؤں کی ایما پر زیر دام لا کر اس سے اپنی مرضی کا فیصلہ کرا لیا۔اس کے نتیجے میں کشمیر کا مسئلہ پیدا کر دیا گیا، اور اس کے ساتھ ہی پنجاب میں خون کے دریا بہہ نکلے۔برسوں کیا صدیوں سے ساتھ رہنے والے ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہو گئے۔لاکھوں افراد مار ڈالے گئے انہیں ترکِ وطن پر مجبور کیا گیا،ان کے اموال اور عزتیں لوٹ لی گئیں۔اس قتل و غارت اور لوٹ مار کی کہانیاں آج بھی رونگٹے کھڑے کر دیتی ہیں،اور یقین نہیں آ پاتا کہ انسان اس طرح کی درندگی کے مظاہرے بھی کر سکتا ہے۔

تحریک آزادی کے دوران جب مسلمانوں کی طرف سے تقسیم کا مطالبہ شروع کیا گیا،تو عام خیال یہی تھا کہ مسلم اور غیر مسلم اکثریتی صوبے الگ الگ وحدتوں میں ڈھل جائیں گے لیکن جب بات فیصلہ کن مرحلے تک پہنچی تو مسلم اکثریت کے دو بڑے صوبوں ……پنجاب اور بنگال…… کی تقسیم کا سوال کھڑا کر دیا گیا۔مسلم لیگ کی قیادت کی خواہشات کے برعکس دونوں صوبوں کے غیر مسلم ارکان اسمبلی نے تقسیم کے حق میں فیصلہ دیا، اور نئی سرحدی لکیروں کی تخلیق لازم ہو گئی۔پنجاب کی سکھ قیادت کے ساتھ اگر مسلم لیگ کا سمجھوتہ ہو جاتا تو پنجاب ایک وحدت کے طور پر قائم رہ سکتا تھا۔ایسا ہوتا تو تاریخ بہت مختلف ہوتی۔ سکھوں کے مقدس مقامات پاکستانی پنجاب کا حصہ بن گئے، اور یوں تقسیم کے موقع پر درست حکمت عملی نہ اپنانے کی وجہ سے وہ مذہبی اور نفسیاتی طور پر محرومی کا شکار ہو کر رہ گئے۔

قیام پاکستان کو سات عشرے گذر چکے،پرانے زخم مندمل نہ بھی ہوئے ہوں تو نئے زخموں نے انہیں بھلا دینے پر مجبور ضرور کر دیا ہے۔ سکھ کمیونٹی کو بھارت میں جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، اور امرتسر کے گولڈن ٹمپل پر جس طرح چڑھائی کی گئی اس نے اپنے اثرات مرتب کیے۔پاکستانی قوم جس میں چند ہزار سکھ بھی شامل ہیں، اب نئی دُنیا تعمیر کرنے میں لگی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سرحد کے بالکل قریب واقع گوردوارہ کرتارپور تک پہنچنے کے لیے بھارت سے آنے والے یاتریوں کو اذنِ عام دے دیا گیا ہے۔ ویزا کی پابندیوں سے آزاد وہ یہاں آ سکیں گے، اور وہاں ماتھا ٹھیک سکیں جہاں ان کے مذہب کے بانی نے زندگی کے آخری اٹھارہ سال گذارے۔یہیں ان کی روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی، اور یہیں ان کی باقیات دفن ہیں۔

بتایا جا رہا ہے کہ روزانہ پانچ ہزار افراد یہاں آ سکیں گے،جنہیں انتظامیہ کی طرف سے مفت لنگر فراہم کیا جائے گا۔ داخلہ فیس صرف20ڈالر ہو گی،لیکن افتتاح کے موقع پر کوئی فیس نہیں لی جائے گی،وزیراعظم عمران خان نے یہ اعلان تک کر دیا ہے کہ محدود مدت کے لیے یاتری پاسپورٹ کے بغیر آ سکیں گے،صرف اپنا شناختی کارڈ دکھا کر۔اس حوالے سے سوالات بھی کھڑے کئے گئے ہیں، جن کا جواب حکومت کی طرف سے ابھی تک نہیں آیا۔کئی سیاسی رہنماؤں نے پاسپورٹ کی پابندی سے استثنیٰ دینے پر اعتراض کیا ہے، ان کا اصرار ہے کہ بہرصورت پاسپورٹ کے حاملین ہی کو راہداری پر قدم رکھنے کی اجازت ملنی چاہیے۔بہرحال یہ ایک ثانوی معاملہ ہے، جسے بآسانی حل کیا جا سکتا ہے۔اس راہداری کی تعمیر کا خواب آزادی کے بعد کئی بار دیکھا گیا۔وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی جب وزیراعظم نواز شریف کے دورِ ثانی میں دوستی بس کے ذریعے لاہور آئے تھے تو اس دوران دونوں رہنماؤں نے اِس تجویز سے اتفاق کیا تھا۔اس سے پہلے بھی اس آرزو کا اظہار ہوتا رہا، لیکن عملاً یہ کارنامہ وزیراعظم عمران خان کے ہاتھوں انجام پایا۔یہ کہنا بھی لازم ہے کہ اگر جنرل قمر جاوید باجوہ کی نگاہِ دور رس نہ ہوتی تو یہ منصوبہ خواب ہی رہتا۔ان کی معاونت(یا سرپرستی یا تحریک) میسر نہ آتی تو خواب کا خواب جانے کب تک تعبیر کی تلاش میں رہتا، اس حوالے سے انہیں خراجِ تحسین پیش کرنا بھی لازم ہے۔

اگر یہ عرض کر دیا جائے تو نامناسب نہیں ہو گا کہ محبت،یگانگت اور خیر سگالی کا کچھ نہ کچھ مظاہرہ اپوزیشن کے ساتھ بھی اگر کر گذرا جائے تو اس میں بھی کوئی مضائقہ نہیں ہو گا،یہی توقع اپوزیشن سے بھی کی جا ئے گی کہ وہ بھی حکومت سے مفاہمت کو اپنی اَنا کا مسئلہ نہ بنائے۔مومن کو اپنوں کے لیے بھی تو نرم ہونا چاہئے۔”ہو حلقہ ئ یاراں تو ابر ریشم کی طرح نرم“…… ریشم نہیں تو کاٹن ہی کی طرح گداز ہو جایے…… کرتارپور راہداری کا جذبہ صرف سکھوں تک محدود کیوں؟

مزید : رائے /اداریہ


loading...