پارلیمانی روایات سے کام لیں!

پارلیمانی روایات سے کام لیں!
پارلیمانی روایات سے کام لیں!

  



اسلام آباد میں پشاور موڑ پر جمعیت علمائے اسلام (ف) کے کارکنوں پر مشتمل دھرنا ابھی جاری ہے اور اطمینان کی بات یہ ہے کہ اتنے روز گذر جانے کے بعد بھی کسی قسم کا کوئی ناخوشگوار واقع پیش نہیں آیا، مظاہرین جن میں اے این پی کے حضرات بھی شامل ہیں، منظم اور پُرامن ہیں تو مقامی انتظامیہ یا وزارتِ داخلہ کی طرف سے بھی ایسا کوئی کام نہیں کیا گیا،جس سے حالات میں کوئی تلخی پیدا ہو۔ یوں یہ دھرنا کامیابی سے آگے بڑھ رہا ہے اور حالات سے ظاہر ہوتا ہے کہ چودھری برادران کی کوشش بارآور ہوئی تو شاید اتوار کو سیرۃ رسولؐ پر تقاریر کے بعد یہ حضرات واپسی کا رُخ کر ہی لیں کہ اب تک جو کچھ سامنے آیا اس سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ خود کپتان نے بھی اپنے رویے میں لچک پیدا کی ہے،

کیونکہ پرویز الٰہی کے بقول وزیراعظم نے نہ صرف پارلیمانی کمیٹی کو مضبوط بنانے والی بات تسلیم کر لی،بلکہ وہ انتخابی دھاندلی کے حوالے سے جوڈیشل کمیشن کے قیام پر بھی آمادہ ہیں،چودھری پرویز الٰہی کی امید اور توقع کو اس سے بھی تقویت ملتی ہے کہ وزیراعظم نے قومی اسمبلی کے سپیکر اسد قیصر کو بھی شامل کیا اور اجازت دی ہے کہ وہ مفاہمت کے لئے ایسے نکات تیار کرائیں جو آئین و قانون کے دائرہ میں قابل ِ عمل ہوں،اسی دوران یہ بھی خبر ہے کہ سپیکر کی طرف سے آصف علی زرداری، سید خورشید شاہ اور خواجہ سعد رفیق کے پروڈکشن آرڈر جاری کر دیئے گئے ہیں کہ قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہو گیا ہے، تاہم ابھی شاہد خاقان عباسی اور رانا ثناء اللہ کے پروڈکشن آرڈر جاری نہیں ہوئے،اس کا انتظار ہے۔

ان تمام حالات اور بعض خصوصی ذرائع کی توقع سے تو یہی ظاہر ہوتا ہے کہ افہام و تفہیم کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو سکتا ہے اور یہ ملک میں ضروری سیاسی استحکام کا سبب بن سکتا ہے،ایسے اشارے بھی ہیں کہ فیصلہ کن ذرائع بھی اب اس سلسلے کو پُرامن اور بقاء باہمی کے اصول کے مطابق ختم ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں،جہاں تک مولانا فضل الرحمن کا تعلق ہے تو بلاشبہ وہ اپنے مطالبات پر قائم ہیں اور استعفے کا مطالبہ کرتے چلے جا رہے ہیں،لیکن قرآئن و شواہد اور تاریخ سیاست گواہ ہے کہ اس طرح استعفے ہوتے نہیں ہیں،اور اگر حکمران جمہوری اصولوں کو مان کر اپنے ”جارحانہ“ اور یکطرفہ رویے کی اصطلاح پر آمادہ ہو جاتے ہیں تو یہ بہت بڑا منافع ہو گا،کیونکہ جمہوریت اور خصوصاً پارلیمانی جمہوریت میں پارلیمینٹ ہی بڑا فورم ہے،جس پر یہ فیصلہ ممکن ہے بشرطیکہ ایک دوسرے کو صحیح معنوں میں برداشت کیا جائے، جہاں تک اسمبلی میں شور یا ہنگامے کا سوال ہے تو یہ معمول کی بات ہے،ہم نے تو اپنی پارلیمانی رپورٹنگ کے دور میں اگر بعض مرتبہ معمولی بات پر ہنگامہ دیکھا تو یہ بھی رپورٹ کیا ہوا ہے کہ اسمبلی میں نہایت سنجیدگی سے مسائل پر باقاعدہ دلائل کے ساتھ بحث ہوئی۔ اگر قومی اور پنجاب اسمبلی ہی کی لائبریری میں پرانا ریکارڈ دیکھ لیا جائے تو متعدد قانونی اور آئینی مسائل پر بہترین قسم کی رولنگز بھی مل جائیں گی اور پھر اگر ایوان کا خوشگوار ماحول دیکھنا ہو تو مغربی پاکستان اسمبلی کا ریکارڈ دیکھ لیں،جب یہاں مشاعرے بھی ہوتے تھے۔یوں بھی جمہوری روایات پروان چڑھیں تو اچھا پارلیمینٹر ین بننے کے بہت مواقع ہوتے ہیں،تھوڑا پیچھے جھانکیں تو آپ کو حاجی سیف اللہ(مرحوم) یاد آ جائیں گے، جو صوبائی اسمبلی ہی سے قومی ایوان تک پہنچے تھے اور پھر سابق وزیراعظم محمد خان جونیجو(مرحوم) کو بھی یاد کیا جا سکتا ہے،جو دورِ ایوبی میں بھی وزیر رہے تھے اور وزیراعظم بنے اور اس حیثیت میں بھی ایک ریکارڈ بنایا،آج بھی ان کو یاد کیا جاتا ہے۔

معاملہ خراب ہی محترم وزیراعظم کے غیر لچکدار رویے اور تحریک انصاف کے حضرات کی طرف سے دشنام کی حد تک اپوزیشن کو رگیدنے کی وجہ سے ہوا،حالانکہ اگر ذرا بھی بہتر طریقے سے سوچتے تو واضح اکثریت نہ ہونے کے بعد بیساکھیوں کے سہارے بنی،حکومت اتنی مضبوط نہیں ہوتی کہ آپ پارلیمانی نظام میں صدارتی طرز کے اختیارات استعمال کرنے کی کوشش کریں۔اگر پارلیمانی اصولوں کے مطابق چلا جاتا اور تنقید مہذب انداز میں ہوتی تو اتنی شدید محاذ آرائی نہ بنتی،خود محترم وزیراعظم کو بھی اعتراف کرنا چاہئے کہ اب وہ جس منصب پر ہیں وہاں چور چور اور ڈاکو ڈاکو کی گردان کی ضرورت نہیں،مانا وہ کرپشن کا خاتمہ چاہتے ہیں، اس حوالے سے نیب والے تو اپنا کام کہیں بڑھ کر کر رہے ہیں، تو پھرتیلی کے سر پر کولہو مارنے والا شعر ضرور سنانا ہے، پھر بات یہیں تک نہیں، حکومتی وزرا ایک دوسرے سے بڑھ کر مخالفین کی توہین کرنا اپنا اخلاقی فرض سمجھتے ہیں،شاید وہ ”باس“ کوخوش کرنے کے فارمولے پر عمل پیرا ہیں۔

کپتان کو غور کرنا چاہئے کہ ان کی اپنی اکثریت نہیں اور یوں وہ اپنی حد تک بھی ”الیکٹ ایبلز“ کے سہارے پر ہیں، یہ حضرات جس اشارے پر آئے اس کی سرد مہری دیکھتے ہی واپسی کا فیصلہ بھی کر لیتے ہیں اور ایم کیو ایم کی تو تاریخ بھری پڑی ہے، جب تک مفاد رہا،ساتھ ورنہ غائب، اِس لئے بہتری اسی میں ہے کہ اب محاذ آرائی کو جمہوری اصولوں کی طرف پلٹ دیا جائے اور ملک کے اندر سیاسی استحکام پیدا کیا جائے،جہاں تک مولانا فضل الرحمن کے لئے یہ طعنہ ہے کہ وہ پہلی بار اسمبلی میں نہ ہونے کا بدلہ لے رہے ہیں،درست نہیں کہ انہوں نے مواقع ہونے کے باوجود ضمنی الیکشن میں حصہ نہیں لیا تھا۔ورنہ کسی اور نشست پر بھی جیت کر آ سکتے تھے انہوں نے تو پہلے ہی روز سے نتائج مسترد کر دیئے تھے اور نئے انتخابات کا مطالبہ کر دیا تھا۔ حکمرانی نعمت ہے تو اسے زحمت نہ بنائیں کہ ”ایک پیج“ والی اصطلاح میں کچھ تبدیلی بھی ہو سکتی ہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ مولانا نے کئی مقاصد حاصل کر لئے، ان کو اب ایسی بھینس کی ضرورت ہے،جس کی دم پکڑ کر واپس حویلی میں جا سکیں۔

مزید : رائے /کالم


loading...