کرتارپور راہداری کا افتتاح: مشتری ہشیار باش!

کرتارپور راہداری کا افتتاح: مشتری ہشیار باش!
کرتارپور راہداری کا افتتاح: مشتری ہشیار باش!

  



آج کرتارپور راہداری کا افتتاح ہو رہا ہے۔ اس کا کریڈٹ وزیراعظم عمران خان اور ان کی حکومت کو جاتا ہے۔ دنیا بھر کے سکھوں کے لئے یہ ایک عظیم دن ہے۔ پاکستان کے لئے بھی یہ دن ایک سنہری موقع (Opportunity) ہے لیکن ساتھ ہی ایک بڑا رسک (Risk) بھی ہے۔

کرتارپور کا محل وقوع دیکھئے۔……

اس کی تفصیل میڈیا پر آ چکی ہے لہٰذا مجھے اس کو دہرانے کی ضرورت نہیں۔ میں البتہ ان خدشات کا اظہار کرنا چاہتا ہوں جو میرے دل و دماغ میں اٹھ رہے ہیں۔ قیام پاکستان سے لے کر اب تک ہماری تین نسلیں جوان ہو چکی ہیں۔ میرا تعلق چونکہ پہلی نسل سے ہے اس لئے مجھے وہ ایام یاد آ رہے ہیں جب میں 5،6 برس کا بچہ تھا اور پاکستان بن رہا تھا۔ میرے شہر پاک پتن کے مسلمان باسیوں کو ہنوز خبر نہ تھی کہ یہ شہر انڈیا کو ملے گا یا پاکستان میں شامل ہو گا۔ شہر میں ہندوؤں اور مسلمانوں کی تعداد شائد یکساں تھی اور سکھ بھی کافی تعداد میں موجود تھے۔ ہمارا گھر جس محلے میں واقع تھا اس میں صرف 5،7گھر ہی مسلمانوں کے تھے اور باقی درجنوں ہندوؤں اور سکھوں کے تھے۔ سکھ، ہندوؤں کے مقابلے میں زیادہ بیدار مغز قوم تھی اور مسلمان تو خیر سے نِرے گاؤدی تھے۔ کالم کی چونکہ Spaceکم ہے اس لئے وہ تفصیل نہیں لکھتا جو میرے محلے کے سکھوں نے گلیوں کو بڑے بڑے آہنی گیٹ لگا کر بند کر دینے کی پلاننگ کے سلسلے میں کر رکھی تھی……

.

یہ شائد اوائل اگست 1947ء کی بات ہے۔والد صاحب گھر آئے تو وارننگ سنائی کہ آئندہ 24گھنٹوں میں سکھوں کا ایک جتھا پاک پتن پر حملہ کرنے والا ہے اور یہ سکھ چک بیدی اور دیپالپور کی طرف سے آ رہے ہیں۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے ہمارے خاندان کے چھ سات گھرانے ہمارے گھر میں اکٹھے ہو گئے تھے۔ والد صاحب چونکہ خاندان میں سب سے بڑے (Elder) تھے اس لئے انہوں نے ہمارے گھر میں جمع ہونے والی خواتین کو اکٹھا کرکے ایک مختصر تقریر کی اور اپنے چھوٹے بھائی محمد امیر خان کو حکم دیا کہ اگر سکھ جتھا ہمارے گھر پر حملہ آور ہو تو گھر کی عورتوں کو قتل کر دیا جائے…… یہ ایک لرزہ خیز حکم تھا لیکن مجھے حرف بحرف یاد ہے۔ یہ کہہ کر وہ خود دوسرے مسلمان مرد حضرات کے ہمراہ پاک پتن۔

منٹگمری روڈ پر سکھوں سے مقابلے کے لئے نکل گئے۔ وہ سب کے سب مسلح تھے۔ تاہم شام پڑی تو وہ واپس آئے اور کہا کہ خطرہ ٹل گیا ہے۔ سکھوں نے اپنا ارادہ بدل دیا ہے۔

پھر14اگست کو پاکستان ایک حقیقت بن گیا۔ مجھے یہ بھی یاد ہے کہ محلے کے سارے ہندو اور سکھ گھرانے وسط جون 1947ء میں نقل مکانی کرکے بھارت چلے گئے تھے اور محلے کی گلیاں سنسان ہو گئی تھیں۔ یہ سارے مناظر آج یاد آ رہے ہیں تو معلوم ہوتا ہے جیسے کل کی بات ہو۔ اس کے بعد بھارتی پنجاب سے مسلمان پناہ گزینوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہوا اور رفتہ رفتہ میرے محلے کے متروکہ مکانات آباد ہونے شروع ہو گئے۔ ان کے مکینوں کے لڑکے میرے دوست بن گئے۔ وہ بتایا کرتے تھے کہ امرتسر، فیروزپور، جالندھرا، ترن تارن، پٹی، ہبور، فاضلکا اور مکتسر وغیرہ سے آنے والے مسلمانوں پر راستے میں کیا گزری اور سکھ جتھوں نے ان کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ میری عمر کے لوگ آج بھی ان ایام کو یاد کریں گے تو میری درجِ بالا باتوں اور واقعات کی توثیق کریں گے۔

چلئے…… ان باتوں کو چھوڑتے ہیں …… گزشت آنچہ گزشت!

وقتے کہ رفت، رفت مکن یادِ او دگر

زیرا کہ تازہ کر دنِ غم، کارِ خوب نیست

آج کرتارپور راہداری کھولی جا رہی ہے۔ بادی النظر میں آج کا دن ماضی کی تلخیوں کو بھلانے کا دن ہے، ایک نئے دورکے آغاز کا دن ہے۔ لیکن مجھے رہ رہ کر سکھوں کی تاریخ یاد آ رہی ہے۔ بابا گورونانک جی کا دور، عظیم مغل خاندان کے بانی ظہیر الدین بابر کا دور تھا۔ بابر نے 1526ء میں پانی پت کی پہلی لڑائی میں ابراہیم لودھی کو شکست دی۔ اس وقت بابا گورونانک جی زندہ تھےّ اسی کرتارپور کے گاؤں میں بابا جی نے 18برس تک قیام کیا اور ان کا انتقال بھی یہیں ہوا۔ یہ گورو دوارہ 8برس کی مدت میں 1929ء میں مہاراجہ پٹیالہ بھوپندر سنگھ کے ہاتھوں پایہ ء تکمیل کو پہنچا۔ آج تقریباً ایک صدی (90برس) بعد نہ صرف اس کی تزئینِ نو کی گئی ہے بلکہ اس کی وسعت کا عالم یہ ہے کہ یہ گورودوارہ جو پہلے صرف 42ایکڑ میں تھا، آج 420ایکڑ میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ اور اس کے ساتھ جو عمارتیں ہیں ان کی تفصیلات جو میڈیا پر آ رہی ہیں، حیران کن ہیں!

اس گورودوارہ کے درشن کو 5ہزار سکھ یاتری روزانہ آیا کریں گے۔ سکھوں کی آبادی اب صرف انڈیا میں نہیں، ساری دنیا میں پھیل چکی ہے اور وہ ایک طاقتور طبقہ ء آبادی بن چکے ہیں۔ لیکن میں قارئین کو 1947ء سے پہلے کے دور میں لے جانا چاہتا ہوں۔ سکھ قوم مغل دور کے ساڑھے تین سو برسوں کے دورِ اقتدار (1526ء تا 1857ء) میں مغلوں کے ساتھ برسرِ پیکار رہی۔ سکھوں کا مہاراجہ رنجیت سنگھ (1780ء تا 1839ء) تقریباً 39برس تک اپنی قائم کی گئی سکھ ایمپائر پر قابض رہا۔ لاہور اس کا پایہ ء تخت تھا۔ اس کی سلطنت دریائے ستلج سے لے کر دریائے کابل (افغانستان) تک پھیلی ہوئی تھی۔1839ء میں اس کے انتقال کے بعد اس کے جانشین نااہل ثابت ہوئے اور صرف 6،7 برس میں سکھ ایمپائر کا شیرازہ بکھر گیا۔ 1846ء میں فرسٹ سکھ وار میں سبراؤں (دریائے ستلج کے کنارے ایک گاؤں کا نام) کے مقام پر ایسٹ انڈیا کمپنی نے خالصہ فوج کو شکست فاش دی اور لاہور پر قبضہ کر لیا۔

انگریز کی دور اندیشی کی داد دیجئے کہ اس نے خالصہ فوج کے شکست خوردہ سرداروں کو اپنی فوج میں بھرتی کر لیا اور باقاعدہ ایک سکھ رجمنٹ قائم کی۔ اسی سکھ رجمنٹ نے 1857ء کی جنگ آزادی میں مغلوں کے خلاف شمالی ہند (لاہور، مردان، پشاور وغیرہ) سے آکر دہلی کی مسلمان فوج کو شکست دی اور اس طرح برٹش آرمی کو فتح یاب کروایا۔ سکھ دور کی تاریخِ شمالی ہند کا مطالعہ بڑا عبرت انگیز ہے۔ سکھوں کے 40سالہ دور میں مسلمانوں کی مساجد اور خانقاہوں پر جو گزری وہ قرطبہ، اشبیلیہ اور الحمراء کی مساجد پر بھی نہ گزری۔ لاہور کی بادشاہی مسجد کا صحن مہاراجہ رنجیت سنگھ کے اصطبل کے طور پر استعمال ہوتا رہا۔ یہ تو خدا انگریزوں کا بھلا کرے کہ انہوں نے 1846ء میں لاہور پر قبضہ کرنے کے بعد سکھوں کے مسلمانوں پر جور و استبداد کا خاتمہ کیا۔

لیکن اسی دور میں انگریزوں نے کشمیر کو ایک سکھ (ڈوگرہ) سردار کے ہاتھ فروخت کر دیا۔ یہ ڈوگرہ راج صرف جموں اور کشمیر تک نہیں بلکہ شمال میں لداخ اور مغرب میں بونجی، سکردو، گلگت، نگر، ہنزہ اور چترال تک پھیلا ہوا تھا۔ بہت کم پاکستانیوں کو معلوم ہے کہ 14اگست 1947ء سے لے کر 30اکتوبر 1947ء تک یہ شمالی علاقہ جات مہاراجہ کشمیر کے گورنر گھنسارا سنگھ کے زیرِ حکمرانی رہے اور یکم نومبر 1947ء کو پاکستان میں شامل ہوئے!…… 1846ء سے لے کر 1947ء تک ان شمالی علاقوں کے مسلمانوں پر ڈوگرہ حکام نے جو مظالم ڈھائے ان کی داستانیں بڑی لرزہ خیز اور سبق آموز ہیں۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ہم پاکستانیوں کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ سکھ اور ڈوگرہ حکمرانوں کا دور برصغیر کے ان حصوں میں مسلم آبادی پر جبر و جور کا ایک طویل دور تھا۔ یہ اثرات قیام پاکستان کے بعد بھی ویسے ہی ”تر و تازہ“ رہے جیسے اگست 1947ء میں تھے۔

قارئین اب تقسیمِ برصغیر کے ان واقعات و حالات کا جائزہ بھی لیں جو 3جون 1947ء کے بعد قیامِ پاک و ہند پر منتج ہوئے۔ یہ وہ دور تھا جب پنجاب کے سکھ، برٹش حکومت سے ایک الگ مملکت کے قیام کا مطالبہ کررہے تھے۔ سکھوں کا استدلال تھا کہ انگریزوں نے پنجاب اور شمال مغربی ہند کا علاقہ کہ جہاں مسلمانوں کی اکثریت تھی، سکھوں سے چھینا تھا۔ اس لئے متحدہ ہندوستان کو تین حصوں (بھارت، پاکستان اور خالصتان) میں تقسیم کیا جائے۔ لیکن سرکار برطانیہ نے سکھوں کا یہ مطالبہ تسلیم نہ کیا اور سکھوں کو یہ آپشن دی کہ وہ اگر چاہیں تو پاکستان سے مل جائیں اور چاہیں تو بھارت کے ساتھ الحاق کر لیں …… سکھوں نے بھارت کے ساتھ ملنے کا فیصلہ کیا!…… یہ فیصلہ سکھوں نے کیوں کیا اس پر بہت سا تاریخی مواد موجود ہے جو اس کالم میں نہیں سمویا جا سکتا۔یہ تو سکھوں کی آنکھیں اس وقت کھلیں جب 1984ء میں اندرا گاندھی نے سکھوں کے انتہائی متبرک مقام، دربارصاحب امرتسر پر حملہ (آپریشن بلیو سٹار) کر دیا۔ دنیا بھر کے سکھ، انڈیا کے اس اقدام پر سیخ پا ہوئے لیکن بے حساب کشت و خون کے بعد بھی انڈیا نے خالصتان کی تحریک کو اپنے ہاں پنپنے نہ دیا۔ یہ تحریک آج بھی زندہ ہے اور کینیڈا اور باقی دنیا میں اس کے انڈیا مخالف مظاہرے آج بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔

آج بھی سکھوں کی ایک بڑی تعداد انڈیا کی افواجِ ثلاثہ (آرمی، نیوی، ائر فورس) میں شامل ہے۔ ایک اندازے کے مطابق 20فیصد انڈین فوج، سکھوں پر مشتمل ہے۔ انڈین آرمی میں جتنے سکھ جرنیل اور دوسرے جونیئر کمیشنڈ اور نان کمیشنڈ سکھ آفیسر پائے جاتے ہیں، ان کی تعداد انڈین فوج کی دوسری غیر سکھ اقوام سے زیادہ ہے……

میرا پہلا اندیشہ اس کرتارپور راہداری کے کھلنے پر یہ ہے کہ انڈین فوج میں سکھوں کی یہ تعداد پرو پاکستان نہیں ہو سکتی۔ بالفاظ دیگر یہ تعداد اینٹی پاکستان ہے۔ بی جے پی کی حکومت چاہے گی کہ وہ اس راہداری کو پاکستان کے خلاف استعمال کرے۔ ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ آج بھی لائن آف کنٹرول پر رہنے والے کئی مسلمان انڈین ایجنٹ ہیں۔یہ لوگ ڈبل کراس کہلاتے ہیں۔ یعنی دونوں اطراف کی جاسوسی کرتے ہیں۔ پاکستان آرمی کو ان تمام تفصیلات کا بخوبی علم ہے۔ شائد یہی وجہ ہے کہ جنرل آصف غفور کو یہ کہنا پڑا کہ جو سکھ یاتری کرتار پور آئیں گے ان کی نقل و حرکت کی حدود مقرر اور متعین کر دی گئی ہیں اور ان کو ”ایک انچ“ بھی اِدھر اُدھر جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ یہ خبریں بھی ہیں کہ پاکستان نے حال ہی میں نارووال، شکر گڑھ اور سیالکوٹ میں سیکیورٹی سٹاف کی تعداد میں اضافہ کر دیا ہے۔ ان کو تفصیلی بریفنگ دی جا رہی ہے کہ کرتارپور راہداری کے کھلنے سے ان کی ذمہ داریوں میں کتنا بڑا اور کتنا اہم اضافہ ہو جائے گا۔

یہ حقیقت لوہے پر لکیر ہے کہ انڈیا ان 5ہزار روزانہ یاتریوں میں اپنے ایسے ایجنٹ بھی شامل کرکے کرتارپور بھیجے گا جو ان پاکستانی سرحدی علاقوں کی تفصیلی ریکی اور سروے لینس میں مدد دیں گے۔ کل کلاں اگر انڈیا اور پاکستان کی جنگ ہوتی ہے تو یہ علاقہ گھمسان کی لڑائیوں کی آما جگاہ بننے کی ساری ”کوالی فیکشنز“ رکھتا ہے۔ اور جیسا کہ عسکری مقولہ ہے کہ دشمن کے بارے میں مصدقہ اطلاعات کا حصول اور ان کی موجودگی نصف جنگ جیتنے کے مترادف ہوتی ہے۔ چنانچہ پاکستانی سیکیورٹی اداروں پر ذمہ داری کا یہ اضافی بوجھ آن پڑا ہے کہ وہ اس راہداری کی نگہداری کو سب سے زیادہ اہمیت دیں۔

کرتارپور راہداری کا ایک پہلو اور بھی شائد حکومت کے مدنظر ہو گا جو یہ ہے کہ جس طرح پاکستان نے سکھوں کو ان کے مذہبی مقامات کی زیارتوں کی اجازت دے رکھی ہے، اسی طرح انڈیا بھی پاکستانیوں کو انڈیا میں موجود مسلم اولیائے کرام کی درگاہوں کی زیارتوں کی اجازت دے۔ حضرت نظام الدین اولیا (دہلی)، حضرت علاؤ الدین علی احمد صابر (کلیر شریف) اور حضرت خواجہ معین الدین چشتی (اجمیر شریف)کے مزارات کو وزٹ کرنے کی اجازت بھی انڈیا کو بہ طیبِ خاطر دینی چاہیے اور پاکستانی زائرین کی بھی ایک بڑی تعداد کو ان ہندوستانی شہروں کا رخ کرنا چاہیے تاکہ ”حساب برابر“ ہو سکے۔ایسے ہی مزارات مقبوضہ کشمیر میں بھی ہیں۔ ان کی زیارت کا اہتمام بھی پاکستانیوں کو کرنا چاہیے۔

اگر انڈیا ان کی اجازت نہ بھی دے تو دنیا میں اس کی رسوائی تو ایک لازمی حقیقت بن جائے گی۔ جب دنیا دیکھے گی کہ پاکستان ہندوستانی سکھوں کو تو اپنے ہاں آنے اور مقدس مقامات کی زیارتیں کرنے کی اجازت دے رہا ہے لیکن انڈیا پاکستان کے مسلمانوں کو بھارت میں آنے کا انکار کر رہا ہے تو انڈیا کا یہ انکار انڈیا کی سکھ برادری کو اپنی حکومت سے دور لے جانے کا سبب بن سکتا ہے۔

الغرض پاکستان کو کرتارپور راہداری کے کھولنے پر تین باتوں کا از بس دھیان رکھنا چاہیے…… ایک سکھوں کی گزشتہ تاریخ…… دوسری انڈین آرمڈ فورسز میں سکھوں کی تعداد اور ان پر اپنی حکومت کی پاکستان دشمن پالیسیوں کے اتباع کی مجبوری اور …… تیسری سکھ یاتریوں کے بھیس میں پاکستان کی زمینی، مذہبی، ثقافتی، سیاسی اور عسکری ریکی اور سروے لینس کے امکانات!

مزید : رائے /کالم


loading...