الیکٹرانک میڈیا ساکھ بچاپائے گا؟

الیکٹرانک میڈیا ساکھ بچاپائے گا؟
الیکٹرانک میڈیا ساکھ بچاپائے گا؟

  



مولانا فضل الرحمٰن کہتے ہیں کہ وزیر اعظم کو مستعفی ہوجانا چاہئے اور نئے انتخابات کا اعلان کیا جائے۔ ان کے مطابق وزیر اعظم جعلی انتخابات کے نتیجے میں اپنے عہدے پر متمکن ہوئے ہیں، وہ الیکٹڈ نہیں سلیکٹڈ بلکہ ریجکٹڈ ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مولانا کے اپنی پارٹی کے لوگوں نے اسی پارلیمنٹ کا حلف اٹھا رکھا ہے جسے وہ جعلی قرار دیتے ہیں، وہ خود صدر ڈاکٹر عارف علوی کے مقابلے میں صدر پاکستان کا انتخاب لڑ کر ہار چکے ہیں۔ یعنی مسترد ہونے کے بعد مولانا اور ان کے حواری وزیر اعظم کے لئے سلیکٹڈ اور ریجکٹڈ کی اصطلاحیں گھڑ کر عوام میں چورن بیچ رہے ہیں اور خوب بیچ رہے ہیں۔

مولانا فضل الرحمٰن اسٹیبلشمنٹ پر حکمران جماعت کے لئے انتخابات میں دھاندلی کا الزام بھی لگا رہے ہیں۔ یہ درست ہے کہ اپوزیشن پارٹیوں نے عین انتخابات کے دن اسٹیبلشمنٹ کے کردار پر تنقید کی تھی اور پریس کانفرنسوں کا اہتمام کیا تھا لیکن تب میڈیا ان کی رام کتھا سننے کا روادار نہ تھا۔ اگر تب میڈیا نے ان کی ہاہا کار سنی ہوتی تو آج مولانا فضل الرحمٰن کے لوگوں، بالخصوص مفتی کفایت اللہ سے، کھری کھری نہ سن رہے ہوتے۔ تب تو میڈیا کی ڈی ایس این جیز بنی گالا کی طرف فراٹے بھرتی نظر آرہی تھیں، حالانکہ اپوزیشن پکار پکار کر کہہ رہی تھی کہ انہیں فارم 45نہیں مل رہا ہے اور الیکشن کمیشن کا آرٹی ایس سسٹم بیٹھ چکا ہے۔

مولانا فضل الرحمٰن کی پارٹی کے لوگوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے جمہوریت کے وسیع تر مفاد میں پارلیمنٹ کے اراکین کا حلف اٹھایا تھا۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ انہوں نے پارلیمنٹ کو جوائن نہ کرنے کا کہا تھا لیکن دیگر اپوزیشن پارٹیاں اس پر راضی نہیں ہوئی تھیں۔ ان کا یہ الزام بھی ہے کہ حکومت اسرائیل کو تسلیم کرنے اور آئین سے اسلامی دفعات کے خاتمے کا پروگرام بھی بنائے بیٹھی ہے۔

اپوزیشن کی دیگر جماعتیں اس بات پر بھی مصر ہیں کہ وہ ایک سال بعد حکومت کے خاتمے کا مطالبہ اس لئے کر رہی ہیں کہ حکومت ڈیلیور کرنے میں ناکام رہی ہے اور عام آدمی مہنگائی، بے روزگاری اور ٹیکسوں کی بھرمار سے عاجز آچکی ہے۔ اس لئے اب حکومت کو اقتدار میں رہنے کا کوئی حق نہیں ہے کیونکہ وہ ایک سلیکٹڈ حکومت ہے اور منظم دھاندلی کے نتیجے میں معرض وجود میں آئی ہے، لیکن اپوزیشن ایک جانب تو انتخابات سے لے کر ہر عہدے کے لئے مقابلہ کرتی نظر آتی ہے اور دوسری جانب پارلیمنٹ کو جعلی قرار دے رہی ہے۔ جہاں تک مہنگائی، بے روزگاری اور ٹیکسوں کی بھرمار کا تعلق ہے تو حکومت کو یہ مینڈیٹ حاصل ہے کہ وہ پانچ سال کے اندر ان منفی عوامل پر قابو پالے اور پانچ سال بعد اپنے آپ کو عوام کے سامنے محاسبہ کے لئے پیش کردے۔ اپوزیشن اس کو اپنے ووٹ بینک کی طاقت پر اقتدار سے باہر نہیں کرسکتی ہے۔ آئین وزیرا عظم کے ہٹانے کا ایک طریقہ کار بتاتا ہے جس کو اپوزیشن کو اختیار کرنا چاہئے۔

اپوزیشن کی دو بڑی جماعتوں کا ایک اور مدعا یہ بھی ہے کہ چونکہ عام آدمی حکومت کی بیڈ گورنینس سے تنگ آچکا ہے اس لئے یہ اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ عام آدمی کی آواز بنے اور حکومت کے خلاف اس کے تحفظات کا احتجاج اور دھرنے کی شکل میں اظہار کرے۔ وگرنہ لوگ قانون کو اپنے ہاتھ میں لے لیں گے اور ملک میں انارکی پھیل جائے گی۔ اس کا مطلب ہے کہ جمعیت علمائے اسلام کا حکومت کے حوالے سے جو نقطہ نظر ہے، نون لیگ اور پیپلزپارٹی کا عین وہی نقطہ نظر نہیں ہے۔ جمعیت علمائے اسلام مہنگائی، بے روزگاری اور ٹیکسوں کی وجہ سے عوام کی بدحالی پر اس قدر نالاں نہیں ہے جس قدر انتخابات کے تقدس اور اسٹیبلشمنٹ کے کردار سے ہے۔ تاہم یہ بات دلچسپ ہے کہ اپوزیشن کی نو جماعتیں اسٹیبلشمنٹ کے حوالے سے 2014ء میں جو موقف رکھتی تھیں، آج بھی وہی موقف رکھتی ہیں جبکہ پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ ان کے حوالے سے جو رائے تب رکھتے تھے، آج بھی وہی رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن کے آزادی مارچ کے آئیڈیے نے نواز شریف کے ووٹ کو عزت دو کے نعرے سے جنم لیا ہے۔ عام آدمی کا غم و غصہ پہلے ووٹ کو عزت دو کی شکل میں تھا، اب آزادی مارچ کی شکل میں ہے۔ حکومت کی نااہلی سونے پر سہاگے کا کام کر رہی ہے۔

ہمارے نزدیک اس وقت اسٹیبلشمنٹ مشکل میں ہے اور نہ ہی سیاسی جماعتیں ہیں بلکہ اگر کوئی ہے تو پاکستان کا الیکٹرانک میڈیا ہے جس نے منوں کے حساب سے ٹاک شوز کرکرکے عوام کو وہ سیاسی شعوردے دیا ہے جو آج حالات کا جبر بن کر اسٹیبلشمنٹ کے سامنے آکھڑا ہوا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ الیکٹرانک میڈیا اور اسٹیبلشمنٹ ساکھ بچاپائیں گے یا نہیں؟

مزید : رائے /کالم


loading...