دھرنے کا مستقبل

دھرنے کا مستقبل
دھرنے کا مستقبل

  



کوئی کچھ بھی کہے،مگر گزشتہ چند روز سے مو لانا فضل الرحمان کی سیاست نے پورے ملک میں ایک طرح کی ہلچل پیدا کر دی ہے۔ابھی کل کی بات تھی کہ عمران خان اور تحریک انصاف کے لیڈر مو لانا فضل الرحمان کو سیاست کا 12 واں کھلا ڑی قرار دے کر ان کا مذاق اڑاتے تھے۔ عمران خان اپنے جلسے، جلوسوں میں مو لانا کے لئے ”مولانا ڈیزل“ کی اصطلاح استعمال کر تے۔اب 31اکتوبر کے مارچ کے بعد پی ٹی آئی کے کئی ہاکس (عقاب)لیڈرزاور وزراء بھی اپنے بیانا ت اور ٹی وی ٹاک شوز میں اس با ت کا اعتراف کر رہے ہیں کہ مو لانا نے اس مارچ کے ذریعے اپنی سیاسی حیثیت کو منوایا ہے۔کئی غیر جانبدار اور با خبر صحافتی ذرا ئع یہ بھی بتا تے ہیں کہ 31اکتوبر سے پہلے پنجاب حکومت کا منصوبہ یہ تھا کہ مولانا کو سندھ سے پنجاب کی سرحد میں داخل ہوتے ہی گرفتار کر لیا جا ئے گا،مگر کراچی سے لانگ ما رچ ،پنجاب میں داخل ہونے سے پہلے جب حکومت کو اپنی انٹیلی جنس کی مدد سے یہ اطلا عات ملیں کہ اس مارچ میں 30ہزار سے زائد لو گ شامل ہیں، لہٰذا مولانا یا جمعیت علمائے اسلام (ف)کے لیڈروں کو اس مو قع پر گر فتار کرنے سے تصادم یا خون خرابے کا خدشہ ہو گا۔حکومت نے مو لانا کے دھرنے کو پنجاب میں روکنے کی کوشش نہیں کی، البتہ خیبر پختونخوا کے کئی علاقوں سے ایسی اطلا عات ضرور آئیں کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے کارکنوں کو روکنے کی کوشش کی گئی،تاہم مو لانا ہزاروں کی تعداد میں اپنے حامیوں کو اسلام آباد لانے میں کامیا ب رہے۔

۔جہاں تک مولانا کے مطالبات کا تعلق ہے تو ظاہر ہے کہ مولانا فضل الرحمان جیسا گھا گ سیاستدان یہ بات اچھی سے جانتا ہے کہ دھرنوں اور لانگ ما رچ سے وزراعظم استعفیٰ نہیں دیتے۔اگر31اکتوبر سے پہلے مولانا فضل الرحمان اور جمعیت علمائے اسلام (ف)کے بیانات کو دیکھا جا ئے تو واضح طور پر ایسا دکھا ئی دے رہا تھا کہ مو لانا جہاں سندھ کی حد تک پیپلزپارٹی کی حمایت پر انحصا ر کر رہے تھے۔ وہیں دوسری طرف وہ پنجاب میں مسلم لیگ(ن) کی حمایت پر تکیہ کر رہے تھے۔ مو لانا فضل الرحمان یہ سمجھ رہے تھے کہ پنجاب،خاص طور پر وسطی، مغربی اور شمالی پنجاب میں مسلم لیگ(ن)، مولانا کے آزادی ما رچ کی بھر پور حمایت کرے گی اور ان علاقوں سے مسلم لیگ(ن) کے کارکن بھی جوق در جوق اس مارچ کا حصہ بنتے جائیں گے۔یوں اسلام آباد پہنچے تک یہ مارچ ایک بہت بڑا ما رچ بن جائے گا۔

31اکتوبرسے پہلے جب مو لانا اور ان کے ساتھیوں سے یہ پو چھا جا تا کہ آپ مسلم لیگ (ن) سے اتنے پُر امید کیوں ہیں تو مولانا اور ان کے ساتھی یہ جواب دیتے کہ مسلم لیگ (ن) نواز شریف کے خط پر عمل کرتے ہوئے ان کو مارچ میں بھر پور حمایت دے گی۔ مو لانا اس سارے معاملے میں مسلم لیگ (ن) کی اندرونی صورت حال کو نظر انداز کر رہے تھے۔ نواز شریف اور مریم نواز کا بھلے ہی مو قف یہ ہو کہ مسلم لیگ(ن) کو مولانا کے آزادی ما رچ کی بھرپور حمایت کرنی ہے،مگر مسلم لیگ(ن) کے قومی اسمبلی کے 80سے زیا دہ ارکان کی واضح اکثریت شہباز شریف کے مفا ہمتی موقف کی حا می ہے۔مسلم لیگ (ن) کے ایم این ایز کی اکثریت جولائی 2018ء کے انتخابات میں اپنے دم پرکامیاب ہو کر قومی اسمبلی میں پہنچی ہے اور ان ایم این ایز کی اکثر یت رانا ثنا اللہ اور شاہد خاقان عباسی کے ساتھ رونما ہونے والے واقعات سے بھی بہت کچھ سیکھ چکی ہے، اس لئے مسلم لیگ (ن) ایم این ایز کی اکثریت شہبا ز شریف کی مفاہمتی سوچ کی ہی حامی دکھائی دیتی ہے۔نواز شریف اپنے علاج کے لئے بیرون ملک جاتے ہیں یا نہیں؟ اور اگر با ہر جائیں گے تو کیا مریم نواز ان کے ساتھ باہر جائیں گی؟ اگر مریم نواز پا کستان میں ہی رہتی ہیں تو کیا وہ اسی طرح کی مزاحمتی سیاست کریں گی جیسی انہوں نے نواز شریف کی نا اہلی کے بعد کی؟

مسلم لیگ (ن) کی اندرونی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے واقفان حال کے مطابق اب مریم نواز نہ تو شہباز شریف کی طرح مکمل طور پر مفا ہمت کی سیاست کریں گی اور نہ ہی بھرپور مزاحمتی بیانیہ اختیار کریں گی،بلکہ وہ معتدل سیاست کا راستہ اپنائیں گی۔اس سب سے مسلم لیگ (ن) کی سیاست کس حد تک متا ثر ہوگی، یہ بھی جلد ہی واضح ہو جائے گا۔مولانا فضل الرحمان شاید یہ سمجھ رہے ہوں کہ ان کے آزادی مارچ سے مسلم لیگ (ن) کے اندر مزاحمتی دھڑا غالب ہو جائے گا، مگر ایسا نہیں ہوا۔ اب تو اخبارات اور نیوز چینلوں میں بھی ایسی رپورٹیں پیش کی جا چکی ہیں، جن میں بتایا گیا ہے کہ شہباز شریف مسلم لیگ (ن) کے پا رٹی اجلاسوں میں ایسے مسلم لیگیوں پر سخت تنقید کر رہے ہیں کہ جو مولانا کے اس آزادی ما رچ میں مسلم لیگ (ن) کی بھر پور شمولیت کے حامی ہیں۔اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ اگر اپوزیشن جماعتیں واقعی اتحاد کا مظاہرہ کرتیں تو پی ٹی آئی کی حکومت کو بہت زیادہ ٹف ٹائم دیا جا سکتا تھا۔جولائی 2018ء کے انتخابات کو دیکھا جائے تو الیکشن کمیشن کے اعداد وشمار کے مطابق پی ٹی آئی اور حکومتی اتحاد نے چار کروڑ ایک لاکھ سے زائد ووٹ لیے تو دوسری طرف اپوزیشن جما عتوں نے چار کروڑ 66لاکھ سے زائد ووٹ حاصل کئے۔یوں پی ٹی آئی کی اپوزیشن جماعتوں کو حکومتی اتحاد سے 65 لاکھ ووٹ زیا دہ ملے۔

اپوزیشن جما عتیں اگر چاہتیں تو آئین اور قانون کی حد کے اندررہتے ہوئے پی ٹی آئی کی حکومت کو شروع سے ہی ٹف ٹائم دے سکتی تھیں، مگر اس حوالے سے اپوزیشن جماعتیں اپنے اپنے محدود مفادات کے تحفظ میں ہی لگی ہیں۔ خاص طور پر مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پا رٹی جیسی بڑی جما عتیں حکومت کے خلاف کوئی واضح موقف اپنانے میں زیادہ کامیاب نہیں ہوئیں۔ اسی طرح اگر قومی اسمبلی میں دیکھا جائے تو مسلم لیگ (ن) کے پاس 84،پیپلز پارٹی کے پاس 55اور ایم ایم اے کے پاس 16 نشستیں ہیں۔ اگر اپوزیشن کی ان جماعتوں کو واقعی اس بات کا یقین تھا کہ 2018ء کے انتخابات میں بد ترین دھاندلی ہوئی ہے تو پھر اسمبلی سے استعفوں کا آپشن استعمال کر کے ایک طرح سے آئینی احتجاج ریکارڈ کر وایا جا سکتا تھا۔ قومی اسمبلی کی کل 342 نشستوں میں سے 150 نشستیں خالی ہونے سے حکومت کے لئے اچھی خاصی مشکلات کھڑ ی کی جا سکتی تھیں۔اسی طرح اب 31 اکتوبر کے بعد مو لانا فضل الرحمان کے لانگ ما رچ میں کوئی واضح اور ٹھوس پوزیشن لینے سے بھی حکومت کو ٹف ٹائم دیا جا سکتا تھا۔اب آخر میں دھرنے کے حوالے سے انتہائی بنیادی سوال کہ مو لانا کے اس دھرنے کا کیا کوئی اثر ہوا؟جیسا کہ اس کالم کے آغاز میں لکھا جا چکا ہے کہ مو لانا کو بھی اس بات کا اچھی طرح سے اندازہ ہو گاکہ ان کے اس مارچ سے عمران خان مستعفی نہیں ہوں گے اور نہ ہی فوری طور پر انتخابات ہوں گے، تاہم اس سب کے با وجود اس دھرنے نے پی ٹی آئی کی حکومت کو ایک سبق ضرور دیا ہے اور وہ سبق ہے سیاسی قوت کی اہمیت کا۔

2014ء میں جب پی ٹی آئی نے اسلام آباد میں دھرنا دیا، اس دھرنے کے دوران جس طرح کی زبان استعمال کی گئی، جس طرح کی نعرے بازی کی گئی، جس طرح قومی عمارتوں پر قبضہ کرنے کی ڈیڈ لائن دی گئی۔ اس کو دیکھ کر اس وقت کے کئی غیر جانبدار دانشوروں نے یہ سوال اٹھائے کہ پی ٹی آئی جو1996ء میں وجود میں آئی ہے، اگر وہ اپنے سیاسی مقاصد کے لئے ان انتہا وں تک چلی گئی ہے تو ذرا سوچیں کہ اگر ایسی سیاسی جماعتیں جن کی جڑیں ان علاقوں میں قیام پاکستان سے بھی پرانی ہیں،اگر یہ بھی اپنے مقاصد کے لئے دھرنوں کی سیاست پر اتر آئیں تو پھر کیا ہو گا؟2014ء میں عمران خان اور پی ٹی آئی کے راہنما یہ دعویٰ کرتے رہے کہ پاکستان میں کو ئی بھی سیاسی جما عت اس قابل نہیں ہے کہ وہ اسلام آباد میں اتنا بڑا دھرنا دے پائے۔ یہ بات واضح ہے کہ مولانا فضل الرحمان دھرنا ختم کرنے کے لئے کسی قسم کا سیاسی جواز تلاش کریں گے،مگر اس دھرنے سے کم از کم پی ٹی آئی کو یہ ضرور معلوم ہو گیا ہو گا کہ پاکستان میں سیاسی عمل ابھی اتنا کمزور نہیں ہوا کہ آمرانہ روش اور رویے کو کسی بھی صورت میں چیلنج ہی نہ کر سکے۔

مزید : رائے /کالم


loading...